کالمز

مسجد خدیجتہ الکبریٰ پر دھشت گردی: پاکستان کے استحکام پر حملہ

پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی ایسی لہر کی زد میں ہے جو بظاہر مختلف النوع اور منتشر دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک منظم، مربوط اور طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہے۔ اسلام آباد کی مسجد خدیجہ الکبریٰ میں پیش آنے والا حالیہ المناک واقعہ—جس میں خودکش حملہ آور نے عبادت گاہ کو براہِ راست نشانہ بنایا—اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ دہشت گردی اب کسی ایک خطے یا مخصوص ہدف تک محدود نہیں رہی۔ تازہ ترین تفتیشی پیش رفت کے مطابق خودکش حملہ آور کے روابط افغانستان میں موجود شدت پسند نیٹ ورکس سے جا ملتے ہیں، جہاں سے فکری رہنمائی کے ساتھ ساتھ عملی سہولت کاری بھی فراہم کی جاتی رہی۔ عبادت گاہ کو نشانہ بنانا محض ایک واردات نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کے اخلاقی و مذہبی ستونوں کے خلاف دانستہ اعلانِ جنگ ہے۔ ایسے حملوں کا مقصد جانی نقصان سے کہیں آگے بڑھ کر عوام میں خوف بٹھانا، ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنا اور قومی وحدت کو کمزور کرنا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ دہشت گردی کیوں موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ عین اس مرحلے پر اسے دوبارہ شدت کے ساتھ کیوں زندہ کیا جا رہا ہے۔
وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کوئی اتفاقی سلسلہ نہیں۔ پاکستان اس وقت داخلی استحکام، سیاسی و عسکری ہم آہنگی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سفارتی وقار کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین اعتماد، دہشت گردی کے خلاف غیر مبہم قومی پالیسی اور عالمی فورمز پر متوازن مؤقف نے پاکستان کے تشخص کو تقویت دی ہے۔ یہی پیش رفت اُن قوتوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے جو پاکستان کو کمزور، منقسم اور دفاعی پوزیشن میں رکھنا چاہتی ہیں۔ چنانچہ دہشت گردی کو ایک بار پھر بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کی جڑیں خطے کی جغرافیائی سیاست میں پیوست ہیں، بالخصوص افغان سرحد کے ساتھ جڑی ہوئی پیچیدگیوں میں۔ افغانستان میں مسلسل عدم استحکام اور کمزور حکمرانی نے شدت پسند گروہوں کو کھلی فضا فراہم کر رکھی ہے۔ سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں آج بھی پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ متعدد دہشت گرد حملوں کے تانے بانے انہی ٹھکانوں سے جا ملتے ہیں، جہاں غیر ریاستی عناصر منصوبہ بندی، بھرتی اور کارروائیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے دشمن ہیں۔
اسی پس منظر میں بھارت کی جاری ہائبرڈ وار اس چیلنج کو مزید گمبھیر بنا دیتی ہے۔ براہِ راست محاذ آرائی میں ناکامی کے بعد بھارت نے پراکسی گروہوں، تخریبی کارروائیوں، سائبر حملوں اور بیانیاتی یلغار کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کالعدم تنظیموں کی نظریاتی، مالی اور لاجسٹک سرپرستی ایک کھلا راز ہے، جبکہ عالمی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم ثابت کرنے کی منظم کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس اور شواہد ان حقائق کی تائید کرتے ہیں، مگر عالمی ضمیر کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
تاہم بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ ایک نہایت تشویشناک پہلو داخلی بھی ہے۔ ملک کے اندر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے مسلسل پھیلایا جانے والا انتشار، ریاستی اداروں کے خلاف منظم نفرت انگیز بیانیہ، اور آئینی و پارلیمانی راستوں کے بجائے سڑکوں کو فیصلہ کن فورم بنانے کی روش نے قومی سلامتی کے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جلسوں، بیانات اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے اداروں کو متنازع بنانا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا اور عوام کو ریاست کے مقابل لا کھڑا کرنا درحقیقت اسی عدم استحکام کو تقویت دیتا ہے جس سے دہشت گرد گروہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ طرزِ سیاست اختلافِ رائے نہیں بلکہ انتشار کی سیاست ہے، اور اس کے اثرات براہِ راست قومی سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔
