
قارئین کرام۔۔۔
تحریک آزادی کشمیر کی جد و جہد 13جولائی 1931کو شروع ہو ئی تھی اور آج تک جاری و ساری ہے اس میں بے شمار قربانیوں کے انبار لگنے کے باوجود ابھی تک اس کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا اس تحریک میں مختلف معتبر شخصیات نے اپنا اپنا مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔میرے والد محترم رشید ملک مرحوم کو اُن تمام شخصیات اور قائدین کے ساتھ مل بیٹھنے اور ان کے افکار و خیالات سننے کا موقع ملتا رہا ہے۔انہی میں ایک بلند پایہ شخصیت میر واعظ یوسف شاہ صاحب مرحوم کی ہے۔میر واعظ صاحب کا تحریک آزاد ی کشمیر میں ایک معتبر نام ہے وہ ریاست کی ایک عظیم دینی و سیاسی شخصیت کے طور پر پہچان رکھتے تھے۔ریاست جمو ں و کشمیر بالخصوص سری نگر میں ان کا خاندان ایک طویل عرصہ سے اسلام کے فروغ و اشاعت کے لیے کارہائے نمایاں سرانجام دیتا رہا ہے۔قرآن مجید کا کشمیری زبان میں ترجمعہ اور تفسیر میرواعظ یوسف شاہ صاحب کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔میرے والد صاحب نے ان قائدین کے خیالات اور افکار کو قلمی شکل دے رکھی ہے اسی تسلسل میں انہوں نے میرواعظ صاحب پر بھی اپنا ایک کالم قلم بند کر رکھا ہے۔جو کہ آج میر واعظ صاحب کی برسی کے موقع پر پیش کیا جا رہاہے۔
میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ صاحب ریاست جموں وکشمیر کی دینی و مذہبی تاریخ میں احترام و وقار کا نام ہے۔مولانا کے خاندان نے خاص کر ان کے والد ماجد سید رسول شاہ نے کشمیر میں دینی تبلیغ اور فروغ اسلام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔اس خاندان نے کشمیر خاص کر وادی کشمیر میں تصوف،رشد و ہدایت مقامی روایات کے ساتھ مذہبی سرگرمیوں کا گہواراہ رہا ہے۔یہاں صوفیائے کرام دینی بزرگوں اور فلسفیوں کے مزار اور خانقاہیں عام لوگوں کی عقیدت اور درود و مناجات کے مراکز ہیں۔میر واعظ خاندان نے اس لبا لب دینی اور درود مناجات کی فضاء میں توحید و ایمان کے فروغ کے لیے نصرت الاسلام کے دینی مدرسہ کی بنیا درکھی جو آج ترقی کر کے کالج کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔مولانا دیو بند کے فارغ التحصیل تھے انہوں نے نصرت الاسلام مدرسہ کی سرپرستی کی اور جامعہ مسجد سری نگر کے منبر و محراب سے واعظ و درس کا سلسلہ جاری رکھا۔ان کے عقیدت مندں کا حلقہ بڑا وسیع تھا۔ 1930ء کے آغاز سے ریاست جموں و کشمیر میں ڈوگرہ شخصی راج کے خلاف دبی دبی آواز اٹھنی شروع ہو ئی تو واعظ محمد یوسف شاہ نے بھی اپنے منبر و محراب سے اس آواز میں اپنی آواز ملانا شروع کی۔ میر واعظ کو کشمیر میں اپنے دینی مرتبہ کے باعث عوام میں بڑا عزت و وقار کا مقام حاصل تھا۔ڈوگرہ حکومت اپنے شخصی نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے میر واعظ کا احترام کرتی تھی لیکن میر واعظ یوسف شاہ ایک درد مند اور باشعور دینی راہنما کے فرائض انجام دیتے رہے۔انہو ں نے اپنے خطبات میں عوام کے ذہنوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کا کام جاری رکھا۔ کچھ تعلیم یافتہ نوجون جن میں شیخ محمد عبداللہ جو ایک سکول ٹیچر تھے اس میں پیش پیش تھے،انہوں نے فتح کدل کے ریڈنگ روم میں اپنے آئینی اور سیاسی حقوق کے لیے سرگوشیاں اور دبی دبی سیاسی سرگرمیاں شروع کر رکھی تھیں۔جموں میں خطبہ کی بندش اور توہین قرآن کے واقعات نے کشمیر میں مسلمانوں کے جذبات کو بھڑ کا دیا تھا، ڈوگرہ مہاراجا نے اپنے مشیروں کے مشورہ پر مسلمانوں کے ایک وفد سے ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔اس فت کے ممبران کے انتخاب کے لیے جون 1931ء کو خانقائے معلی (محمد شاہ جہان) سری نگر میں 50ہزار مسلمانوں کا جو اجتماع ہوا تھا، یہ ریاست جموں و کشمی کی تاریخ کا سب سے پہلا سیاسی اجتماع تھا۔ اس اجتماع میں میرواعظ محمد یوسف شاہ نے نوجوان شیخ عبداللہ کا ہاتھ پکڑ کر عام سے متعارف کرایا تھا اور کہا تھا یہ مستقبل کا لیڈر ہے،اس سے تعاون کیا جائے۔
