مظفرآباد
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی 14ویں روز بھی گھرگھر تلاشی کی کارروائی
جموں (کے پی آئی) مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے ضلع کشتواڑ میں جاری محاصرے اور تلاشی کی کارروائی میں مزید تیزی لائی ہے۔ فوجی آپریشن ہفتہ کو 14ویں روز میں داخل ہو گیا۔ آپریشن میں بھارتی فوج، پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فوروس اور سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ بھارتی فورسز نے یہ آپریشن روراں ماہ کی 18تاریخ کو ضلع کشتواڑ کے چھاترو بیلٹ میں شروع کیا تھا۔ آپریشن کے دوران سنگھ پورہ، چنگام اور دیگر علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کی گئی ہیں۔ انٹرنیت کی معطلی کا مقصد لوگوں کو فوجی آپریشن اور کشمیریوں کو درپیش تکالیف کے بارے میں سوشل میڈیا پر خبریں اپ لوڈ کرنے سے روکنا ہے۔ بھارتی فورسز نے ڈوڈہ، ادھمپور، پونچھ اور کٹھوعہ اضلاع کے کئی علاقوں میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔دریں اثناء مقبوضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی پولیس کی طرف سے مساجد کی پرفائلنگ اور بھارتی شہروں میں کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میر واعظ نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں مساجد، آئمہ کرام اور انتظامی کمیٹیوں کے بارے میں بلاجواز معلومات طلب کی جا رہی ہیں جو ایک انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔انہوں نے کہا یہ بے جا عمل فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔میرواعظِ محمد عمر فاروق نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں کے دوران ہر یانہ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور دیگر بھارتی ریاستو ں میں کشمیری طلباء اور تاجروں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات تسلسل کے ساتھ سامنے آئے ہیں جو کشمیریوں کے تئیں دشمنی کے پریشان کن رحجان کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سردیوں کے مہینوں میں ہزاروں کشمیری محنت کش روزی کمانے کے لیے مختلف بھارتی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں جن کے ساتھ بہیمانہ برتاؤ انکے اہلخانہ کیلئے نہایت اضطراب کا باعث ہے۔ میرواعظ نے حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور جموں و کشمیر سے باہر مقیم کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔میرواعظ نے کہا کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ دہلی کے دوران جمعیت علمائے ہند کے مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی سمیت معروف مسلم قائدین اور علما،سے ملاقات کی اور انہیں کشمیر کی تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ میرواعظ نے مزید کہا کہ متحدہ مجلس علماء(ایم ایم یو) جلد ہی ایک اجلاس بلائے گی جس میں مساجد کی پروفائلنگ اور بھارتی شہروں میں کشمیریوں کو درپیش مشکلات کے معاملے پر غور و خوض کیا جا ئے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ مذموم عمل بند نہ کیا گیا تو اجتماعی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔





