کالمزمظفرآباد

مشین کا دور اور انسان کی تلاش: کیا جدید مینجمنٹ اپنا راستہ کھو چکی ہے؟

تحریر: حفصہ اقبال

ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی تو 2026 کی ہے لیکن انتظامی ڈھانچے (Management Structures) اب بھی پچھلی صدی کی باقیات معلوم ہوتے ہیں۔ آج جب ہم اپنے گھروں یا جدید دفاتر میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں، تو ایک خاموش سوال ہمیں مسلسل جھنجھوڑتا ہے: کیا ہم انسانوں کو مینیج کر رہے ہیں یا صرف ڈیٹا کے ہندسوں کو؟ اس سوال کا جواب ان نظریات میں چھپا ہے جو آج بھی ہماری کارپوریٹ دنیا کی بنیاد ہیں۔ڈیجیٹل ٹیلر ازم (Digital Taylorism)
ایک صدی قبل فریڈرک ٹیلر نے ‘سائنسی انتظام’ کا نظریہ پیش کیا تھا، جس کا مقصد انسان کو مشین کی طرح کارآمد بنانا تھا۔ آج ٹیلر ازم ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے ”ڈیجیٹل روپ” دھار لیا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے اس دور میں، ہر کلک اور ہر سیکنڈ پر نظر رکھی جاتی ہے۔ لیکن انسانی حقیقت یہ ہے کہ AI عمل کو تو بہتر بنا سکتا ہے، مگر وہ انسانی جذبے اور تخلیق کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم انسانوں کو صرف بائیولوجیکل پروسیسر سمجھیں گے، تو ہم وہ تخلیقی صلاحیت کھو دیں گے جو کسی بھی ادارے کی اصل روح ہوتی ہے۔بیوروکریسی: ترقی کی راہ میں رکاوٹ؟میکس ویبر کا پیش کردہ ‘بیوروکریسی’ کا تصور کبھی انصاف اور میرٹ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشتوں میں یہ نظام اکثر ایک بوجھ بن چکا ہے۔ سخت ضابطے اور طویل فائل ورک تخلیقی سوچ (Innovation) کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بیوروکریسی کو رکاوٹ کے بجائے ایک شفاف بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ مقامی مسائل کا فوری اور لچکدار حل نکالا جا سکے۔ہیومن ریلیشنز: کیا صرف ہمدردی کافی ہے؟
‘ہیومن ریلیشنز تھیوری’ نے ہمیں سکھایا کہ ملازم صرف کام کرنے والے ہاتھ نہیں بلکہ دھڑکتے دل بھی رکھتے ہیں۔ لیکن آج کے ہائبرڈ (Hybrid) دور میں، جہاں آدھا کام گھر سے اور آدھا دفتر سے ہوتا ہے، کیا صرف ایک ‘زوم میٹنگ’ یا سالانہ تقریب کافی ہے؟ شاید نہیں۔ آج کے ملازم کو محض ہمدردی نہیں بلکہ ‘تعلق’ اور ‘ذہنی تحفظ’ کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسے”ٹیکنو-ہیومنسٹ” رویے کی ضرورت ہے جہاں ٹیکنالوجی کی رفتار اور انسانی جذبوں کا توازن برقرار رہے۔کونٹینجنسی تھیوری: حالات کے مطابق فیصلہ
گزشتہ دہائیوں کے مالیاتی بحرانوں نے ثابت کیا کہ انتظام کاری کا کوئی ایک طے شدہ فارمولا نہیں ہے۔ ‘کونٹینجنسی تھیوری’ (Contingency Theory) ہمیں سکھاتی ہے کہ بہترین لیڈر وہی ہے جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال لے۔ یہ ایک خالص انسانی نظریہ ہے کیونکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ ہمارے پاس ہر مسئلے کا پہلے سے موجود حل نہیں ہوتا۔ ایک کامیاب مینیجر وہی ہے جو مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھ کر اپنی سمت تبدیل کرنے کی جرات رکھتا ہو۔اسلامی نظامِ انتظام: مغرب سے آگے کی سوچطویل عرصے تک مینجمنٹ کو صرف مغربی عینک سے دیکھا گیا۔ لیکن اب دنیا کی نظریں متبادل نظریات پر ہیں۔ اسلامی فلسفہِ انتظام میں ‘امانت’ اور ‘عدل’ جیسے تصورات محض الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ اخلاق ہیں۔ یہ نظریہ کاروبار کو صرف منافع کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری اور امانت سمجھتا ہے۔ جب دنیا اخلاقی بحران کا شکار ہے، تو یہ اصول ایک پائیدار اور منصفانہ کاروباری نظام کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔حرفِ آخر
مینجمنٹ اب صرف ”حکم دینے” کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک فن ہے—انسانوں اور مشینوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کا فن۔ ہمارا مقصد صرف بہتر مصنوعات بنانا نہیں، بلکہ ایسے ادارے تشکیل دینا ہونا چاہیے جہاں انسان کی قدر اس کی کارکردگی سے زیادہ اس کی شخصیت کی بنیاد پر ہو۔
حفصہ اقبال بزنس ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ ہیں اور اس وقت MS Human Resources (HR) کر رہی ہیں۔ ان کی تحقیق کا خاص محور قدیم انتظامی نظریات اور جدید دور کے ڈیجیٹل چیلنجز کا ملاپ ہے۔ وہ کام کی جگہوں کو ”انسانی رنگ” دینے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں اخلاقی قیادت کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔

Related Articles

Back to top button