کالمزمظفرآباد

”مظفرآباد کی قدیم ثقافتی روایت۔۔۔حضرت سائیں سخی سہیلی سرکار کا عُرس“

تحریر: عدنان رشید ملک

ہمارے شہر مظفرآباد کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار خوبیوں قدرتی نعمتوں اور قدیم روایات سے نواز رکھا ہے۔یہاں کے رہائشی بڑے اچھے اوصاف کے مالک ہیں وہ سبھی باقاعدہ رسوم و رواج کے پابند اور روایت پسندی کواپنا شعار سمجھتے ہیں۔یہ اپنی دینی اور مذہبی، سماجی و معاشرتی،ثقافتی و تہذیبی روایات کو اپنی طرز زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں اور تمام تر معاشرتی رویوں کے ساتھ منسلک رہتے ہیں۔انہوں نے اپنی اقدار اور روایات کو ہمیشہ سے زندہ رکھا ہے۔چنانچہ انہی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے ہم ہر سال شہر میں جنوری کے ماہ میں بزرگ سائیں سخی سہیلی سرکار کا عُرس بڑے جوش و خروش اور عقیدت اور احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔حسبِ روایت امسال بھی آج کل شہر میں عُرس کی رو نقیں عروج پر ہیں خاص کر ان کے مذار کے قرب و جوار میں چمک دمک،چہل پہل اور زیبائش و آرائش ہر طرف نظر آ رہی ہے۔لوگ جوق در جوق مزار شریف پر حاضر دینے کے لیے کھنچے چلے آ رہے ہیں۔اب کی بار تو کافی عرصہ کے بعد یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ مزار کے قریب ہی چھوٹی چھوٹی دُکانیں بھی سجائی گئی ہیں جہاں پر لوگوں کی تفریح و طبع کے لیے مختلف اشیاء رکھی گئی ہیں مرد و خواتین بچے اور بوڑھے سبھی ان کے گرد گھومتے پھرتے ہیں۔خرید و فروخت میں دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں ان دُکانوں پر پنجاب کے ثقافتی میلوں ٹھیلوں کی طرح مختلف قسم کے مٹی کے برتن بچوں کے کھلونے اور خواتین کے لیے مٹی کے بنے زیورات نمایاں کشش رکھتے ہیں۔خرد و نوش کی دُکانیں الگ سے سجھائی گئی ہیں ان میں سب سے مرغوب اور من بھاتا”چپل کباب“ ہوتا ہے۔لوگ ان دُکانوں پر بڑی رغبت سے کباب روٹی سے لطف اٹھاتے ہیں۔اگرچہ ٹریفک کا بے ہنگم نظام تو موجود ہی ہے لیکن اس بار یہ فرق ضرور محسوس ہو رہا ہے کہ یہاں سے کچہری کے دفاتر منتقل کرنے سے ٹریفک کی روانی میں کوئی خلل نظر نہیں آتا۔میلوں ٹھیلوں پر ہجوم کا موجود ہونا ایک قدرتی امر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری انتظامیہ کو بھی چوکس رہنے کی بھی ضرورت ہے وہ بھی ٹریفک کے نظام کو پوری طرح بحال رکھنے میں مستعدی کا مظاہرہ کرتے رہیں تو یہ چند دن بغیر کسی رکاوٹ کے ہنسی خوشی گزر جائیں گے۔اور عُرس کی سرگرمیاں بھی کسی قسم کے تعطل کا شکار نہیں ہوں گی۔
حضرت سائیں سخی سہیلی سرکار کا اصلی نام سید شاہ ذوالفقار اور بعض کے مطابق سید غلام حمد شاہ ہے جبکہ وجہ شہرت سائیں سہیلی سرکار ہے آپ کا تعلق سادات ملتان سے تھا جو بعد میں گجرات منتقل ہو گئے۔ آپ کی ولادت گجرات میں ہوئی اور بچپن بھی وہیں گزارا۔ وہاں سے سید کسریٰ چلے گئے جب ہوش سنبھالا تو ریاضت و مجاہدہ کیلئے راولپنڈی، مانسہرہ، حویلیاں، ایبٹ آباد، حسن ابدال، نجیب اللہ اور ہری پور میں ٹھہرے۔ ہری پور میں ہی قیام کے دوران ایک بزرگ ہستی سید شیخ حیدر شاہؒ کے ساتھ منسلک رہے اُس کے بعد سہون شریف چلہ کشی کیلئے تشریف لے گئے۔ اُن کی مظفرآباد آمد 1890ء میں ہوئی جبکہ اُن کے 10سال تک آپ حیات رہے اور وصال 1900ء میں ہوا۔ سہیلی کی وجہ تسمیہ آپ مردوں کو ”اڑیا“ اور عورتوں کو ”سہیلی“ کہہ کر بلاتے تو لوگوں نے انہیں ”سائیں اڑیا“ اور بعض نے ”سائیں سہیلی“ کہنا شروع کر دیا۔ اِس طرح بعد میں اُن کے نام سہیلی سرکار کو شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کا مزار شریف دومیل کے قریب واقع ہے ہر سال یہاں عرس کی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں ہزاروں عقیدت مند اور زائرین دُور دراز علاقوں سے طویل سفر طے کر کے اپنی محبت اور عقیدت کے پھول نچھاور کرنے اُن کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ پھولوں کی پتیاں نچھاور اور چادریں چڑھائی جاتی ہیں اِس عرس کی تقریبات ایک ہفتہ تک جاری رہتی ہیں ہر حکومت وقت بڑے تزک و احتشام سے اِس عرس کا اہتمام کرتی ہیں ضلعی انتظامیہ اِس دوران امن و امان بحال رکھنے کیلئے مناسب اقدامات کرتی ہے۔ عرس کی تقریبات مزار شریف کے اندر یا اُس کے احاطہ میں جوش و خروش سے جاری رہتی ہیں۔
گزشتہ سالوں میں یہ دیکھنے میں آیا کرتا تھا اس عُرس میں متوسط اور غریب طبقہ لوگوں کیلئے استعمال شدہ کپڑوں کے ٹھیلوں کی طویل قطار ہوا کرتی تھی جس کا ایک سرا دربار سے شروع ہو کر شہر اڈہ ڈھکی تک جایا کرتا تھا اور لوگوں کا ایک جم غفیر ہوتا جو ان دوکانوں سے سستے داموں سردی کی شدت کو ڈھانپنے کیلئے اچھے سے اچھا کوٹ اور سویٹر کی خریداری میں مصروف رہتاجو کہ اس بار خال خال نظر آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ غالباً اب استعمال شدہ کپڑے زیریں مدینہ مارکیٹ سے لیکر اڈہ ڈھکی تک ہر جگہ میسر آتے ہیں۔ ہر دکان انہی کپڑوں سے سجی ہوئی ہے۔ میلہ کی ایک روایت یہ بھی تھی کہ میلا یا عرس کے دوران تمام ایام بارشوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ شدید سری میں بارش کی ہلکی پھوار جسے ہم ”سردی کی جھڑی“ کہتے تھے مسلسل پڑتی رہتی یہاں تک کہ لوگوں میں یہ مشہور تھا کہ عرس کے آخری روز برف پڑے گی اور یہ کہاوت تھی کہ برف نیلم دریا کو چھوئے گی تو موسم میں تبدیلی رونما ہونا شروع ہو جائے گی اور بہار کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
اِس کے علاوہ یہاں پر بچوں اور بڑوں کی دلچسپی کیلئے سرکس کا اہتمام ہوتا تھا۔ خاص طور پر بچوں کیلئے جھولے یا بھنگوڑے نصب کیے جاتے تھے۔ اس طرح عرس کی تقریبات ہمارے شہر کے باسیوں کیلئے عقیدت اور احترام کا رنگ لیے ہوتی بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ تفریح اور طبع کا سامان بھی مہیا کرتی تھی۔ لوگوں میں اس پورے ہفتے میں مذہبی جوش و جذبہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ اکثر زائرین اور عقیدت مند ٹولیوں کی صورت میں شہر کے مختلف علاقوں سے چادر چڑھائی کیلئے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہوئے مزار پر حاضری دیتے اور یہ روایت تو آج بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ مساکین و غرباء کیلئے خصوصی کھانا ”لنگر“ کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ بڑی بڑی لکڑیوں سے آگ کا الاؤ ”مچ“ لگا کر محفل سماع کا انتظام بھی ہوتاتھا۔ عقیدت مند چڑھاوا چڑھاتے تھے اور نذر و نیاز کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔یہ روایات آج بھی قائم ہیں۔ اُس وقت مزار کے اِرد گرد وسیع و کشادہ جگہیں دستیاب ہوتی تھیں اور یہ سب رنگا رنگ تقریبات مزار کے قرب و جوار میں یہ منعقد ہوا کرتی تھیں۔ اب ان جگہوں پر سرکاری عمارات تعمیر ہو چکی ہیں لہذا ان کا انعقاد یہاں پر ممکن نہیں رہا۔ شنید میں ہے کہ چند تقریبات جو کہ پہلے کی نسبت کافی سکڑ چکی ہیں کو دریائے نیلم کے کنارے ٹاہلی منڈی کے وسیع میدان میں منعقد کی جا رہی ہیں۔ مزار شریف سے دُور ہو کر ان تقریبات کی رونق میں وہ چاشنی برقرار نہیں رہتی۔ لوگوں میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے خصوصی طور پر بچوں اور عمررسیدہ خواتین و حضرات کیلئے یہ بڑا دِشوار محسوس ہوتا ہے کہ وہ مزار پر حاضری بھی دیں اور پھر دیگر تقریبات سے لطف اٹھانے دُور کسی دوسری جگہ جائیں لہٰذا ایسی تقریبات کے انعقاد کو مزار شریف کے قریب ہی منعقد کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ عقیدت مند حضرات مزار پر حاضری کے ساتھ ساتھ دیگر تقریبات سے بھی بیک وقت لطف اُٹھا سکیں۔ بچوں کی دلچسپی کیلئے چھوٹے چھوٹے میلے ٹھیلے، کھانے پینے کی چھابڑیاں یا استعمال شدہ کپڑوں کے سٹال تو سڑک کے دونوں اطراف پر لگائے جا سکتے ہیں تاکہ عوام الناس کسی قسم کی تکلیف کے بغیر ان جگہوں سے خریدوفروخت کر سکیں۔ جگہ کی تنگی تو ضرورہے لیکن انتظامیہ کیلئے اہتمام کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہوتا۔
شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور بے ہنگم ٹریفک کے باعث اگرچہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے مگر انتظامیہ ان ایام میں پوری طرح سے چوکس اور متحرک رہے تو ایسی تقریبات کا پُرامن انعقاد کوئی مشکل امر نہیں ہمیں بھی اِس چھوٹے سے شہر میں اِس چیلنج کو قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے۔ خداراہ عُرس کی ماضی کی روایت کو ہی بحال رکھیں تو رونق دو بالا رہے گی۔
٭٭٭٭٭

Related Articles

Back to top button