
چکسواری(نمائندہ خصوصی)ڈھیری باررواں میں خالصہ رقبہ دھڑلے سے فروخت کیا جا رہا ہے۔ واپڈا کے رقبہ کے بعد لینڈ مافیا نے وزیر حکومت کی آشیر باد پر خالصہ رقبہ جات کو فروخت کرنا شروع کر دیا۔ نائب تحصیلدار اسلام گڑھ اور متعلقہ پٹواری نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیں۔اسی خالصہ سرکار رقبہ کی فروخت اور 1100000(گیارہ لاکھ) لین دین کے حوالہ سے سابق امیدوار اسمبلی عظیم بخش چودھری نے پریس کلب میں نشاندہی بھی کی تھی۔چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو آزاد کشمیر،کمشنر میرپور اور ڈپٹی کمشنر نوٹس لیں اور خالصہ سرکار رقبہ واگزار کروائیں اور وصول کردہ رقم بحق خزانہ سرکار ضبط کروائیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈھیر ی باررواں میں لینڈ مافیا نے پہلے پہل واپڈا کے رقبہ پر ہاتھ صاف کئے اورخسرہ نمبر1145جو دس کنال تھا پر قبضہ کر لیا ہے۔ موقع پر صرف تقریباً تین ساڑھے تین کنال رقبہ رہنے دیا باقی رقبہ پر قبضہ کر لیا ہیاس کے بعد لینڈ مافیا نے ملحقہ برساتی نالہ اور خالصہ سرکار کو بھی اونے پونے داموں فروخت کر دیا ہے۔ نائب تحصیلدار اور پٹواری نے وزیر حکومت کے فرنٹ مین کی وجہ سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ پٹواری اس طرف رخ ہی نہیں کرتا جبکہ موقع پر اب بھی کام جاری و ساری ہیں۔مک مکا کے بعد دن دیہاڑے قبضے ہو رہے ہیں اور مکانات تعمیر ہو رہے ہیں۔برساتی نالہ جو بیس تیس فٹ رہا ہو گا سکڑ کر صرف پانچ چھ فٹ رہ گیا ہے۔مکان تعمیر کرنے والے افراد نے میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ رقبہ وزیر حکومت کے فرنٹ مین نے فروخت کئے ہیں اور بغیر کسی بیان حلفی اور سرکاری دستاویز کے رقبہ فروخت کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت ہماری ہے تمہیں کوئی بھی یہاں سے بے دخل نہیں کر سکتا۔ دوسری جانب متاثرہ بارڈر لائن یا مہاجرین جب محکمہ مال کو درخواست جمع کرواتے ہیں کہ ہمیں سر چھپانے کیلئے جگہ دی جائے تو محکمہ مال سرے سے ہی انکار کر دیتا ہے۔ غریب اگر کسی جگہ مکان بنانا چاہے تو محکمہ مال کے نائب تحصیلدار اور پٹواری فی الفور مسمارگی کر دیتے ہیں جبکہ یہاں وزیر حکومت کی پشت پناہی پر بیس پچیس کنال سے زائد پر قبضے کئے جا چکے ہیں۔ انتظامیہ نوٹس لے اور مسمارگی کی جائے اور خالصہ فروخت کر کے وصول کی گئی رقم کی ریکوری کی جا کے داخل خزانہ کی جائے۔


