بھارت کی توسیعی پسندانہ پالیسی خطے کے لیے خطرہ ہے‘ لطیف اکبر

مظفر آباد(محاسب نیوز)نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے 8 فیکلٹی ممبران سمیت وار کورس کے 47 شرکاء پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ایوانِ صدر مظفر آباد کا دورہ کیا اور قائم مقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر سے ملاقات کی۔ وفد کے ایوانِ صدر پہنچنے پر پُرتپاک استقبال کیا گیا جبکہ اس موقع پر ایک تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا، تقریب میں موسٹ سینئر وزیر /وزیر قانون میاں عبدالوحید، وزیر خزانہ قاسم مجید، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ظہیر قریشی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ظفر خان، سیکرٹری اطلاعات و آئی ٹی محمد راشد حنیف، سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن چوہدری طیب سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے، مسئلہ کشمیر کا منصفانہ و دیرپا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ناگزیر ہے۔ بھارت 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بدترین مظالم ڈھا رہا ہے، بھارت کی جارحیت خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جارہی ہے، بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی، سماجی اور مذہبی آزادیوں کو بھی سلب کیے جا رہا ہے۔ بھارت کا یہ توسیعی پسندانہ اقدام جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے، ایل او سی کے پار بسنے والے کشمیریوں پر بدترین مظالم کا دنیا نوٹس لے، انہوں نے کہا کہ بھاری مظالم کے باوجود کشمیری عوام اپنی جائز جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام مسئلہ کشمیر کے پرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے وفد کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مطالعاتی دورے قومی اداروں کے مابین روابط کے فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔




