
گڑھی دوپٹہ جیسے چھوٹے مگر اہم تجارتی مرکز میں حالیہ مجسٹریٹ کارروائی نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ رمضان المبارک سے صرف دو دن قبل اچانک چھاپوں اور چند مخصوص دکانوں کو سیل کرنے کے عمل نے جہاں بازار کا ماحول کشیدہ کیا، وہیں انتظامیہ کے طرزِ عمل پر بھی انگلیاں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔
مظفرآباد سے آنے والے اسسٹنٹ کمشنر اور نائب تحصیلدار کی کارروائی بظاہر قانون کی عملداری کے لیے تھی، مگر سوال یہ ہے کہ کیا قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہوا؟ اگر بازار میں گوشت کی سات دکانیں موجود تھیں تو صرف تین چارمخصوص دکانوں کو چیک کر کے سیل کرنا اور باقی کو نظر انداز کرنا انصاف کے کس اصول کے تحت آتا ہے؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جن دکانوں کو سیل کیا گیا ان میں سے تین خوشید گنائی اور اس کے قریبی رشتہ داروں (حقیقی دو بھتیجوں)کی تھیں، جبکہ دیگر دکاندار قبل از وقت دکانیں بند کر چکے تھے۔ اگر کارروائی اچانک تھی تو پھر کچھ دکانیں پہلے سے بند کیوں تھیں؟ کیا انہیں پیشگی اطلاع دی گئی؟ اگر دی گئی تو کس نے دی؟ کیا یہ اطلاع سرکاری حلقوں سے گئی یا کسی بااثر گروہ کے ذریعے؟یا اوپر سے ہدایت تھی کہ صرف گڑھی دوپٹہ میں تین/چار ہی مخصوص دکانیں گوشت کی سیل کرنی ہیں۔رمضان سے قبل اسسٹنٹ کمشنر صاحب جو مظفرآباد سے آئے تھے صرف کباب کی ایک دکان چیک کی اسپر جرمانہ کیا جبکہ اس کے سامنے دو اور ایک ساتھ ہی کباب کی دکان تھی چیک صرف ایک ہی کو کیا گیا باقیوں کو نہیں کیا یہ انصاف اور مساوات ہے۔مجسٹریٹ صاحب کو کون اس دکان پر لے گیا اگر کوئی لے گیا کیا مجسٹریٹ صاحب کو دوسری کباب کی دکانیں نظر ہی نہیں آئیں۔ پھر یہ دوہرا معیار اور عدم مساوات نہیں تو کیا ہے؟
گڑھی دوپٹہ میں ایک اور مسئلہ بھی شدت اختیار کر چکا ہے: ”خود ساختہ مجسٹریٹوں ” کی بھرمار۔ جب بھی کوئی سرکاری مجسٹریٹ بازار کا معائنہ کرنے آتا ہے تو اس کے ساتھ کئی محکموں کے اہلکار اور مقامی بااثر افراد بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ گرداور صاحب، لوکل پٹواری، محکمہ خوراک کا فوڈ انسپکٹر، محکمہ لائیو سٹاک کے اسسٹنٹ اور چند دیگر مقامی افراد — سب مل کر ایک ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے اصل اختیارات انہی کے پاس ہوں۔
حالانکہ قانونی طور پر مجسٹریٹ کے اختیارات واضح اور محدود ہوتے ہیں۔ لیکن جب مقامی تعلقات، ذاتی مراسم اور روزمرہ کی لین دین سرکاری کارروائی کا حصہ بن جائے تو شفافیت متاثر ہوتی ہے۔ بازار کے دکاندار بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اصل فیصلہ وہی لوگ کرتے ہیں جو روزانہ انہی کے ساتھ خرید و فروخت میں شریک ہوتے ہیں۔
یہاں بنیادی سوال انتظامیہ کی نیت نہیں بلکہ نظام کی کمزوری ہے۔ اگر اسسٹنٹ کمشنر صاحب واقعی سب دکانداروں کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تو پھر انہیں مخصوص دکانوں کی نشاندہی کس نے کی؟ کیا چیکنگ کا کوئی تحریری شیڈول تھا؟ کیا کسی غیر جانبدار ٹیم نے پہلے سے سروے کیا تھا؟ اگر نہیں، تو پھر کارروائی کا معیار کیسے متعین ہوا؟
قانون کی عملداری ضروری ہے، مگر مساوات کے بغیر قانون ظلم محسوس ہوتا ہے۔ رمضان جیسے مقدس مہینے سے قبل کارروائی کرنا اگر عوامی مفاد میں تھا تو پھر اسے مکمل اور غیر جانبدار ہونا چاہیے تھا۔ چند دکانوں کو نشانہ بنانا اور باقیوں کو چھوڑ دینا بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔
عوامِ علاقہ بجا طور پر مطالبہ کرتے ہیں کہ:
ایسے چھاپوں اور چیکنگ کے لیے واضح اور تحریری پالیسی مرتب کی جائے۔
کسی بھی کارروائی میں غیر متعلقہ افراد کو شامل نہ کیا جائے۔
ہر دکان کی باری باری اور مساوی بنیادوں پر جانچ کی جائے۔
پیشگی اطلاع دینے یا جانبداری ثابت ہونے پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہو۔
ہم وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور کمشنر مال سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کا غیر جانبدارانہ نوٹس لیا جائے۔ گڑھی دوپٹہ جیسے علاقوں میں انتظامی رٹ کی بحالی اسی وقت ممکن ہے جب دوہرے معیار کا خاتمہ ہو اور اختیارات صرف مجاز افسران تک محدود رہیں۔
عوام کو انصاف چاہیے، انتقام نہیں۔ قانون کی عملداری چاہیے، نمائش نہیں۔ اگر نظام شفاف ہو تو نہ دکاندار خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی عوام میں بداعتمادی پیدا ہو گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ گڑھی دوپٹہ میں خود ساختہ مجسٹریٹوں کا کردار ختم کر کے ایک منصفانہ، مساوی اور باوقار انتظامی روایت قائم کی جائے۔




