
صرف ایک تاریخ نہیں، ایک تحریک ہے۔ یہ دن دنیا بھر کی خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ مگر جب ہم موجودہ اقتصادی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ دن محض تقریبات اور نعروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک سنجیدہ احتساب کا تقاضا کرتا ہے، ریاست سے بھی، معاشرے سے بھی اور ہم سب سے بھی۔آج ملک جن معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے، مہنگائی کی بے قابو لہر، روزگار کے محدود مواقع، بجلی و گیس کی بڑھتی قیمتیں، اشیائے خوردونوش کی ہوشربا مہنگائی،ان سب کا سب سے زیادہ بوجھ اگر کسی کے کندھوں پر ہے تو وہ ایک عام گھر کی عورت کے ہیں۔ وہی ماں جو محدود بجٹ میں گھر کا چولہا جلائے رکھتی ہے، وہی بہن جو اپنی ضروریات قربان کر کے بھائیوں کی تعلیم مکمل کرواتی ہے، وہی بیٹی جو خواب دیکھتی ہے مگر حالات کی دیواروں سے ٹکرا جاتی ہے۔اسی طرح معاشی عدم استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان بھی خواتین کی زندگیوں پر گہرے اثرات چھوڑ رہا ہے۔۔ کیا ہم نے واقعی خواتین کو فیصلہ سازی میں برابر کا شریک بنایا؟ کیا دیہی اور شہری خواتین کے مسائل کو یکساں سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے؟ کیا بیوہ، طلاق یافتہ اور محنت کش خواتین کے لیے کوئی مضبوط سماجی تحفظ کا نظام موجود ہے؟یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ موجودہ معاشی بحران میں خواتین کی ایک بڑی تعداد غیر رسمی شعبے میں کام کر رہی ہے، گھریلو ملازمت، سلائی کڑھائی، چھوٹے کاروبار، زراعت مگر نہ انہیں قانونی تحفظ حاصل ہے نہ ہی معاشی استحکام۔ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو ان کی اجرت نہیں بڑھتی، مگر اخراجات ضرور بڑھ جاتے ہیں۔ جب بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے خواتین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جاتا ہے۔آزادکشمیر کی موجودہ حکومت اس وقت خواتین کے مسائل حل کرنے میں اپنابھر پور قردار ادا کررہی ہے انشاء اللہ موجودہ حکومت اپنے وسائل کے مطابق خواتین کے مسائل حل کرے گی اور حل کرنے کے لیے کوشاں بھی ہے۔آٹھ مارچ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خواتین کا حقیقی بااختیار ہونا محض نعروں یا سوشل میڈیا مہمات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے مضبوط پالیسی سازی، تعلیم تک مساوی رسائی، صحت کی سہولیات، محفوظ ماحول اور معاشی مواقع کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ خواتین کی ترقی کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی ادھوری ہے۔یہ دن ان ماؤں کے نام جو بیٹوں کو سپاہی، استاد، ڈاکٹر اور رہنما بناتی ہیں مگر خود گمنام رہتی ہیں۔ یہ دن ان بیٹیوں کے نام جو خواب دیکھنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ یہ دن ان محنت کش عورتوں کے نام جو صبح سے شام تک رزقِ حلال کی جدوجہد میں مصروف رہتی ہیں۔ یہ دن ان سیاسی و سماجی کارکن خواتین کے نام جو دباؤ، تنقید اور رکاوٹوں کے باوجود سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہیں۔آج کے دن ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ خواتین کو محض ووٹ بینک نہیں، بلکہ پالیسی ساز سمجھا جائے۔معاشی اصلاحات میں خواتین کے لیے خصوصی پیکیجز اور بلاسود قرضہ اسکیمیں متعارف کروائی جائیں۔ اس سلسلے میں بھی وزیر اعظم آزادکشمیر کی حصوصی کوشش ہے کہکام کی جگہوں پر ہراسانی کے خلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور دیہی خواتین کے لیے ہنر مندی اور ڈیجیٹل تربیت کے مراکز قائم کیے جائیں۔