مظفرآباد
آزادکشمیر کے انتخابات ایک دن آگے پیچھے نہیں جاسکتے، فاروق حیدر
مظفرآباد:سابق وزیراعظم آزادکشمیر و پارلیمانی لیڈر مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیرمیں انتخابات ایک دن آگے نہیں جاسکتے 25 جولائی کو موجودہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے پر ازخود تحلیل تصور ہو گی،آئینی معاملات میں تاخیر نہیں کی جاسکتی،چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے ہمارے دور میں لائی گئی آئینی ترامیم میں اپوزیشن کو بھی مشاورتی عمل کا حصہ بنایا گیا اور پورا الیکشن کمیشن بنایاگیا تاکہ آزادانہ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے، آزادکشمیر کو آئینی،انتظامی،مالیاتی امور میں خود مختاری اور میرٹ پر حقدار کو حق دلانے کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کی حکومت کا تھا ہے اور رہے گا،ہماری حکومت نے جو کام کیے اس کے ثمرات آج سب سمیٹ رہے ہیں،آزادکشمیر کے انتظامی ڈھانچے کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بہتر بنانے کی ضرورت ہے بدقسمتی سے اس کے پھیلاؤ کے حقیقی ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے ہمارے پانچ سالہ دور میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کی طویل المدتی پالیسی کے تحت سیاسی ضروریات پر سمجھوتہ کرتے ہوئے قومی و عوامی ضروریات پر مشتمل پالیسی سازی کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کے مشکل فیصلے کیے گئے،یہ ٹیم ورک تھا جس کی گواہی اقوام متحدہ نے بھی دی کہ ہماری حکومت اس وقت کی بہترین حکومت تھی،اپنی رہا ئش گاہ پر مسلم لیگ ن کے کارکنان سے گفتگو کرتے ہوے راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن انتخابات کے لیے بھرپور تیاریاں کررہی ہے آزادکشمیر کے ہر حلقے میں جماعت کے کارکنان اس وقت کام کررہے ہیں ہم نے اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنا ہے جماعت کی کامیابی سب کی کامیابی ہے اس کے لیے سب کو محنت کرنا ہوگی دیگر سیاسی جماعتیں ابھی اپنی انتخابی حکمت عملی بھی تشکیل نہیں دے سکیں راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ آئین میں اس اسمبلی کی مدت کا تعین ہے جس میں اضافہ ممکن نہیں آئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے موجودہ حکومت صرف ایک ووٹ پر قائم ہے انتخابی عمل جمہوریت کا حسن ہے اس کی شفافیت اور غیر جانبداری ضروری ہے انتخابات میں التوا کی باتیں غیر حقیقت پسندانہ ہیں الیکشن ہی تمام مسائل کا حل ہوتے ہیں یہ نظام آئین کے تحت چلتا ہے جس کے تحت یہ اسمبلی اور سارا سیٹ اپ قائم ہے اس میں واضح طور پر درج ہے کہ اسمبلی اپنی مدت کے اختتام پر از خود تحلیل تصور ہوگی چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی ایک آئینی عمل ہے امید ہے کہ وہ جلد پائیہ تکمیل تک پہنچے گا ہم نے تیرہویں ترمیم کے ذریعے پورا کمیشن قائم کیا جبکہ اس سے قبل صرف چیئرمین کشمیر کونسل اپنی مرضی سے اس کی تعیناتی کرتے تھے اب اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم ملکر اپنے نام چیئرمین کشمیر کونسل و وزیراعظم پاکستان کو بھیجیں گے جو انہی میں سے کسی ایک کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرینگے۔





