بیرسٹر سلطان محمود صاحب کی وفات۔۔۔۔۔۔نئے صدر کا انتخاب

آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات ایک ایسے سیاسی عہد کا اختتام ہے جس میں سیاست، قانون اور قومی مؤقف ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ وہ ان چند رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے سیاسی اقتدار کو قومی اور آئینی ذمہ داری سمجھا۔ ان کا امتیاز ان کا خاندانی پس منظر، یورپ کے ماحول میں پرورش اور تعلیم تھا، جس نے انہیں جذباتی نعروں، وقتی فیصلوں سطحی سیاست سے ممتاز رکھا۔ وہ اختلاف کرتے تھے تو دلیل کے ساتھ، اور مؤقف اپناتے تھے تو آئین کی حدود میں۔ آزاد کشمیر کے برادری ازم کی وبا میں ان کی برادری نے ان سے بھر پور تعاون کیا لیکن سرکاری زمہ داریوں کی ادائیگی میں بیرسٹر صاحب نے برادری نوازی کو نزدیک نہیں آنے دیا – مخالف سیاسی لیڈروں کی عزت نفس اور مخالف سیاسی کار کنوں کو اپنے کار کنوں سے کم نہیں سمجھا – زندگی بھر ان پر اقتدار کی خاطر سیاسی جما عتیں بدلنے کا الزام لگتا رہا لیکن انہوں اپنی وضع قطع نہیں بدلی نہ کبھی نئی جماعت کا رنگ روپ اپنے اوپر چڑھنے دیا – وہ جس جماعت کے پلیٹ فارم سے اسمبلی یا دیگر آئینی زمہ داریوں پر بر انجماں ہوئے اپنی اوصاف اور اوقات نہیں بدلی – مسئلہ کشمیر پر ان کی جدوجہد محض جذباتی خطابت تک محدود نہ تھی بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں ایک سنجیدہ اور مسلسل وکالت تھی۔ ان کی آواز میں شور نہیں، وزن تھا—اور یہی وزن انہیں بہت سے ہم عصر سیاست دانوں سے مختلف بناتا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود نے ہمیشہ اداروں کے استحکام، آئینی تسلسل اور سیاسی شائستگی پر زور دیا۔ وہ جانتے تھے کہ وقتی مقبولیت تاریخ میں مقام کی ضمانت نہیں بنتی۔ ان کا سیاسی انداز تحمل، بردباری اور اصول پسندی کی مثال تھا، جو آج کے تلخ اور منقسم سیاسی ماحول میں نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی وفات سے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو محض عہدوں سے نہیں بلکہ کردار، فہمِ قانون اور سیاسی وقار سے پُر ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ان کی جگہ کون لے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہماری سیاست دوبارہ دلیل، آئین اور شائستگی کی طرف لوٹنے کو تیار ہے؟ مجھے آزاد کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے دوبار ان سے واسط پڑا – یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کی کلاسز تو چل رہیں تھیں لیکن کمپیوٹر لیبارٹری نہیں تھی – یہ بات میں نے ان کے نوٹس لاء تو انہوں نے فوری طور معقول رقم فراہم کی – ایک دفعہ ان کا ایک عزیز ایک درخواست لے کے میرے پاس آیا جس پر انہوں نے لکھا تھا کہ درخواست گذار کو وزیر اعظم کے کوٹہ سی میرپور الیکٹریکل انجیئنئیرنگ میں داخلہ دیا جائے – میں اس بر خوردار سے تو معزرت کی کہ اس قسم کا کوء کوٹہ نہیں اور اگر ہورا بھی تو اس کے لئے مقابلے کے ا متحان میں میرٹ پر آنے کی صورت میں ہی ایسا ہو سکتا ہے – اگلے دن میں نے ان کو فون کر کے اس کی شکایت کی تو انہوں نے کہا آپ نے بہت اچھا کیا بلکہ تھپڑ بھی مارنا چاھئے تھا – میرے خیال میں بعد میں ُ انہوں نے تعلیم کے لئے اس جوان بیرون ملک بھیج دیا –
اپنے ہم عصر بڑے سیاسی ورکرس میں بیرسٹر سلطان محمود سب سے زیادہ وضع دار،، با مروت اور با وقار انسان تھے- ان کی شائستگی، عاجزی اور انکساری ان کا طرہ امتیاز رہا – اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے – آمین
نئے صدر کا انتخاب: آئین کی دفعہ 8 کے تحت اگر صد ا رت کا عہدہ کسی وجہ سے عارضی طور خالی ہوجائے تو اس عرصہ کے لئے اسمبلی کے سپیکر قائمقام صدر کے طور فرائض دیتے ہیں — یہ آئینی تقاضا ہے لہذا ایسا ہی ہو سکتا ہے اور کوء صورت نہیں ہے – تاہم ناگزیر حالات میں اگر مقررہ مدت میں مستقل صدر کا انتخاب عمل میں نہ آ سکے بل کہ مدت گذرنے کے بعد عمل میں آتا ہے تو اس کو آئین کی دفعہ A56کے تحت غیر آئینی نہیں سمجھا جائے گا – لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس دفعہ کی بنیاد پر یہ عمل روکا بھی جا سکتا ہے – یہ دفعہ الیکشن کو روکنے کا جواز فراہم نہیں کرتا- اگر صدر کی وفات یا استعفی سے عئدہ خالی ہو جاتا ئے تو وہ قائمقام صدر ہو نگے اور آئین کی دفعہ 9 کے تحت سپیکر کی زمہ داری ہے کہ وہ تیس دن کے اندر صدر کا انتخاب کرائیں – اگر اسمبلی تحلیل شدہ ہو تو اس کے وجود میں آنے کے تیس دن کے اندر ایسا کرنا لازمی ہے – صدر کا انتخاب چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عمل میں لایا جاتا ہے جس کی تقرری ایک سال گذرنے کے باوجود عمل میں نہیں آ سکی ہے – سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا ایسے حالات میں منتخب ہونے والا صدر پانچ سال کی آئینی مدت کے لئے ہوگا یا اسمبلی کی بقیۂ مدت کے لئے؟ آئینی صورت حال تو واضع ہے کہ اگر اسمبلی وجود میں ہو تو اس نے تیس دن کے اندر انتخاب عمل لانا ہے اور یہ انتخاب پانچ کے لئے ہوگا – اس بات میں کوء جواز نہیں کہ اسمبلی اپنی مدت بھی ختم کررہی ہے اور ایک بار صدر منتخب بھی کر چکی ہے اس لئے نئے صدر کا انتخاب صرف اس مدت تک ہوگا جب تک نئی اسمبلی وجود میں نہیں آتی – اسمبلی صدر کے الیکشن کے لئے الیکٹورل کالج ہے بھلے اس کی عمر پانچ سال ہے یا اس سے کم رہ گء ہے – اس کی کلا سیکل مثال نوئمبر 1988 میں پاکستان کی قومی اور صوباء اسمبلیوں کے انتخاب کے بعد صدر پاکستان کے لئے اسحاق خان کا پانچ سال کے لئے انتخاب ہوا تھا جس نے ان اسمبلیوں کو 1990 میں تحلیل کردیا اور نئی اسمبلیاں اکتوبر 1990میں وجود میں آئیں لیکن اسحاق خان جولاء 1993 تک بدستور صدر رہے جب انہوں نے استفعی دیا –