اس اجتماع کے بعد 13جولائی 1931ء کا سانحہ عظیم ہوا جس میں سری نگر سنٹرل جیل کے سامنے ڈوگرہ پولیس کی گولیوں سے 22مسلمان شہید ہو گئے تھے۔اس سانحہ عظیم کی لوگوں سے ایک الوالعزم سیاسی جدو جہد شروع ہوئی۔شیخ محمد عباللہ کشمیر کے مقبول لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔بد قسمتی سے تحریک کے عروج کے زمانہ میں شیخ محمد عبداللہ اور میر واعظ محمد یوسف شاہ کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔شیخ عبداللہ نے 1939ء میں مسلم کانفرنس کا نیشنل کانفرنس میں بدل دیا۔انڈین کا نگرس سے سیاسی ناطہ جوڑ لیا۔اس فیصلہ سے ان دونوں راہنماؤں میں اختلافات کی خلیج وسیع ہو گئی،جو دونوں کی وفات تک برقرار رہی اور آج بھی کشمیر میں دونو ں سیاسی خاندانوں میں یہ خلیج برقرار ہے۔شیخ محمد عبداللہ نے کانگرس اور ہندوستان کے ساتھ مستقل رشتہ جوڑ لیا۔میر واعظ محمد یوسف شاہ پاکستان کے نظریہ اور ملک سے وابستہ رہے۔کُل جماعتی حریت کانفرنس کے موجودہ صدر مولانا عمر فاروق میر واظ خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔پاکستان کے قیام کے بعد ہندوستان نے ریڈ کلف ایوارڈ کی سازش کے ذریعہ کشمیر پر فوجی جارحیت کی اس پر فوجی تسلط قائم کیا،شیخ عبداللہ کو وزیر اعظم بنایا،پاکستان کے حامی سیاسی عناصر کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی گئی،ان کارروائیوں میں اپنی عزت و جان بچانے کی کوشش میں میر واعظ محمد یوسف شاہ اور دوسرے ہزاروں کارکن پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف ہجرت کر آئے۔میر واعظ نے پاکستان میں پناہ گزین کی حیثیت میں رہ کر بھی تحریک آزادی کشمیر اور تحریک الحاق پاکستان کو زندہ رکھنے کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں۔وہ آزاد کشمیر کی پہلی کابینہ جو اکتوبر 1947ء میں سردار محمد ابراہیم خان کی صدارت میں بنائی گئی تھی اُس میں وزیر تعلیم کی حیثیت سے شریک رہے۔1952ء میں وہ مسلم کانفرنس کے صدر بھی منتخب ہوئے۔اس سے پہلے 1943ء میں بھی وہ مسلم کانفرنس کے صدر منتخب ہوئے تھے۔وہ آزاد جموں و کشمیر حکومت کے صدر بھی رہے۔کشیر کے مسئلہ کی بیرونی ممالک میں پروجیکشن کے لیے میر واعظ محمد یوسف شاہ دوبار پاکستان اور کشمیر کے وفود کے قائد کی حیثیت میں مسلمان ممالک میں گئے۔میر واعظ کی اہلیہ بھی اور وہ خود بھی ہجرت کی زندگی مین وفات پا گئے اُ ن کے مزار میونسپل کارپوریشن مظفرآباد کے احاطہ میں کشمیری مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے اُن کے برادر نسبتی مولوی نور الدین اور اُن کی بہو مولوی احمد کی اہلیہ بھی ہجرت کی زندگی میں پاکستان میں وفات پا گئے۔میر واعظ کے خاندان نے تبلیغ دین کی جو شمع روشن کی تھی اور خود میر واعظ نے تبلیغ دین کے ساتھ سیاسی تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے جو نمایاں کردار ادا کیا تھا،اُس کو جاری رکھنے اور منزل تک پہنچانے کے لیے اُن کے خاندان کے چشم و چراغ مولانا عمر فاروق سرگرم عمل ہیں۔




