کالمزمظفرآباد

مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان المبارک میں امریکی اور صہیونی طاقتیں ایران کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں اور امت مسلمہ خاموش تماشائی۔

تحریر ظفر مغل۔

گزشتہ صدی سے اب تک رمضان المبارک میں کے ماہ مقدس میں خطہ ارض کو مسلمانوں کے خون سے رنگین کیا جاتا رہا ہے۔ 1947ء لاکھوں افراد کی قربانی کے بعد 27 رمضان کو اس وقت دنیا کی واحد اسلامی نیوکلیئر پاور مملکت خداد پاکستان معرض وجود میں آیا۔ اسی عرصہ میں عربوں کی سر زمین پر ناجائز یہودی ریاست قائم کی گئی۔ جو آج تک پورے عرب ممالک میں ظلم اور خوف کی علامت بن چکی ہے۔ جس کا جب جی چاہے جس ملک پر چاہے قبضہ کرے بم برسائے قتل عام کرے کوئی روکنے والا نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس ماہ مقدس میں عراق افغانستان لبنان اور فلسطین پر بمباری قتل کیا۔ اب امریکہ کی سرپرستی میں ایران پر جبر کی انتہا کر دی ہے جس کا جرم صرف یہ ہے کہ اس میں تیل کے ذخائر ہیں اس کو وینزویلا کی طرح قبضے میں لینے کے لیے اور ایک اور مسلمان ملک ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ اسی طرح عید والے دن صدام حسین کو پھانسی دے کر مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ جب ماہ رمضان جب مسلمان بھوکے پیاسے اپنے رب کو راضی کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔ ایسے میں شیطان نما عالمی دہشت گرد امریکہ اسرائیل یہودی اور صیہونی طاقتیں مسلمانوں کی بزدلی کمزوری اجتماعی کے بجائے انفرادی ہوس لالچ میں اپنے رب کے بجائے امریکہ کو طاقت کا سر چشمہ سمجھنے کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے ایک کو تھپکی دی دوسرے پر چڑھ دوڑے۔ نہ بچے دیکھے نہ بوڑھے نہ بیمار دیکھے نہ معذور نہ باپردہ خواتین دیکھی نہ بچیاں نہ سکول دیکھے نہ مدرسے نہ مسجدیں چھوڑیں نہ مزارات۔ پہلے اسرائیل نے امریکہ کے تعاون اور پشت پناہی میں فلسطین جورڈن پر ناجائز قبضے کیے شام لبنان پر کے بے گناہ لوگوں پر بم برسائے جاتے رہے ان ممالک میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی۔ پھر سازش کے تحت عراق ایران جنگ کروائی اس کے بعد عراق سے کویت پر قبضہ کروایا۔ پھر موقع ملتے ہی بہانہ بنا کر عراق میں تباہی پھیلائی اس بہانے سعودی عرب اور کویت کے ذخائر پر قبضہ کر لیا۔ جب پھر بھی دل نہ بھرا تو دوبارا ایٹمی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اب ایران کی پراکسی جو بیشتر اسلامی ممالک میں برسرِ پیکار تھیں ان کی قیادت کو نشانہ بنایا۔ غزہ اور فلسطین کو کھنڈر بنا کر اس وقت جوہری ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر ایران کی قیادت کو شہید کردیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح ایران کے اندر خانہ جنگی شروع کروا کر اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن جس طرح ایرانی حکومت اور عوام نے قومی اور ملی یکجتی دلیری اور بہادری کے ساتھ نہ صرف امریکہ اور اسرائیل بلکہ پوری عرب ریاستوں میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا امریکی بحری بیڑے تباہ کیے بہرے ہرمز کو بند کر دیا۔ آئے روز پہلے سے زیادہ طاقتور حملوں سے ان یہودیوں اور غاصب صیہونی حکومتوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے تمام اڈے بحری بیڑے تباہ ہوئے۔ لگتا ہے کہ اب تیسری عالمی جنگ کا طبل بج چکا ہے اور امریکہ اسرائیل کے تباہی کے دن شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے مسلمان اور بزدل حکمران جو آج بھی امریکی غلامی کے بھنور میں پھنسے ہوئے ٹرمپ کو عالمی امن ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کے خواں ہیں۔ جس کے ہاتھ لاکھوں بے گناہ فلسطینیوں اور دیگر مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کے مسلمان سوائے حکمرانوں کے امریکہ اور اسرائیل کی تباہی کے منتظر ہیں اور ان کے خوفناک انجام کے خواہاں ہیں۔ سوشل میڈیا پر اسرائیل کی جانب جانے والے ہر میزائل کے ساتھ دعائیں کرتے ہیں کہ وہ تباہ و برباد ہو جائے۔ لیکن افسوس کب تک ایران تن و تنہا ان بڑی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔ عرب ممالک جو خود امریکہ کی لونڈیوں کے کردار ادا کر رہے ہیں وہ اپنے دفاع کے لیے امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جس کو اپنی زمینوں پر اڈے دے رکھے ہیں۔ لیکن اس وقت امریکہ کی ترجیح صرف اسرائیل کا دفاع کرنا ہے۔ کاش محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اگر مشرف جہنمی اگر اسرائیل تک رسائی حاصل کرنے اور مار کرنے والا غوری میزائل پروگرام جاری رکھنے دیتا جو پاکستان کے مضبوط دفاع کا ضامن تھا۔ اس وقت ایران کے بعد ان صیہونی طاقتوں کا اگلہ ٹارگٹ پاکستان ہے۔ اگر اس وقت بھی کمزور پالیسی اختیار کی گئی تو خدا ناخواستہ یہ طاقتیں ایران میں اپنے قدم جما لیتی ہیں تو انڈیا اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان کے لیے بڑے خطرے کی علامت ثابت ہو سکتا ہے

Related Articles

Back to top button