کالمز

ڈیجیٹل خودمختاری، پاکستان کے لیے اگلا اسٹریٹجک محاذ، کیا پاکستان تیار ہے؟

آج کی دنیا میں طاقت کا توازن صرف میزائلوں، فوجی طاقت یا معاشی وسائل سے نہیں بلکہ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظاموں سے طے ہو رہا ہے۔ عالمی سیاست تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں معلومات ہی طاقت ہے اور جو ریاستیں ڈیٹا اور ٹیکنالوجی پر کنٹرول رکھتی ہیں وہی مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال پاکستان کے سامنے بھی کھڑا ہے۔کہ ہم اپنی ڈیجیٹل تقدیر کے مالک بننے کے لیے تیار ہیں یا ہمیشہ دوسروں کی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے رہیں گے؟مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب میں پہلی بار کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا تھا۔ اسکرین پر ٹمٹماتا ہوا کرسر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نئی دنیا کا دروازہ ہو۔ ایک سادہ سی مشین، مگر اس کے اندر معلومات، روابط اور طاقت کی ایک پوری کائنات سمٹی ہوئی تھی۔اسی تجسس نے مجھے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کی طرف مائل کیا۔ بعد ازاں ماس کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستگی نے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ٹیکنالوجی صرف کوڈ اور مشینوں کا نام نہیں۔ درحقیقت یہ انسانوں کے فیصلوں، معاشروں کی سمت اور قوموں کے مستقبل سے جڑی ہوتی ہے۔مئی 2025 میں پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب قومی سلامتی کا معاملہ ہو تو وہ اپنی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ ایک ایٹمی طاقت کے طور پر ہمارے اسٹریٹجک کمانڈ سسٹمز اور عسکری مواصلاتی نیٹ ورکس انتہائی محفوظ اور الگ تھلگ ڈیجیٹل ڈھانچوں پر قائم ہیں۔ یہ نظام عام انٹرنیٹ سے مکمل طور پر الگ رکھے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سائبر خطرے سے بچا جا سکے۔مگر یہاں ایک بنیادی تضاد نظر آتا ہے۔ اگر ہم دفاعی نظام کے لیے اتنے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ڈیجیٹل نیٹ ورک قائم کر سکتے ہیں تو پھر ہم اپنی شہری ڈیجیٹل دنیا کے لیے اسی نوعیت کی سوچ کیوں نہیں اپناتے؟حقیقت یہ ہے کہ ہماری روزمرہ ڈیجیٹل زندگی تقریباً مکمل طور پر بیرونی پلیٹ فارمز پر منحصر ہے۔ ہم معلومات کی تلاش کے لیے غیر ملکی سرچ انجن استعمال کرتے ہیں، رابطوں کے لیے عالمی میسجنگ ایپس پر انحصار کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے لمحات ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرتے ہیں جو ہزاروں میل دور واقع کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔یہ پلیٹ فارمز ہمیں دنیا سے جوڑتے ضرور ہیں، مگر خاموشی سے ہمارا ڈیٹا، ہماری گفتگو اور حتیٰ کہ ہماری سماجی و ثقافتی شناخت بھی بیرونی نظاموں کے حوالے ہو جاتی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب ڈیٹا کو نئی عالمی طاقت قرار دیا جا رہا ہے، یہ صورتحال کسی بھی ریاست کے لیے ایک سنجیدہ اسٹریٹجک سوال بن جاتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ واقعات اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انٹیلی جنس ادارے مصنوعی ذہانت کی مدد سے نگرانی کے کیمروں، موبائل سگنلز اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس سے حاصل ہونے والے وسیع ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس تجزیے کے ذریعے نقل و حرکت کے رجحانات کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور حقیقی وقت میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔حالیہ واقعے میں ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ایک انتہائی درست کارروائی کے بارے میں رپورٹس منظر عام پہ آئی ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے پس منظر میں کئی ماہ تک ڈیجیٹل ڈیٹا کے ذریعے نقل و حرکت کے پیٹرنز کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ چاہے ان واقعات کو سیاسی زاویے سے دیکھا جائے یا تکنیکی نقطہ? نظر سے، ایک حقیقت بالکل واضح ہے۔ مستقبل کی سلامتی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ڈیٹا اور ڈیجیٹل نظاموں پر کنٹرول کس کے پاس ہے۔درحقیت پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں بالکل نیا بھی نہیں ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی کی تاریخ میں پاکستانی ذہانت کی جھلک پہلے بھی نظر آ چکی ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔۔ 1980 کی دہائی میں لاہور کے دو بھائی باسط فاروق علوی اور امجد فاروق علوی نے ایک
