کالمزمظفرآباد

فاتحِ خیبر، نفسِ رسولؐ، امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی شہادت

تحریر: سید مُلازم حسین بخاری

کسے را میسر نہ شُد ایں سعادت۔۔۔ بہ کعبہ ولادت، بہ مسجد شہادت“
آج 21 رمضان المبارک 1447ھ بمطابق 2026ء کی یہ اداس تاریخ ہمیں تاریخِ اسلام کے اس عظیم اور دردناک سانحے کی یاد دلاتی ہے جس نے ارض و سما کو لرزا دیا تھا۔ آج ”نفسِ رسولؐ”، ”فاتحِ خیبر” اور ”امیر المومنین” حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت کا دن ہے۔

حضرت علیؑ کی شہادت تاریخی تناظر اور تقویم
ہجری تقویم کے مطابق آپؑ کی شہادت (40ھ) کو 1407 برس مکمل ہو چکے ہیں۔ عیسوی اعتبار سے آپؑ کی شہادت جنوری 661ء میں ہوئی، اس حساب سے اب 1365 برس بیت چکے ہیں۔ ایک دلچسپ مشابہت یہ ہے کہ چودہ سو سال قبل بھی آپؑ کی شہادت جنوری کے مہینے میں ہوئی تھی اور وقت کی گردش کے باعث حالیہ برسوں میں بھی شہادتِ مولا علیؑ جنوری اور فروری کے سرد مہینوں میں آ رہی ہے۔

حضرت علیؑ کی شہادت کا پس منظر
19 رمضان المبارک کی صبح، جب آپؑ مسجد کوفہ میں نمازِ فجر کے لیے سجدہ خالق میں تھے، ملعون عبدالرحمٰن ابن ملجم نے زہر میں بجھی تلوار سے آپؑ کے سر مبارک پر وار کیا۔ اس وقت کائنات نے آپؑ کے لبوں سے وہ تاریخی جملہ سنا جو رہتی دنیا تک ایمان کی بلندی کا استعارہ بن گیا:
”فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَہ” (ربِ کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا۔)
ابن ملجم نے وار کرتے وقت خوارج کا مخصوص نعرہ ”لِلّٰہِ الْحُکْمُ یَا عَلِیُّ لَا لَکَ” بلند کیا تھا۔ یہ وہی فتنہ تھا جس نے اسلام کی صفوں میں انتشار پیدا کیا اور بالآخر اس المناک سازش کا سبب بنا۔

حضرت علیؑ کے آخری لمحات اور وصیتیں
زہر کا اثر جسم میں پھیلنے کے باعث آپؑ دو دن تک بسترِ علالت پر رہے، لیکن ان آخری لمحات میں بھی آپؑ کی زبان پر ذکرِ الٰہی اور امت کے لیے نصیحتیں تھیں۔ آپؑ نے شہزادہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کو تقویٰ، یتیموں کی نگہداشت اور نماز کی پابندی کی وصیت فرمائی۔ یہاں تک کہ اپنے قاتل کے بارے میں بھی عدل کا دامن نہ چھوڑا اور فرمایا: ”اسے ویسے ہی سزا دینا جیسے اس نے مجھے مارا، حد سے تجاوز نہ کرنا۔”

شانِ امیر المومنینؑ
حضرت علیؑ کی شخصیت وہ بحرِ بے کراں ہے جس کی فضیلت میں مفسرین کے مطابق قرآن مجید کی متعدد آیات نازل ہوئیں۔ آپؑ وہ ہیں جنہیں مواخاتِ مدینہ میں رسولِ خداؐ نے اپنا بھائی قرار دیا۔
آپؑ علم کا وہ شہر ہیں جس کا دروازہ خود رسول اللہؐ نے آپؑ کو قرار دیا (أنا مدینۃ العلم وعلیّ بابہا)۔ آپؑ حق کا وہ معیار ہیں جس کے بارے میں فرمانِ نبویؐ ہے: ”علیؑ حق کے ساتھ ہیں اور حق علیؑ کے ساتھ ہے۔”
شبِ قدر اور ذکرِ علیؑ:- عشرہ اخیرہ کی ان مبارک راتوں میں شبِ قدر کا ہونا اور اسی دوران حضرت علیؑ کی شہادت کا واقعہ ایک گہرا پیغام دیتا ہے۔ ”قرآنِ ناطق” اسی رات اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا جس رات قرآنِ مجید نازل ہوا تھا۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
مُسلمِ اول شہِ مرداں علیؑ
قوتِ بازوئے پیغمبراں ؐ علیؑ

