کالمزمظفرآباد

بڑے چوہدری صاحب — ایک عہد، ایک کردار، ایک روایت

تحریر: محمد اقبال میر

تاریخ جب کسی شخصیت کو یاد رکھتی ہے تو اس کی وجہ صرف نام نہیں ہوتا بلکہ وہ کردار ہوتا ہے جو زمانے کے دل پر اپنی چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی سرزمین بھی ایسی ہی کئی شخصیات کی امین رہی ہے جنہوں نے اپنی محنت، دیانت اور خلوص کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں مستقل جگہ بنائی۔ انہی باوقار شخصیات میں ایک نام چوہدری شمس دین مرحوم کا بھی ہے، جنہیں مظفرآباد کے قدیمی لوگ آج بھی محبت سے“بڑے چوہدری صاحب”کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
چوہدری شمس دین مرحوم کا تعلق ایسے خاندان سے تھا جس کی جڑیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سرزمین میں پیوست تھیں۔ انہوں نے مظفرآباد اور ہٹیاں بالا کی سرزمین کو اپنا مسکن بنایا اور اسی دھرتی کو اپنی جدوجہد اور محنت کا میدان بنا لیا۔وہ تحریکِ آزادی کشمیر کے ان مخلص کارکنوں میں شامل تھے جن کے دلوں میں تکمیلِ پاکستان کا خواب روشن تھا۔ ان کی سوچ اور فکر ہمیشہ اس جدوجہد کے گرد گھومتی رہی جو کشمیری عوام کی آزادی اور خودمختاری کے لیے جاری تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا سیاسی تعلق ہمیشہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھ رہا، جو اس جدوجہد کی قدیم اور نظریاتی جماعت سمجھی جاتی ہے۔
چوہدری شمس دین مرحوم کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ان کی محنت اور خودداری تھی۔ انہوں نے کاروبار کے میدان میں قدم رکھا اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اپنی شناخت قائم کی۔چوہدری بس سروس کے نام سے شروع ہونے والا یہ سفر دراصل اس دور کی معاشی جدوجہد کی ایک روشن مثال تھا۔ اس زمانے میں مظفرآباد ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا اور یہاں سے سری نگر تک بس سروس چلتی تھی جو 1955ئتک جاری رہی۔ اس پورے عرصے میں چوہدری شمس دین مرحوم نے ایک دیانتدار اور باکردار ٹرانسپورٹر کے طور پر اپنا نام پیدا کیا۔کاروبار میں کامیابی کے باوجود ان کے اندر عاجزی اور سادگی ہمیشہ قائم رہی۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں، نہ کہ اپنے عہدوں یا دولت سے۔ مظفرآباد کے لوگوں کیلئے ان کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ کوئی بھی شخص اگر کسی مشکل میں ہوتا تو بڑے چوہدری صاحب اس کی مدد کیلئے آگے بڑھنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔
سیاسی میدان میں بھی ان کے روابط اور تعلقات اس دور کی اہم قیادت کے ساتھ قائم رہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست کے بڑے نام جیسے سردار عبدالقیوم خان، خان عبدالحمید خان، سردار سکندر حیات خان، راجہ ممتاز حسین راٹھور، کے ایچ خورشید، صاحبزادہ اسحاق ظفر اور میاں غلام رسول ان شخصیات میں شامل تھے جن کے ساتھ چوہدری شمس دین مرحوم کے قریبی مراسم رہے۔ اسی طرح مظفرآباد کی ممتاز سماجی اور سیاسی شخصیات جیسے پیر سید بنیاد گیلانی، سردار ارشاد، غلام نبی زرگر، خان وحید خان، لالا خواجہ علاوالدین اور امان اللہ بخاری سمیت دیگرکئی شخصیات کیساتھ بھی ان کے دیرینہ اور احترام پر مبنی تعلقات تھے۔
چوہدری شمس دین مرحوم کی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو ان کی خاندانی تربیت تھی۔ انہوں نے نہ صرف خود ایک باوقار زندگی گزاری بلکہ اپنی اولاد کو بھی علم، خدمت اور دیانت کی راہ پر گامزن کیا۔ ان کے بھائی چوہدری غلام نبی کلکٹر کے عہدے پر فائز رہے جبکہ ان کے صاحبزادوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
چوہدری شمس دین مرحوم کے بھائیوں میں چوہدری غلام محی الدین کاروباری شخصیت تھے، چوہدری عبدالعزیز بینک میں ملازمت کرتے تھے،چوہدری غلام نبی کلکٹر انکم ٹیکس رہے جبکہ چھوٹے بھائی چوہدری عبدالحمید مرحوم سیشن جج رہے ہیں۔