یومِ خواتین ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ معاشرہ اس وقت تک متوازن نہیں ہو سکتا جب تک عورت کو عزت، تحفظ اور برابری کا مقام نہ ملے۔ موجودہ چیلنجز کے باوجود امید کا چراغ روشن ہے کیونکہ پاکستانی عورت مضبوط ہے، باہمت ہے، اور ہر آزمائش میں سرخرو ہو کر ابھری ہے۔آٹھ مارچ کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عورت کمزور نہیں، تبدیلی کی معمار ہے۔ اگر ہم نے اس کی آواز کو سن لیا، اس کے مسائل کو حل کر لیا اور اسے فیصلہ سازی میں حقیقی شراکت دے دی تو یہی دن ہماری اجتماعی ترقی کی نئی صبح بن سکتا ہے۔8اللہ تعالیٰ نے عورت کو چار روپ دئیے کبھی ماں،کبھی بیٹی،کبھی بہن،کبھی بیوی یعنی ھر روپ میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو خوبصورت بنایا۔8مارچ جہاں عورتوں کا عالمی دن ھے دنیا بھر میں عزت،مقام کے ساتھ خواتین کا یہ عالمی دن بڑے احترام کے ساتھ منایا جاتا ھے۔اس دن کی اہمیت قدروقیمت خواتین کے حقوق انکے مسائل اور معاشرے میں انکے مقام کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ھے۔حضرت محمدﷺنے عورتوں اور بچوں کا حکم ایک رکھا اس میں یہ بات واضع ھے کہ عورتوں کے ساتھ بچوں کی طرح نرمی کا رویہ اختیار کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مرد عورتوں پر نگہبان ہیں انکی ضروریات انکی حفاظت دیگر کئی امور پر مرد کو عورت پر فوقیت حاصل ھے۔آج کے دن ہمیں ہماری کشمیری ماؤں بہنوں کی قربانیوں کو یاد رکھنا ضروری ہے فلسطین و کشمیر کی خواتین کا بھی اتنا ہی حق ہی جتنا کسی دوسرے آزاد ملک کی خواتین کا لیکن افسوس کہ بھارت اور اسرائیلی فوج جہاں خواتین کے حقوق کو پامال کر رہی ہیں وہیں بچے بھی انکی بربریت کا شکار ہیں خواتین ملک و ملت کی ترقی میں ہمیشہ سے اہم کردار ادا کرتی آ رہی ہیں تا ہم ہمیں چائیے کہ ہم انہیں برابر کے مواقعے فراہم کریں تا کہ یہ ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنی خدمات سر انجام دے سکیں۔ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کی خواتین بہادری سے جبر و ظلم کا مقابلہ کر رہی ہیں‘ قابض فورسز کی جانب سے بچوں اور خواتین کے حقوق پائمال کئے جارہے ہیں اور انہیں وحشیانہ مطالم کا نشانہ بنایا جاتاہے لیکن اس جبر واستبدادکے باوجود بہادر و باہمت خواتین ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں۔ مہذب عالمی برادری فلسطین اور کشمیر میں خواتین کے استحصال اور مظالم کا نوٹس لینا چائیے اور مقبوضہ کشمیرمیں خواتین کو تحفظ فراہم کیاجائے،فلسطین میں فوری جنگ بندی کرائی جائے اور مقبوضہ کشمیر میں خواتین کو تحفظ فراہم کیا جائے خواتین کو اسلام نے جوحقوق دئیے ہیں، اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی، نام نہاد روشن خیالی اسلامی تعلیمات کا متبادل نہیں ہو سکتی۔اسلا م نے خواتین کو جو وقار اور عزت بخشی ہے اس کا نام نہاد مغربی روشن خیالی سے کوئی مقابلہ نہیں، بدقسمتی سے پاکستانی خواتین کے حقوق پامال کرنے کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگنڈہ کرکے ملک کا روشن چہرہ مسخ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور آزادی نسواں کے نام پر نئی نسل کو دین اسلام سے دور کرنے کی ساشیں کی جارہی ہیں،بحیثیت قوم ہمیں ان مسائل کا ادراک کرتے ہوئے دینی تعلیمات کے مطابق اپنی اولاد کی تربیت کرنا ہوگی، سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے بے حیائی کے سیلاب کے آگے بھی بند باندھنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم نے مادرپدر آزادمعاشرہ کی حوصلہ شکنی نہ کی تو آنے والے دور میں ہم نسلِ نو کے مجرم ہوں گے۔


