
قارئین کرام! مسئلہ کشمیر اب ایسا مسئلہ بن چکا ہے۔جس کے تذکرے شروع ہوں تو حل کی امید لگ جاتی ہے۔مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد شبنم کے قطروں کی طرح یہ مسئلہ غائب ہو جاتا ہے۔اور نا امیدی پھر لوٹ آتی ہے۔اقوام متحدہ کا ادارہ محض جمع تفریق کے لیے اور مختلف ممالک کے نمائندگان کی تقاریر اور قراردادیں پاس کرنے کے لیے رہ گیا ہے۔کوئی بھی مسئلہ نہ آج تک حل کیا گیا ہے۔ اور نہ ہی اس کے پاس حل کرنے کا کوئی واضح اختیار ہے۔ جس میں سب سے بڑی رکاوٹ انسانی حقوق بلکہ انسانیت کے خلاف چند بڑے مالی لحاظ سے طاقتور ممالک کا بدترین اختیار ویٹو کا اختیار ہے۔ جس کی موجودگی میں کسی مسئلے کے حل کی امید رکھنا سادگی بلکہ بے بسی ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق کے لیے بے شمار تحریکیں چل رہی ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جتنی انسانی قربانی مسئلہ کشمیر کے لیے دی گئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ حالیہ جاری مسائل میں سے فلسطین کا مسئلہ انتہائی دردناک ہے۔ مگر قربانیوں کے حساب سے مسئلہ کشمیر کے لیے دی گئی قربانیوں کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایک ایک دن میں قیام پاکستان کے وقت لاکھوں کی تعداد میں کشمیریوں کو کس دھوکے اور بے دردی کے ساتھ گاجر مولی کی طرح قتل کیا گیا۔ پھر اس تحریک سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ کشمیر کی ظلم کی داستان مسلسل صدی کے قریب پہنچنے کو ہے۔ مظالم کا ذکر کرنے کی جرآت نہیں ہوتی۔ جو دن کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے وہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے نئے پہاڑ بن کر ٹوٹتا ہے۔ ظالم مکار دشمن ہمارے مظاہروں کے جواب میں قتل و غارت کا بازار گرم کر دیتا ہے۔کوئی حربہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا۔ ہر دن پاکستانی اور کشمیری قیادت کی طرف سے دنیا کے ممالک سے نوٹس لینے کی اپیلیں کی جاتی ہیں۔جن سے کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ بڑی طاقتوں کی اپنی ترجیحات ہیں۔ ان کے نزدیک مظلوم کی داد رسی یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے جس کی وہ پابند نہیں ہیں۔
قارئین کرام! مسئلہ کشمیر خالصتاً انسانی مسئلہ ہونے سے کسی کو انکار نہیں۔ پاکستان کے تمام سیاسی قیادت، دینی جماعتیں اور عسکری قیادت کشمیر کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہے۔ مگر اپنے سے کئی گنا بڑے مکار دشمن سے واسطہ ہے۔ جتنا ہماری کوششیں مسئلہ کے حل کے لیے تیز ہوئیں بھارت نے اپنے ناجائز قبضہ کو خطرناک حد تک بدل کر رکھ دیا۔ خونی لکیر کی ہر چوکی پر ہندوستانی پرچم لہرا رہے ہیں۔ مقبوضہ حصے کی سیاسی قیادت کو کچلا جا رہا ہے۔ ان کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔انہیں موت کی نیند سلایا جا رہا ہے۔ تازہ زندہ مثال ملک یاسین کی ہے۔ جس کی عمر قید سزا کے خلاف بھی یہ درخواست دی گئی ہے کہ اس کی سزا کو عمر قید کی بجائے سزائے موت میں بدلا جائے۔ اندازہ کریں کتنی بے غیرتی سے مودی حکومت اپنے موقف پر آگے بڑھ رہی ہے۔ میر واعظ جیسے قائد کو جمعہ کے دن مسجد میں بھی خطاب کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ سید علی گیلانی ساری زندگی ڈٹے رہے۔کن حالات سے دوچار رہے۔جرات کر کے یہ نعرہ دیا ”ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے”۔نوجوانوں کی تاریخی قربانیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔
قارئین کرام! ہر ذہن فیصلے کرنے سے قاصر ہے کہ آخر یہ آزمائش قیامت تک جاری رہے گی؟ یا کب اور کس طرح اس کا حل ممکن ہوگا؟ عجیب بات یہ بھی ہے کہ ہماری دعائیں بھی بے اثر ہو گئی ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں کی کمی نہیں مگر کشمیر کے لیے صبح شام ہونے والی دعائیں اپنا اثر نہیں دکھا رہیں۔ ہم سب کو یہ حقیقت ماننی پڑے گی کہ ماضی قریب میں پاکستانی قیادت اور بالخصوص افواج پاکستان کو اللہ نے اپنی حیثیت کو تسلیم کروانے کا موقع دیا ہے۔ اس کا مسئلہ کشمیر کو سرد خانے سے نکل کر تبصروں کا موقع مسلسل ہے۔یا اس سے اسلام کی تاریخ کی یہ بات پھر ثابت ہوئی کہ مٹھی بھر مسلمان کفار کی بڑی تعداد کے لشکر پر غالب آ سکتی ہے۔ لگتا یہ ہے کہ دوسروں پر تکیہ لگا کر بیٹھنے کی بجائے ہماری تمام سیاسی قیادت علماء کرام اور دیگر صاحب رائے لوگوں کو لے کر بیٹھ کر محض ریلی نکالے یا مظاہرے کرنے کی بجائے غور و فکر کے بعد قابلِ عمل منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ تاکہ ہم کوئی عملی قدم اٹھا سکیں۔ ورنہ ہم مظاہرے کرتے رہیں گے اور مقبوضہ حصہ کے ہمارے بھائی ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے۔ جہاں نہ جانیں محفوظ ہیں نہ عزتیں۔ تمام آزادیاں ختم ہیں۔ ظالم دشمن قابض ہے اور گولی کی زبان میں بات کرتا ہے۔ہمارے نوجوانوں کو ناکارہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود جان کی پرواہ کیے بغیر وہ سری نگر کے لال چوک میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ اس مسئلے کا حل جہاد ہی ہو سکتا ہے۔ جس کے لیے ہمیں بھوکا پیاسا رہ کر اپنی عسکری قوت کو مضبوط کرنا چاہیے۔ تاکہ دشمن جو زبان سمجھتا ہے اسی میں بات کی جائے۔ ورنہ نسلیں قربان ہوتی رہیں گی اور ہم آزادی کی خواہش سپنوں میں لیے دنیا سے چلے جائیں گے۔
اور عبدالقدیر، مقبول بٹ، گورو اور وانی کی قربانیاں رائیگاں جائیں گی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آخر کب تک؟