کمپیوٹر وائرس تیار کیا جو ”برین وائرس” کے نام سے مشہور ہوا اسے دنیا کا پہلا وائرس سمجھا جاتا ہے جو IBM کے ہم آہنگ پرسنل کمپیوٹرز پر پھیلا۔اگرچہ اس کا مقصد سافٹ ویئر کی غیر قانونی نقل کو روکنا تھا، مگر اس واقعے نے عالمی ٹیکنالوجی حلقوں کی توجہ حاصل کی۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت تھا کہ پاکستانی صلاحیتیں عالمی ٹیکنالوجی کے منظرنامے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔آج یہ صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔ ہر سال نسٹ، کامسیٹس اور لمز جیسے اداروں سے ہزاروں نوجوان انجینئرز فارغ
التحصیل ہوتے ہیں۔ یہ نوجوان سافٹ ویئر انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ بہت سے پاکستانی انجینئر عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سافٹ ویئر منصوبوں میں حصہ لے رہے ہیں۔پاکستان کو ایک اہم آبادیاتی برتری بھی حاصل ہے۔ ملک میں بارہ کروڑ سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں جبکہ اسمارٹ فون کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ درحقیقت پاکستان ایک ایسی ڈیجیٹل سوسائٹی بن چکا ہے جو صرف ان پلیٹ فارمز کی منتظر ہے جو ہماری زبان بولیں، ہماری ثقافت کو سمجھیں اور ہمارے ڈیٹا کا تحفظ کریں۔ان حالات میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا اگر کوئی مقامی سرچ انجن، سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا میسجنگ ایپ تیار کی جائے تو وہ باآسانی لاکھوں صارفین تک فوری رسائی حاصل کر سکتی ہے۔دنیا کی مثالیں اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ چین نے اپنے سرچ انجنز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل خدمات کے ذریعے ایک ایسا ٹیکنالوجی ایکو سسٹم قائم کیا ہے جو نہ صرف مقامی طور پر مضبوط ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔پاکستان کو اسی ماڈل کی مکمل نقل کرنے کی ضرورت نہیں، مگر اس اصول کو ضرور سمجھنا ہوگا کہ ڈیجیٹل خودمختاری کسی بھی ملک کو معاشی اور اسٹریٹجک طاقت فراہم کرتی ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔سب سے پہلے مقامی جدت کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ جامعات، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور نوجوان کاروباری افراد کو مل کر ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تیار کرنے ہوں گے جو مقامی ضروریات کے مطابق ہوں۔دوسرا اہم قدم قومی سطح پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ قومی کلا¶ڈ سینٹرز اور ڈیٹا اسٹوریج میں سرمایہ کاری اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سرکاری، ادارہ جاتی اور ذاتی ڈیٹا ملک کی حدود کے اندر محفوظ رہے۔تیسرا مرحلہ تعلیم اور تحقیق کو وسعت دینا ہے۔ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور بگ ڈیٹا جیسے شعبوں میں تحقیق کو فروغ دے کر ایسی نئی نسل تیار کی جا سکتی ہے جو عالمی معیار کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔بالآخر پاکستان کو ایک ایسی قومی سوچ اپنانا ہوگی جو وقتی سہولت کے بجائے طویل المدتی جدت کو ترجیح دے۔ ہمیں صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی قوم سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی تخلیق کرنے، اس کی ملکیت رکھنے اور اسے محفوظ بنانے والی قوم بننا ہوگا۔ڈیجیٹل دنیا آنے والی دہائیوں کی سیاست، معیشت اور سلامتی کی سمت متعین کرے گی۔ جو قومیں صرف ٹیکنالوجی استعمال کریں گی وہ انحصار میں رہیں گی، جبکہ جو قومیں اسے خود تخلیق کریں گی وہ مستقبل کی قیادت کریں گی۔پاکستان نے حساس ترین میدانوں میں اپنی دفاعی صلاحیت پہلے ہی ثابت کر دی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا، ڈیجیٹل نظاموں اور قومی ڈیجیٹل تقدیر کے تحفظ کے لیے بھی اسی بصیرت اور عزم کا مظاہرہ کرے۔پاکستان کے تکنیکی مستقبل کی کہانی محرومی کی نہیں بلکہ صلاحیت، امکان اور وژن کی کہانی ہے۔ اگر ہم جرات کے ساتھ قدم بڑھائیں تو آنے والا باب پاکستانیوں کے ہاتھوں لکھا جائے گا پاکستان کے لیے بھی اور دنیا کے لیے بھی۔

Related Articles

Back to top button