کالمز

فلسطین ß اسرائیل کا 1967 کی پوزیشن پر دو ریاستی حل واحد اپشن ہے!

قارئین کے فون آ رہے ہیں کہ 2 ارب مسلمانوں کے 2026ئ کے مسلمہ ہیرو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید معہ دیگر ٹاپ براس کے حوالے سے کالم لکھوں۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم شائع شدہ روزنامہ ’’صبح نو مظفرآباد‘‘ اور روزنامہ ’’دومیل مظفرآباد‘‘ مورخہ 22 جون 2025 ئ کا ملاحظہ کرنے کے بعد صرف اتنے اضافہ کے ساتھ دوبارہ شائع کرانے کا فیصلہ کیا کہ مسلم ممالک کو دشمنوں کی پراکسی بننے اور اپنے ممالک سے ان کے اڈے ختم کرانے و سلامتی و بقا اور عزت کی زندگی کے لئے تمام تر اختلافات ایک طرف رکھتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ شائع شدہ کالم دوبارہ نظر قارئین ہے۔ 07-03-2026
’’اسرائیل کے قیام (1948) ئ سے قبل ریاست فلسطین میں یہودی آبادی 6 فیصد سے زائد نہ تھی مگر ایک عالمی سازش کے تحت دنیا بھر سے یہودیوں کو اکٹھا کر کے اور فلسطین کے بڑے علاقہ پر ان کا قبضہ کروا کر طاقت کے بل بوتے اسرائیل قائم کر دیا گیا۔ گویا اسرائیل فلسطینیوں کی سرزمین پر قائم ہے جو بدمعاشی سے اپنا ناجائز وجود قائم رکھنے کے لئے فلسطینیوں، ایران اور اہل عرب کو اپنے حلیفوں خصوصاً امریکہ سے مل کر طاقت کے ذریعے دبائے رکھنا چاہتا ہے۔ فی الوقت غزہ ، یمن اور ایران کے ساتھ اسرائیل کی جنگ اسی تناظر میں ہے مگر حالیہ جنگ میں اسرائیل کے پائوں اکھڑ چکے ہیں۔ دنیا کو حقیقت پسند ہونا چاہیے۔ کسی کو بھی زمین پر فرعون یا خدا بننے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے درست کہا ہے کہ ’’دنیا اب امریکہ کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے‘‘۔
اس وقت ایران ہی وہ واحد اسلامی ملک ہے جو اسرائیل کے مظالم کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے۔ ایران میں رضا شاہ پہلوی کے زوال کے بعد 1979ئ سے پاسداران انقلاب کی حکومت ہے۔ رضا شاہ پہلوی نے امریکہ کی اشیرباد سے امام خیمنی کو 1964ئ میں جلا وطن کر دیا تھا جو ایک سال تک ترکیہ اور پھر 13 سال تک عراق میں رہے۔ 1978 ئ میں عراق کے صدر صدام حسین نے رضا شاہ پہلوی ، امریکہ و دیگر یورپی ممالک کے دبائو میں امام خیمنی کی جلا وطنی کو توسیع نہ دیتے ہوئے انہیں عراق چھوڑنے کا کہا تو موصوف اکتوبر 1978ئ تا جنوری 1979ئ Visit Visa پر فرانس میں رہے جہاں سے اپنی انقلابی جدوجہد کے نتیجے میں 16 جنوری 1979ئ کو رضا شاہ پہلوی کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا اور یکم فروری 1979ئ کو امام خمینی کے جہاز نے ایران میں لینڈ کیا۔ اس طرح ولایت فقہی کے جھنڈے تلے ایران میں اسلامی انقلاب آ گیا جس کے 46 سال پورے ہو چکے ہیں مگر ایران کو شدید نا انصافیوں ß پابندیوں کا سامنا ہے۔
اسرائیل نے اپنے جاسوسی نیٹ ورک کے ذریعے ایران کے اندر ہی اس پر حملے کی تیاری کی اور 13 جون 2025ئ کو IAEA کی منیجڈ رپورٹ یہ کہ ’’ایران ایٹم بم بنانے کے قریب تر ہے ‘‘ کو ماضی میں عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں ß مواد کا جھوٹے جواز کی طرز پر ایران پر اس نیٹ ورک اور بڑی تعداد میں جنگی طیاروں کے ذریعے حملہ کر کے اس کے درجن بھر ایٹمی سائنسدانوں اور جرنیلوں و متعدد سویلینز کو شہید کر دیا۔ (غیر مسلم مرتا ہے جبکہ مسلم شہید ہو کر امر ہو جاتا ہے)۔ اب تک شہادتوں کی تعداد 250 کے قریب اور زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ اہم تنصیبات اور اٹامک ریسرچ سنٹرز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایران نے ’’وعدہ صادق سوئم‘‘ کے نیچے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ بھرپور جوابی حملوں کے ذریعے اسرائیل کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق ایران کے اندر اسرائیل کا جاسوسی نیٹ ورک اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور انڈین انٹیلی جنس ایجنسی را کے جائنٹ ونچر کے طور پر قائم تھا جبکہ بظاہر انڈیا ایران کا دوست سمجھا جاتا ہے ۔ ایران نے چابہار بندرگاہ بمقابلہ گوادر اس تناظر میں انڈیا کو غالباً 10 سالہ کنٹریکٹ پر دے رکھی ہے۔ یہ کنٹریکٹ اب ختم ہو جانا چاہیے۔ اس نیٹ ورک کے 70 سے زائد گرفتار کرداروں میں سے 60 سے زائد انڈین رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایران ۔ اسرائیل کا ہوائی فاصلہ تقریباً 2000 کلومیٹر ہے۔ پاکستان کے ساتھ ایران کی 900 کلومیٹر کی سرحد ہے ظاہر ہے اسرائیل، ایران جنگ کے اثرات پاکستان میں بھی پڑیں گے۔ اسرائیل کی 4 بندرگاہیں اور 3 ہوائی اڈے ہیں۔
اب امریکہ اور خصوصاً جی 7- کے دیگر ممالک چاہتے ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان سیز فائر اور جوہری پیکٹ کے لئے کوئی معاہدہ ß ڈیل ہو جائے جس میں ایران کو بہت احتیاط کی ضرور ت ہو گی۔
ابراہم لنکن 1861ئ تا 1865ئ کے دوران امریکہ کے پاپولر صدر نے امریکہ میں غلامی (Slavery) پر پابندی لگائی تو اس کی جنوبی ریاستوں نے صدر کے اس اقدام کی شدید مخالفت کے بعد "Confedrate States of America” کی تشکیل کر کے اپنے وفود کے ذریعے صدر کو مذاکرات ß صلح نامہ کی دعوت دی۔ شمالی ریاستوں پر ابراہم لنکن کا کنٹرول تھا۔ انہوں نے مذاکرات کی پیشکش یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ ’’اس طرح کا عمل باغیوں کو تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا‘‘۔ اس موقع پر قوم سے 272 الفاظ میں خطاب کیا کہ ’’اس جنگ میں مرنے والے بہادروں کی جانیں ضائع نہیں ہوں گی اور یہ قوم خدا کی منشائ سے آزادی کا نیا جنم لے گی‘‘۔ لنکن اس تقریر پر امر ہو گئے۔ باغیوں کے ساتھ جنگ ہوئی 7 لاکھ سے زائد جانیںگئیں۔ باغیوں نے ہتھیار ڈالے اور امریکہ متحد ہو گیا جو آج دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ اس طرح 19 نومبر 1863ئ کی ابراہم لنکن کی 272 الفاظ کی یہ تقریر امریکہ کے لئے Defining Movement ثابت ہوئی۔ دنیا کے 2 ارب مسلمانو اپنی 57 ریاستوں سمیت زندوں کی طرح جیو اور ظلم کے آگے ڈٹ جائو۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کو بھی آزاد کرائو اور دنیا کی رہبری کرنے والوں کو بھی اسرائیل کو ہلاشیری اور دھمکیوں کے سائے میں ایران کو دبانے کی بجائے صلح حدیبیہ کے مصداق دو ریاستی حل کے ذریعے ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے اصول پر چلائو۔ اس وقت ایران میں رجیم چینج کی سازشوں کا اسلامی ممالک کو مل کر مقابلہ کرنا ہو گا اور اپنے مقاصدکے حصول تک اسرائیل اور اس کے بڑے حلیف ہندوستان سے ہر قسم کی تجارتی و سفارتی تعلقات کو معطل کرنا ہو گا۔ اس وقت دیگر انسانیت پسند ممالک کی طرح روس اور چین کے بھی امتحان کا وقت ہے۔ ان ممالک کو بھی چاہیے کہ دنیا میں Power Balance کے لئے ایران کی کھل کر پشتیبانی کریں۔ امن سے اچھی کوئی چیز نہیں مگر جنگ بندی کا معاہدہ ایران و اسرائیل کی بجائے بالواسطہ اور اصولوں پر ہونا چاہیے۔ امریکہ کو بھی عالمی رول کے تحت غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایران کو دھمکیوں کے تحت مذاکرات کی پیشکش نہیں کرنی چاہیے۔ مسئلہ کا واحد حل 1967 کی پوزیشن پر فلسطین ß اسرائیل 2 ریاستی حل اور ایران و دیگر عرب ممالک کے ساتھ Co-existance کی منصفانہ پالیسی کو اپنانے میں ہے۔
میری رائے میں اگر طاقت کے نشے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو پھر وہ دشمنوں کے لئے 21 ویں صدی کے ’’حسینؓ‘‘ ثابت ہوں گے۔ ایسی غلطی ہر گز نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ امام خامنہ ای اور اہل غزہ و ایران کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

Related Articles

Back to top button