کالمزمظفرآباد

دنیا کے دو خطرناک تصورات: گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت

تحریر: سردار عبدالخالق وصی

دنیا اس وقت ایک نہایت حساس اور نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ عالمی امن کو لاحق خطرات صرف جدید ہتھیاروں، میزائلوں یا ایٹمی قوت تک محدود نہیں رہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک وہ نظریاتی تصورات ہیں جو تاریخ، مذہب یا قوم پرستی کے نام پر جغرافیائی توسیع کے خواب دیکھتے ہیں۔ ایسے نظریات نہ صرف عالمی قوانین کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ ریاستی خودمختاری، سرحدوں کے احترام اور اقوام کے درمیان باہمی اعتماد کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں دو ایسے تصورات خاص طور پر نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں جو اپنے اپنے خطوں کے امن کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔ ایک اسرائیل میں پروان چڑھنے والا گریٹر اسرائیل کا تصور ہے اور دوسرا بھارت میں ابھرنے والا اکھنڈ بھارت کا نظریہ۔ یہ دونوں تصورات دراصل جغرافیائی توسیع اور سیاسی بالادستی کے خواب ہیں جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
گریٹر اسرائیل کا تصور بنیادی طور پر بائبل کی بعض تشریحات سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق مبینہ ”وعدہ شدہ سرزمین” دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس تصور کے حامیوں کے نزدیک موجودہ اسرائیل کے علاوہ فلسطین، اردن، لبنان، شام، عراق کے بڑے حصے اور مصر کے بعض علاقے بھی اس تاریخی سرزمین کا حصہ تصور کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی ریاست سرکاری سطح پر اس نظریے کو اپنی واضح پالیسی کے طور پر پیش نہیں کرتی، لیکن اسرائیلی سیاست کے اندر موجود انتہا پسند اور مذہبی قوم پرست حلقے اس تصور کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
گزشتہ چند دہائیوں میں اسرائیلی سیاست میں مذہبی قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے اس نظریے کو مزید تقویت دی ہے۔ خاص طور پر وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے دورِ حکومت میں اسرائیل کی پالیسیوں میں جارحانہ رجحان زیادہ واضح ہو کر سامنے آیا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں مسلسل نئی یہودی بستیوں کی تعمیر، غزہ پر تباہ کن فوجی کارروائیاں، لبنان اور شام کی سرحدوں پر کشیدگی اور خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوششیں اسی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی سیاست میں مذہبی جذبات اور عسکری طاقت کا ایک ایسا امتزاج دکھائی دیتا ہے جو اسرائیل کو محض ایک ریاست کے بجائے ایک مذہبی و تاریخی مشن کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہی سوچ مشرق وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں جنگی ماحول بھی اسی وسیع تر تناظر کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اس کے خلاف عسکری کارروائیوں کی باتیں دراصل مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کرنے کی کوششوں کی علامت ہیں۔ اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو پورا خطہ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے سکتے ہیں۔
دوسری جانب جنوبی ایشیا میں اکھنڈ بھارت کا نظریہ بھی اسی نوعیت کا ایک توسیع پسندانہ تصور ہے۔ اس نظریے کے مطابق برصغیر کی تقسیم ایک تاریخی غلطی تھی اور پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا سمیت پورا خطہ دوبارہ ایک متحد ہندوستان کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ تصور بنیادی طور پر ہندو قوم پرست تنظیموں اور نظریاتی حلقوں میں فروغ پاتا رہا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں اسے سیاسی سطح پر بھی غیر معمولی تقویت حاصل ہوئی ہے۔
بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندرا مودی کے دور میں ہندو قوم پرستی کو جس انداز میں ریاستی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے اس نے اس نظریے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ، ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحانہ سفارتی اور عسکری رویہ، اور جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالادستی قائم کرنے کی کوششیں اسی سوچ کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ بھارتی میڈیا اور بعض انتہا پسند حلقوں میں اکھنڈ بھارت کے نقشے کھلے عام نشر کیے جاتے ہیں جن میں پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی بھارت کا حصہ دکھایا جاتا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔
گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کے نظریات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں نظریات تاریخی یا مذہبی دعوؤں کی بنیاد پر موجودہ جغرافیائی سرحدوں کو غیر فطری قرار دیتے ہیں۔ دونوں اپنے ہمسایہ ممالک کو شک اور دشمنی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دونوں اپنے عسکری اور سیاسی غلبے کو خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ وہی ذہنیت ہے جس نے ماضی میں دنیا کو تباہ کن جنگوں کی طرف دھکیلا تھا۔ یورپ میں نازی جرمنی کے توسیع پسندانہ نظریے نے بھی ابتدا میں اسی طرح کے دعووں کے ساتھ جنم لیا تھا، لیکن بالآخر اس نے پوری دنیا کو دوسری عالمی جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔
ان دونوں نظریات میں پاکستان کو بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ہدف بنایا جاتا ہے۔ اکھنڈ بھارت کے تصور میں پاکستان کو ایک عارضی ریاست قرار دے کر اسے مستقبل کے متحد ہندوستان کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی تجزیاتی حلقوں میں پاکستان کی جوہری صلاحیت کو اکثر تشویش کا باعث قرار دیا جاتا ہے اور بعض حلقے اسے مستقبل کے ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
تاہم پاکستان کا موقف نہایت واضح اور اصولی ہے۔ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت یا توسیع پسندی کا قائل نہیں۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا بنیادی مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان کی جوہری پالیسی ”کریڈیبل منیمم ڈیٹرنس” کے اصول پر قائم ہے جس کا مقصد کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنا اور خطے میں امن کو برقرار رکھنا ہے۔
پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت متعدد مواقع پر اس موقف کو واضح کر چکی ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو عملی شکل دینے والے قومی قائد اور تین بار کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، موجودہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف، وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر یہ واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی قوت جنگ کے لیے نہیں بلکہ امن کے تحفظ کے لیے ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت صرف ایٹمی قوت تک محدود نہیں بلکہ اس کی مسلح افواج روایتی جنگی صلاحیتوں میں بھی بھرپور استعداد رکھتی ہیں۔ گزشتہ برس بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی عسکری تیاری اور قومی اتحاد نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کسی بھی مہم جوئی کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اس کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا، پاکستانی قوم اور افواج نے متحد ہو کر اس کا جواب دیا۔ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے لیکن امن کو کمزوری سمجھنے والوں کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ یہ قوم اپنے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آج عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان توسیع پسندانہ نظریات کی حوصلہ شکنی کرے۔ عالمی امن اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک طاقتور ممالک تاریخی یا مذہبی دعوؤں کی بنیاد پر نئی سرحدیں بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل، کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کے تنازعات کا پرامن تصفیہ اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ہی دنیا کو ایک نئے بحران سے بچا سکتا ہے۔
اگر عالمی طاقتیں انصاف اور اصولوں پر قائم رہیں تو گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت جیسے تصورات محض سیاسی نعروں تک محدود رہ جائیں گے۔ لیکن اگر انہیں نظر انداز کیا گیا تو یہ نظریات نہ صرف مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
تاریخ کا سبق بالکل واضح ہے: توسیع پسندی ہمیشہ جنگ کو جنم دیتی ہے جبکہ انصاف، احترام اور باہمی تعاون ہی پائیدار امن کی حقیقی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ دنیا کو اگر ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل کی طرف بڑھنا ہے تو اسے طاقت کی سیاست کے بجائے انصاف اور عالمی قوانین کے احترام کو اپنی بنیاد بنانا ہوگا۔

Related Articles

Back to top button