فرزند ان میں چوہدری منظور احمد سابق میئر میونسپل کارپوریشن، ڈاکٹر چوہدری مختار احمد معروف نیورو سرجن ہیں اور ممبر آزاد جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن رہے ہیں، چوہدری امتیاز احمد ٹرانسپورٹر، چوہدری خورشید احمد وکالت جبکہ چوہدری زبیر کاروبار ی میدان میں سرگرم ہیں۔
خاندان کے دیگر افراد بھی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ان کے داماد ڈاکٹر اعجاز احمد طبی شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ اسی طرح چوہدری منظور احمد کا شمار مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے وہ مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے مرکزی نائب صدر ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے قیام کے وقت وہ ضلعی کنونیئر بھی رہے ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے چوہدری احسن منظورنوجوانوں میں ایک متحرک سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور نواز شریف لورز کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ان دنوں وہ چیئرمین پبلسٹی اینڈ کلچرل بورڈ مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے عہدے پر سیاسی میدان میں سرگرم ہیں۔ چوہدری منظور احمد اور ان کے صاحبزادے چوہدری احسن منظور نے مسلم لیگ ن کے قیام اور جماعت کو مضبوط بنانے کیلئے فعال رہے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ خاندان کے دیگر افراد بھی عوامی خدمت کے میدان میں سرگرم ہیں۔ چوہدری حسن منظورمیونسپل کارپوریشن مظفرآباد کے کونسلر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اس خاندان کے کئی نوجوان ڈاکٹر، بینکاری اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ چوہدری عامر حمیدتاجروں کی قیادت میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں
چوہدری شمس دین مرحوم کے صاحبزادے ڈاکٹر مختار احمد کے فرزند ڈاکٹر باسط مختار جبکہ یاور مختار وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں اور ڈاکٹر اعجاز احمد کے فرزند انجینئر چوہدری ولی اعجاز اور ڈاکٹر عمر اعجاز ہیں۔
چوہدری شمس دین مرحوم کی وفات کے بعد بھی ان کے خاندان نے ان کی روایت کو زندہ رکھا۔ مظفرآباد کے عوام کے ساتھ ان کے تعلقات آج بھی اسی محبت اور احترام کے ساتھ قائم ہیں۔ جب سری نگر کے ساتھ آمدورفت کے دروازے دوبارہ کھلے تو چوہدری منظور احمد، چوہدری احسن منظور اور ان کے عزیز قیصر عزیز نے مقبوضہ کشمیر کا سفر کر کے اپنے بچھڑے ہوئے رشتوں کو پھر سے جوڑا۔ یہ سفر دراصل صرف سرحد پار کا سفر نہیں تھا بلکہ بچھڑی ہوئی یادوں اور رشتوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک کوشش بھی تھا۔
وقت گزر جاتا ہے مگر بعض شخصیات اپنی یادوں کے ذریعے زندہ رہتی ہیں۔ بڑے چوہدری صاحب بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جنہیں مظفرآباد کے لوگ آج بھی عزت و محبت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ ان کی غریب پروری، سادگی اور خلوص آج بھی لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہے۔
ہر سال 22 رمضان المبارک کو ان کی برسی نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر قرآن خوانی، دعا اور افطاری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مظفرآباد کی معروف مذہبی و روحانی شخصیت،بزرگ عالم دین مولانا قاری عبدالمالک توحیدی اس موقع پر دعا کرواتے ہیں۔ وہ ایک بڑے دینی مدرسے کے مہتمم اور سرپرست اعلیٰ بھی ہیں اور اس مدرسے اور اس سے ملحقہ مسجد کے معاملات میں بھی بڑے چوہدری صاحب کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔
درحقیقت انسان اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے مگر اس کے اچھے اعمال اور اس کا کردار وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتا۔ وہ لوگوں کی یادوں میں زندہ رہتا ہے، نسلوں کو متاثر کرتا ہے اور معاشرے کیلئے ایک مثال بن جاتا ہے۔چوہدری شمس دین مرحوم بھی ایسی ہی شخصیت تھے جن کا نام اور کردار مظفرآباد کی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button