مظفرآباد

پیرامیڈیکل اداروں سے متعلق ہائی کورٹ آزادکشمیر کا اہم فیصلہ

مظفرآباد (خبرنگارخصوصی)پیرا میڈیکل اداروں سے متعلق ہائی کورٹ آزاد کشمیر کا اہم فیصلہہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے معزز جج جسٹس سردار محمد اعجاز خان نے پیرا میڈیکل اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے نجی تعلیمی اداروں سے متعلق دائر رِٹ پٹیشنز کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت آزاد جموں و کشمیر اور محکمہ صحت کو اپنی پالیسی پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد کی ہدایت کر دی ہے، جبکہ نجی اداروں کی جانب سے محکمہ صحت کے خلاف دائر رِٹ پٹیشن خارج کر دی گئی۔یہ فیصلہ آئینِ عبوری آزاد جموں و کشمیر 1974 کے آرٹیکل 44 کے تحت دائر رِٹ درخواستوں پر سنایا گیا. ایک رِٹ پٹیشن میں درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ بعض نجی پیرا میڈیکل ادارے مختلف میڈیکل اور فارماسیوٹیکل کورسز کروا رہے ہیں، جن میں لیب ٹیکنیشن، ریڈیالوجی، ڈینٹل، آپریشن تھیٹر، فارمیسی، ایمرجنسی میڈیسن اور دیگر ڈپلومہ و ڈگری پروگرام شامل ہیں۔یہ ادارے مختلف تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں سے منسلک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر درخواست گزاروں کے مطابق ان اداروں نے پنجاب میڈیکل فیکلٹی، فارمیسی کونسل آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے مقررہ معیار اور شرائط پوری نہیں کیں۔درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ان اداروں نے اسپتالوں کے ساتھ جو مفاہمتی یادداشتیں (MOUs) کیں، وہ سیکریٹری ہیلتھ کی منظوری کے بغیر کی گئیں، جو پالیسی کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اداروں نے منظور شدہ نشستوں سے زیادہ طلبہ داخل کیے، جو صریحاً غیر قانونی ہے۔انہوں نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ حکومت آزاد جموں و کشمیر یا محکمہ صحت نے پیرا میڈیکل اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے کوئی واضح طریقہ کار وضع نہیں کیا، جس کی وجہ سے غیر تربیت یافتہ افراد عوام کی جانوں سے کھیل رہے ہیں لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی کہ حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ واضح پالیسی اور طریقہ کار بنائے یا پھر ان اداروں کو بند کیا جائے۔جبکہ دوسری رِٹ پٹیشن میں نجی تعلیمی اداروں کے منتظمین نے محکمہ صحت آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے ان کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی اور مطالبہ کیا کہ ان کے اداروں کے خلاف کارروائی روکی جائے اور اسپتالوں کے ساتھ کیے گئے MOUs بحال کیے جائیں۔

Related Articles

Back to top button