پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس‘ صنعت و حرفت،مائنز اینڈ منرلز ریکارڈ پڑتال

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) قانون ساز اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس کمیٹی رُوم کشمیر ہاؤس میں چیئر مین کمیٹی عبدالماجد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صنعت و حرفت،مائنز اینڈ منرلز کے آڈٹ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بعض معاملات میں قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہوا۔ اس پر کمیٹی نے محکمہ متعلقہ کے حکام سے وضاحت طلب کی۔محکمہ صنعت و حرفت کے حکام نے کمیٹی کو تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے ہونے والے اخراجات اور فنڈز کے استعمال کی تفصیلات پیش کیں۔ محکمہ معدنی وسائل، مائنز اینڈ منرلز کے حکام نے منصوبوں، معدنی لیزز، رائلٹی اور ریونیو کی وصولی کے حوالے سے تفصیل بتائی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ معدنی وسائل کے بہتر استعمال اور ریونیو میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کمیٹی نے بعض آڈٹ اعتراضات کے حوالہ سے محکمانہ موقف پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مالی بے ضابطگیوں اور زیر التوا ء معاملات کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ اجلاس میں یہ بھی ہدایت دی گئی کہ آئندہ اجلاس میں پیش و رفت رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کریں تاکہ معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔زلزلے 2005ء کے دوران ریکارڈ ضائع ہونے کے حوالہ سے آڈٹ پیراز پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سب کمیٹی قائم کر دی جو کہ پابند ہو گی کہ اصل صورتحال جانچ کر تفصیلی رپورٹ آئندہ پی اے سی اجلاس میں پیش کرے۔محکمہ صنعت و حرفت کی جانب سے مجموعی طور پر 25لاکھ روپے کی ریکوری کی گئی،محکمانہ مجموعی کارکردگی بہتر پائی گئی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری فنڈز کے شفاف استعمال، احتساب اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا عمل جاری رکھتے ہوئے مالیاتی ڈسپلن کے قیام کو بہر صور ت یقینی بنایا جائے گا۔



