مظفرآباد

تحریک آزادی کشمیر کے عالمی ترجمان صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری انتقال کر گئے(‘نمازجنازہ آج میرپورمیں اداکی جائیگی)

اسلام آباد،مظفرآباد (صباح نیوز) ایک عہد جو تمام ہوگیاصدر ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے،صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی نماز جنازہ  آج اتوار کو سہ پہر تین بجے میرپور سٹیڈیم میں ادا کی جائیگی، صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سینئر ترین سیاستدانوں اور ممتاز قانون دانوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی سیاسی و سفارتی خدمات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا تعلق آزاد کشمیر کے ایک معروف سیاسی گھرانے سے تھا انہوں نے ابتدائی تعلیم پاکستان میں حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ گئے، جہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بطور بیرسٹر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ قانون کے شعبے میں مہارت نے ان کے سیاسی کردار کو مزید مؤثر بنایا ان کا سیاسی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔۔وہ آزاد جموں و کشمیر کے صدر اور وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہے۔ وہ قبل ازیں جولائی 1996 سے جولائی 2001 تک آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں،ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1983 میں ہوا، جب انہوں نے برطانیہ سے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔   1985 میں آزاد جموں و کشمیر کی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، وہ متعدد بار آزاد جموں و کشمیر کی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے   وہ ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والد چوہدری نور حسین ایک مشہور کشمیری رہنما تھے،  اپنے سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے جمہوری اقدار، عوامی حقوق اور ریاستی خودمختاری کے لیے بھرپور جدوجہد کی مسئلہ کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی سیاست کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔ انہوں نے یورپ، برطانیہ اور دیگر عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے رکھا۔ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ان کی آواز کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا تھا صدر آزاد جموں و کشمیر کے منصب پر فائز ہونے کے بعد بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ریاست کے آئینی سربراہ کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے وہ آئین کی بالادستی، ادارہ جاتی استحکام اور جمہوری روایات کے فروغ کے ساتھ ساتھ کشمیر کاز کی مؤثر نمائندگی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے تھے،بیرسٹر سلطان محمود کو 2021 کے عام انتخابات کے بعد دوبارہ صدر ریاست بنایا گیا تھا، ان کے فرزند یاسر سلطان اس وقت آبائی نشست سے ممبر اسمبلی ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود نے حال ہی میں اپنے گروپ سمیت پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس سے قبل وہ پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کا حصہ تھے،واضح رہے کہ بیرسٹر سلطان محمود کچھ عرصہ سے علالت کے باعث سیاسی سرگرمیوں سے دور ہو گئے تھے، جس کے بعد اسپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے قائم مقام صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی تھیں،سیاسی مبصرین کے مطابق بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا قانونی پس منظر، طویل سیاسی تجربہ اور بین الاقوامی سطح پر روابط آزاد کشمیر کے لیے ایک اہم اثاثہ تھے جو ریاست کے مفادات کے تحفظ اور مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے  

Related Articles

Back to top button