مظفرآباد

امریکہ میں مقیم کشمیری دانشور ڈاکٹر غلام نبی فائی کی مقبوضہ کشمیر میں جائیداد ضط

برمنگھم(صباح نیوز) قابض بھارتی حکام نے امریکا میں مقیم ممتاز کشمیری رہنما، دانشور اور انسانی حقوق کے علمبردار ڈاکٹر غلام نبی فائی کی مقبوضہ کشمیر میں اراضی بحق سرکار ضبط کر لی تحریکِ کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب اور تحریکِ کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے بھارتی اقدام کی سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ تحریکِ کشمیر کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ڈاکٹر غلام نبی فائی کے خلاف یہ اقدام کسی قانونی تقاضے کے تحت نہیں بلکہ کھلی سیاسی انتقام پسندی کا مظہر ہے، جو بھارتی حکومت کی اُس منظم اور جابرانہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی عالمی سطح پر مؤثر وکالت کرنے والی آوازوں کو دبانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیری قیادت، کارکنوں اور دانشوروں کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے، جن میں جائیدادوں کی ضبطی، سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں شامل ہیں، تاہم ایسے اوچھے اور غیر جمہوری اقدامات سے کشمیریوں کی جدوجہد کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر غلام نبی فائی کشمیری قوم کے ایک باوقار، اصول پسند اور دلیر فرزند ہیں، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوامِ متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو مؤثر، مدلل اور پرامن انداز میں اجاگر کرتے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر فائی نے ہمیشہ جمہوری، آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے، جس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔ تحریکِ کشمیر کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ اس قسم کے جابرانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کشمیری حریت پسند قیادت اور کارکنوں کو ان کے بنیادی حقوق کی جدوجہد سے ہرگز باز نہیں رکھ سکتے، کیونکہ کشمیری عوام اپنی آزادی، وقار اور حقِ خودارادیت کے لیے بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں اور آئندہ بھی کسی دباؤ یا ظلم کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

Related Articles

Back to top button