داخلی سطح پر نظریاتی انتشار اور کمزور قومی بیانیہ دہشت گردوں کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانا، بداعتمادی کو ہوا دینا اور مذہب یا محرومی کے نام پر تشدد کو جواز فراہم کرنا اسی جنگ کا حصہ ہے۔ اس تناظر میں نیشنل ایکشن پلان کو محض کاغذی دستاویز کے طور پر رکھنا ایک سنگین کوتاہی ہے۔ اسے ایک فعال، ہمہ جہت اور نتیجہ خیز انسدادِ انتہاپسندی مہم میں ڈھالنا ہوگا، جس میں تعلیم، فکری تربیت، میڈیا اور سماجی رابطہ کاری کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔
سیاسی انتشار ہمیشہ دہشت گردی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ جب ذاتی یا جماعتی مفادات قومی مفاد پر غالب آ جائیں، جب سڑکیں پارلیمان کی جگہ لے لیں اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو دانستہ مجروح کیا جائے، تو شدت پسند عناصر اسی خلا میں اپنی جڑیں مضبوط کرتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بارہا یہ سبق دے چکی ہے کہ طاقت کا خلا ہمیشہ تشدد اور انتشار کو دعوت دیتا ہے۔
ان تمام خطرات کے باوجود یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ پاکستان کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ نواز شریف کا وژن—سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور متوازن خارجہ پالیسی—وزیر اعظم شہباز شریف کی انتظامی بصیرت، نظم و ضبط اور ریاستی اداروں کو متحرک رکھنے کی صلاحیت سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔ یہی سیاسی تسلسل انتشار کے بیانیے کو کمزور اور استحکام کے راستے کو مضبوط کرتا ہے۔
اسی سیاسی استحکام کے ساتھ ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی فعال اور مؤثر سفارت کاری پاکستان کی طاقت بن کر ابھری ہے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف دلیل، اعتماد اور تسلسل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ او آئی سی، اقوامِ متحدہ اور دوطرفہ محاذوں پر سرگرم سفارت کاری نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مقدمے کو تقویت دی اور دشمن کے منفی پروپیگنڈے کو کمزور کیا ہے۔
اسی سیاسی اور سفارتی ہم آہنگی کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فیصلہ کن عسکری قیادت نے مضبوط ترین سکیورٹی حصار فراہم کیا ہے۔ بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف غیر مبہم، بلاامتیاز اور دوٹوک حکمتِ عملی نافذ کی ہے۔ مؤثر عسکری آپریشنز، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک اور سرحدی نگرانی نے دہشت گردوں کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے، اور ان کی بوکھلاہٹ ان کے زوال کی علامت ہے۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ موجودہ دہشت گردی کی لہر کا ایک مقصد پنجاب کے سماجی اور نفسیاتی توازن کو متاثر کرنا بھی ہے۔ ایک طویل عرصے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی جانب سے قوم اور معاشرے کو ایک مثبت، خوشگوار اور روایتی تہوار کا موقع فراہم کیا جا رہا تھا، تاکہ سوسائٹی میں صحت مند تفریح کو فروغ ملے، اجتماعی گھٹن کم ہو اور عوام معمول کی زندگی کی طرف لوٹیں۔ مگر اس تہوار کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بجائے، عین اسی موقع پر ایک بڑا سانحہ رچا کر عوامی توجہ خوشیوں سے ہٹا کر غم و الم کی طرف موڑ دی گئی۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا نفسیاتی وار ہے، جس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ ریاست شہریوں کو سکون، خوشی اور معمولاتِ زندگی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ خوشی کے لمحوں کو خوف میں بدلنا اور مسرت کے ماحول کو سوگ میں ڈھال دینا دراصل دہشت گردی کی وہ صورت ہے جو بندوق سے کم اور ذہن پر زیادہ وار کرتی ہے۔
حتمی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان آج کسی ابہام کے نہیں بلکہ فیصلے کے مرحلے پر کھڑا ہے۔ دہشت گردی، بیرونی سازش اور داخلی انتشار—یہ تینوں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ ریاست کو پوری قوت، مکمل وضاحت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ ان سب کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ سیاست اگر ریاست کے اندر رہ کر ہوگی تو طاقت بنے گی، اور اگر ریاست کے مقابل کھڑی ہوگی تو کمزوری۔ قوم، قیادت اور ادارے اگر ایک صف میں کھڑے رہے تو یہ لہر پاکستان کو کمزور نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط، منظم اور ناقابلِ تسخیر بنا دے گی۔

Related Articles

Back to top button