مظفرآباد

مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے مفادات، جنوبی ایشیاء کے مستقبل کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں،سردارعتیق

بھمبر(بیورورپورٹ)صدرمسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان کا بھمبر میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام کشمیر بنے گا پاکستان ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج ہم قائداعظم محمد علی جناح اور تحریک پاکستان کے سارے قائدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔قائداعظم کی مومنانہ فراست اور ولولہ انگیز قیادت سے پاکستان معرض وجود میں آیا۔ قائداعظم کی مومنانہ فراست پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ قائداعظم کے بتائے ہوئے اصولوں کو رہنما اصول بنائیں گے۔ قائداعظم نے پورے ہندوستان میں مسلم لیگ بنائی جبکہ ریاست جموں وکشمیر میں مسلم لیگ کو اپنی جماعت قرار دیا۔ قائد اعظم نے سری نگر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمت ہے وہ قوم جسکی قیادت چوہدری غلام عباس کررہے ہیں۔ قائداعظم نے چوہدری غلام عباس کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کیا۔ان شاء اللہ مسلم کانفرنس اس رشتے کو قائم رکھے گی۔ مسلم کانفرنس مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے مفادات اور جنوبی ایشیا کے مستقبل کے نقطہ نظر سے دیکھتی ہے۔ مسئلہ کشمیر پاکستان کے دفاع اور سلامتی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔پاکستان کے دفاع اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ جموں و کشمیر کے عوام خوش قسمت ہیں کہ قدرت ان سے 25کروڑ اہل پاکستان کی حفاظت کا کام لے رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے پرامن مذاکراتی حل کے بغیر جنوبی ایشیا کے مستقبل کو محفوظ نہیں کیا جاسکتا۔ خودمختار کشمیر کا نظریہ آزادی ہند کے اصولوں سے متصادم ہے۔ کشمیر کے کسی ایک حصے کی خودمختاری تقسیم ہند کے اصولوں سے انحراف ہے۔ خود مختاری کا منصوبہ آزادی ہند کے اصولوں کی نفی ہے۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی تقسیم کشمیر کی سازشوں کا آغاز کردیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد تقسیم کشمیر کی کاوشوں میں اضافہ ہوا۔ تقسیم کشمیر کا اصل منصوبہ ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ شملہ معاہدے سے مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ شملہ معاہدے سے بین الاقوامی مسئلہ دوطرفہ مسئلہ بن گیا۔ذوالفقار علی بھٹو کے اسرار کے باوجود مجاہد اول نے شملہ معاہدے میں ساتھ جانے سے انکار کیا۔ آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی سے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا۔معرکہ حق میں کامیابی کے بعد پوری دنیا میں مسلح افواج پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا یے۔ اس کی واضح مثال پاک سعودی دفاعی معاہدہ ہے۔بنگلہ دیش سیمت دنیا کے مختلف ممالک بھی آنے والے وقتوں میں پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کریں گے۔جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والے ہر خطرے کا موثر علاج پاکستان کا مضبوط دفاع ہے۔ مسلح افواج پاکستان جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والے خطرات کا موثر علاج ہے۔ پاکستان اور مسلح افواج پاکستان کی سہولت کاری ہمارے لیے قابل فخر ہے۔ورکرکنونشن سے سابق صدرمسلم کانفرنس مرزامحمدشفیق احمد جرال ایڈووکیٹ،سیکرٹری جنرل محترمہ مہرالنساء، نائب صدرمسلم کانفرنس راجہ ظفر معروف راجہ طاہراقبال چوہدری شوکت علی،چوہدری حضر حیات کے وعلاوہ مسلم کانفرنس کے عہدیداران نے خطاب کیا۔

Related Articles

Back to top button