
موجودہ دور میں جنوبی اور مغربی ایشیا کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں، افغانستان میں طالبان حکومت کا ردعمل، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توانائی بحران جیسے عوامل خطے کی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان نے ایک طرف اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں تو دوسری جانب سفارتی سطح پر امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کی پالیسی اختیار کی ہے۔
پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں نے افغانستان میں موجود طالبان حکومت کو واضح دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آپریشن“غضب للحق”کے بعد افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں تاکہ اصل صورتحال دنیا کے سامنے نہ آسکے۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکام نے صحافیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ پاکستان کی فضائی کارروائیوں یا طالبان کے فوجی مراکز پر ہونے والے حملوں کے بارے میں کوئی خبر نشر نہ کریں۔ اس کے علاوہ میڈیا کو حملوں کے مقامات اور ممکنہ نقصانات کی تفصیلات بیان کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میڈیا پر یہ سخت قدغن اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہونے دیا گیا۔ پاکستان کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں نے نہ صرف ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا بلکہ اس پالیسی کی حقیقت بھی بے نقاب کر دی جس کے باعث سرحدی سلامتی کو خطرات لاحق تھے۔ مبصرین کے مطابق طالبان کی جانب سے میڈیا کو خاموش کرانے کی کوشش دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سچ کے سامنے آنے سے خوفزدہ ہیں اور پاکستان کی کارروائیوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان نے ایک متوازن، ذمہ دارانہ اور اصولی مؤقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان کا موقف صرف بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور مسلم اُمت کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان کسی بھی قسم کی لڑائی یا تصادم قابلِ قبول نہیں، اسی لیے فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور امن کے راستے کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو غیر ضروری اور خطرناک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی پاکستان نے ایران کو ایک ہمسایہ اور مسلمان ملک کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے دفاع کے حق کا احترام بھی کیا، تاہم اس بات پر بھی زور دیا کہ عسکری تصادم خطے کے امن کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے سفارتی رابطوں کو تیز کرتے ہوئے خطے میں ثالثی کی کوششیں بھی کیں اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کی کوشش کی تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے اور خطہ کسی نئی جنگ کی طرف نہ جائے۔
پاکستان نے اپنے دفاعی معاہدوں خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی وضاحت کی کہ وہ اپنے معاہدوں کا احترام کرتا ہے، تاہم وہ کسی جنگ میں براہِ راست شامل ہونے کے بجائے کشیدگی کم کرنے اور امن کو فروغ دینے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ یہ مؤقف دراصل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس میں ہمیشہ مسلم اُمت کے اتحاد، بھائی چارے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی خصوصاً ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کے باعث توانائی کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی بڑی توانائی ضروریات بیرونی منڈیوں سے پوری کرتے ہیں، اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی زیادہ تر پیٹرول، ڈیزل اور ایل این جی کی ضروریات خلیجی ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں اور اگر اہم سمندری راستوں جیسے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی دوران قطر کی جانب سے کچھ ایل این جی کارگو کی فراہمی میں بھی عارضی خلل کی اطلاعات سامنے آئیں تاہم حکام نے اسے توانائی مینجمنٹ کے ذریعے قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔
ان حالات کے پیش نظر حکومت نے توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور بعض دفاتر میں ورچوئل کلاسز اور ورک فرام ہوم کے نظام کو فروغ دینے کی تجاویز سامنے آئیں تاکہ ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے۔ اسی طرح غیر ضروری سفر کو محدود کرنے کے لیے مختلف انتظامی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے مختلف ممالک کے ساتھ توانائی اور تجارتی مذاکرات کو بھی تیز کیا ہے جبکہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی توانائی کے متبادل ذرائع کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
اس کے علاوہ حکومت نے متبادل توانائی ذرائع جیسے کوئلہ، معدنیات، سولر اور ونڈ انرجی منصوبوں پر توجہ بڑھائی ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں تنوع پیدا کیا جا سکے اور کسی ایک سپلائی چین پر انحصار کم ہو۔ تیل اور گیس کی ترسیل کو بہتر بنانے کے لیے قومی شپنگ کارپوریشن کو فعال رکھا گیا ہے تاکہ درآمدی سامان کی بروقت فراہمی ممکن ہو سکے۔ ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی نگرانی اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک قومی حکمتِ عملی بھی ترتیب دی گئی ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کو روکا جا سکے۔
موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں پاکستان کو بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہیں، دوسری جانب افغانستان کی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی توانائی بحران جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ ان تمام حالات میں پاکستان نے ایک متوازن حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر امن، مذاکرات اور مسلم اُمت کے اتحاد کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور متبادل ذرائع پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ تمام اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی پالیسی حقیقت پسندانہ سوچ، علاقائی استحکام اور قومی مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے اور موجودہ عالمی حالات میں یہی حکمتِ عملی نہ صرف پاکستان کے داخلی استحکام بلکہ پورے خطے میں امن اور توازن کے قیام کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔



