مظفرآباد

ماہ مقدس آمد آزادکشمیر کے عوام بلیک کا مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور

مظفرآباد (رپورٹ جہانگیر حسین اعوان سے) حکومت پنجاب کی طرف سے آزاد کشمیر میں آٹے کی ترسیل پر پابندی کے باعث آزاد کشمیر کے عوام بلیک میں آنے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ماہ مقدس میں آٹے کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر پابندی برقرار رہی تو عوام کے لیے آٹے کی ضرورت کو پوری نہیں ہو گی تندور مالکان بھی روٹی فراہم نہیں کر سکیں گے۔ اس وقت فی ٹرک پنجاب کی ملوں سے آنے والے آٹے کا مظفرآباد کرایہ 1 لاکھ 10 ہزار روپے ہے اور جو آٹا دکاندار لاتے ہیں وہ کوہالہ برارکوٹ چیک پوسٹوں پر باقاعدہ رشوت دیکر لایا جاتا ہے جس نے پولیس والوں کی بھی چاندی ہو گئی ہے۔ مقامی ملوں کا آٹا غیر معیاری ہے جو شہریوں کی ضرورت کو پورا نہیں کر رہا ہے۔ بڑی تعداد میں یہ آٹا پاکستان کے علاقوں میں سمگل ہو رہا ہے۔ یہاں سے پاکستان کی ملوں کے تھیلے میں ڈال کر رکھ آزاد کشمیر بھر سمیت دارالحکومت میں فروخت کیا جاتا ہے اس ساری صورتحال میں جب وافر مقدار میں آٹا لانے والے تاجروں سے معلومات لی گئی تو خواجہ فاروق قادری، ندیم پلہاجی سمیت دیگر کا کہنا تھا ہم مجبور ہیں ہم پر لوگوں کا دباؤ بہت زیادہ ہے مگر آٹے کی پابندی کی وجہ سے ہم لوگوں کی ضرورت پورا نہیں کر سکتے ہیں حکومت پنجاب اس حوالہ سے غور و حوض کرے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور حکومت پنجاب سے بات کریں اور پابندی ختم کرائیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر بھی مسلم لیگ ن پنجاب کی حکومت کی توجہ اس پابندی بارے دلائے تاکہ پابندی ختم ہو اور عوام سستے آٹے سے مستفید ہو سکیں جو انتہائی مہنگا خریدنے پر مجبور ہیں

Related Articles

Back to top button