آپ کے بارے میں شمار احادیث تواتر سے ملتی ہیں حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“أنا مدینۃ العلم وعلیّ بابہا”(المستدرک للحاکم)
“میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں!”

“علیٌّ مع الحقّ والحقُّ مع علیٍّ”(المستدرک للحاکم)
“علیؓ حق کے ساتھ ہیں، اور حق علیؓ کے ساتھ ہے!”

“أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی، إِلَّا أَنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی”(صحیح بخاری: 4416)“اے علیؓ! تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارونؑ، موسیٰؑ کے لیے تھے، بس میرے بعد کوئی نبی نہیں!”

یہ وہی علیؓ تھے جو بچپن سے ہی اسلام کے محافظ رہے، جنہوں نے ہجرت کی رات نبی ﷺ کے بستر پر لیٹ کر اپنی جان کو قربان کرنے کے لیے پیش کر دیا۔ وہ علی جن کی اولاد نے نبی اکرم ﷺ کا دین اپنے سروں کا نذرانہ دے کر بچایا۔
یقیناً مولائے کائنات علی علیہ السلام کی ذات کا ہی یہ دعویٰ بنتا ہے کہ وہ کامیاب ہوئے۔
ذات علی ہے فقط امین رسول
شب ہجرت سے شام غریباں تک
سلام بر مولائے کائنات علی علیہ السّلام

خلاصہ مضمون:- وہ علیؓ جو خیبر میں شیرِ خدا بن کر برسرِ پیکار رہے، جن کے ہاتھ میں جھنڈا تھا اور رسول اللہ ﷺ کی زبان پر یہ الفاظ تھے:“لَأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ غَدًا رَجُلًا یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ، وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ”(صحیح بخاری: 3701)“کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں!”

وہ علیؓ جو صفین اور جمل کے میدان میں عدل کا استعارہ بنے، جو نہروان میں دین کی بقا کی آخری علامت بنے، وہی علیؓ آج ایک خارجی کے ہاتھوں زخموں سے چور ہو رہے تھے!

وہ علی جن کی اولاد نے نبی اکرم ﷺ کا دین اپنے سروں کا نذرانہ دے کر بچایا۔
یقیناً مولائے کائنات علی علیہ السلام کی ذات کا ہی یہ دعویٰ بنتا ہے کہ وہ کامیاب ہوئے۔
ذات علی ہے فقط امین رسول
شب ہجرت سے شام غریباں تک
سلام بر مولائے کائنات علی علیہ السّلام

حرفِ آخر
حضرت علیؑ کی زندگی بچپن سے شہادت تک اسلام کے تحفظ اور عدل و انصاف کی بالادستی کی داستان ہے۔ چاہے ہجرت کی رات نبیؐ کے بستر پر اپنی جان پیش کرنا ہو یا خیبر کے میدان میں ”شیرِ خدا” بن کر پرچم لہرانا، آپؑ کی ہر ادا دین کی بقا کی ضامن رہی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حضرت علیؑ کی سیرت، ان کے مثالی عدل اور شجاعت کو اپنی زندگیوں کے لیے مشعلِ راہ بنائیں۔
اللہ تعالیٰ تمام عالمِ اسلام کو مولا علیؑ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

Back to top button