پٹھیالی ہائیڈرل پراجیکٹ کے کام میں ناقص میٹریل استعمال کا انکشاف

ٹھوٹھہ(ظفر مغل سے) پٹھیالی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے کام میں ناقص میٹریل استعمال کیے جانے کا انکشاف۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اس بڑے قومی نوعیت کے پراجیکٹ میں لوکل بجری جو کچے لال پیلے پتھروں سے تیار کی جاتی ہے پٹھیالی نالی میں مشین لگائی گئی ہے جبکہ دریائے جہلم کی لوکل مٹی والی ریت استمعال کرتے ہیں۔ سیمنٹ کی مقدار بھی مطلوبہ مقدار کے مطابق نہیں ڈالی جاتی۔ عوام علاقہ کا کہنا ہے کہ ایسے پراجیکٹ صدیوں بعد لگائے جاتے ہیں۔ یہ کسی عام سڑک کام تو ہے نہیں جو ناقص کر دیا تو چند برسوں بعد ریپئرنگ کے نام پر دوبارہ ٹھیکہ حاصل کر لیا جائے گا۔ اس کام میں اگر کنٹریکٹ میں لارنس پور کی ریت ہے تو وہی لگائی جاتی اگر مارگلہ کی کریش ہے تو وہی لگائی جاتی سیمنٹ کی مقدار برابر ڈالی جانی چاہیے۔ محکمہ ہائیڈرو الیکٹرک بورڈ کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے ناقص کام کیا جا رہا ہے۔ محکمہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ذمہ داران اور اپنا حصہ وصول کر کے ستوں پی کر سوئے ہوئے ہیں۔ ٹھیکیدار کا کیا ہے وہ پیسے کما کر علاقہ پاکستان چلا جائے گا۔ اس ناقص کام کا خمیازہ اہل علاقہ اور عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ بڑی محنت اور جدوجھد کے بعد ایم ایل اے حلقہ 4 اور وزیر حکومت نے عوامی مفادات کے پراجیکٹ لگوائے انہیں کرپشن کی نظر نہ کیا جائے۔ ہم اہل علاقہ حکومت وقت اور محکمہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کام کا میعار بہتر بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار نمبردار چوہدری الف دین۔ عبد الرشید۔ حاجی اصغر ممبر جمیل محمد نذیر۔ محمد اکبر امجد نور حسین چوہدری کالا۔ محمد شفیق۔ چوہدری سیلمان محمد بشیر محمد فاروق۔ عبد الکریم محمد یونس چوہدری قلم دین اور دیگر نے محاسب سے گفتگو کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا




