معراج النبی ﷺ، اسراء و معراج میں مشاہدات نبوی ﷺ قرآن واحادیث مبارکہ کی روشنی میں (آخری حصہ)

،دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ ؑ اورحضرت عیسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئے دونوں نے خوش آمدید کہا،اورمبارک باد،پھر تیسرے آسمان پر پہنچے یہاں بھی دروازے کے عقب سے سوال جواب ہوئے،اور مامور فرشتوں نے دروازہ کھولا خوش آمدید کہا، یہاں حضرت در یوسف ؑ تشریف فرما تھے انہیں سلام پیش کیا انہوں نے جواب دیا اورارشادفرمایا مرحبا برادر صالح اورنبی صالح کو اورمبارک باددی،چوتھے آسما ن پر پہنچے حسب دستور دریافت کیا گیا بعداز اطمینان فرشتوں دروازہ کھولا خوش آمدید کہا استقبال کیا،وہاں حضرت ادریس ؑ موجود تھے انہیں سلام پیش کیا انہوں نے جواب دیا مرحبا بردر صالح اورنبی صالح کو،آنا مبارک ہو،پھر پانچویں آسمان پر پہنچے حسب سابق پوچھا گیا بتانے پر دروازہ کھولا گیا فرشتوں نے استقبال کیا اورخوش آمدید کہا یہاں حضرت ہارون ؑ تھے انہوں نے بھی کہا مرحبا اخی الصالح و نبی الصالح،بعدہ چھٹے آسمان پر پہنچے پہلے کی طرح یہاں بھی استفسار ہوا ور دروازہ کھولا گیا،فرشتوں نے استقبال کیااور خوش آمدید کہایہاں حضرت موسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئی،سلام پیش کیا موسیٰ ؑ نے سلام کا جواب دیااور فرمایا مرحبا درادر صالح اورنبی صالح کو مبارک ہو،حضور ﷺ فرماتے ہیں پھر میں حضرت جبرائیل ؑ کی معیت میں ساتویں آسمان کی طرف بڑھا،ساتویں آسمان کے دروازے پر پہنچے،پہلوں کی طرح یہاں بھی دریافت کیا گیا کون؟ حضرت جبرائیل ؑ نے اپنا اورمیراتعارف کرایا دروازہ کھولا گیا،فرشتوں نے استقبال کیا اورخوش آمدید کہا،یہاں حضرت ابراہیم ؑ تشریف فرما تھے انہیں سلام عرض کیا انہوں نے جواب دیا اورفرمایا مرحبا فرزند صالح اور نبی صالح کو مبارک ہو، رسالت مآب ﷺفرماتے ہیں پھر مجھے سدرۃ المنتھیٰ کی طرف بلند کیا گیا جو ایک بلند وبالا اوروسیع وعریض درخت ہے جس کے بیر اتنے بڑے بڑے تھے جیسے مقام ہجر کے مٹکے اوراس کے پتے اسی طرح کے تھے جیسے ہاتھی کے کان،جبرائیل ؑ نے کہا یہ سدرۃ المنتھیٰ ہے اوروہاں چار نہریں دیکھیں دو اندر کو جارہی تھین اوردو باہر آرہی تھیں،دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ اندر جانے والے دو نہریں جنت کی ہیں اورجو دو باہر آرہی ہیں یہ نیل اورفرات ہے،اس کے بعد مجھے بالائی سطح پر لے جایا گیا یہاں ایک نہر دیکھی جس کے کنارے پر یاقوت،موتی اورزہر جد کے پیالے رکھے تھے اس پرسبز لطیف پرندے بھی تھے،جبرائیل ؑ نے کہا کہ یہ کوثرہے جو آپ ؑ کے رب نے آپکو عطا فرمائی ہے،پھر مجھے بیت المعمور کا مشاہدہ کرایاگیا وہ ایک مسجد ہے خانہ کعبہ کے عین عمرد میں اگر بالفرض وہاں سے کوئی شے گرے اوراسے کوئی رکاوٹ نہ ہو تو وہ سیدھی کعبہ پر پہنچے گی بیت المعمور فرشتوں کی عبادت گاہ ہے اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اورجب وہ نکل آتے ہیں تو ان کی باری دوبارہ نہیں آتی، پھر میرا عروج جنت کی طرف ہوا مجھے جنت کی سیر کروائی گئی جو آٹھ بہشت ہیں،پھر دوزخ میرے روبرو کی گئی اس میں اللہ تعالیٰ کا غضب، عذاب وانتقام ہے،اگر اسمیں پتھر اورلوہا بھی ڈال دیا جائے تو اس کو بھی کھالے پھروہ بند کردی گئی۔ پھر مجھے اورعروج حاصل ہوا یہاں تک کہ ایک ہموار میدان میں پہنچا جہاں میں نے قلموں کی آواز سنی جو لکھنے کے وقت پیداہوتی ہے پھر ہمارا سفر اوربلندی کی طرف جاری رہا حتیٰ کہ مقام حجاب آگیا، حجاب سے ایک فرشتہ باہر آیا جبرائیل ؑ نے کہا کہ قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپکو دین حق دیکر مبعوث فرمایا کہ جب سے میں پیدا ہوا ہوں میں نے اس فرشتہ کو نہیں دیکھا حالانکہ میں خلائق میں رتبہ کے اعتبار سے بہت مقرب ہوں،یہاں سے حضرت جبرائیل ؑ نے مفارقت اختیار کی،حضور نبی کریم ﷺ نے کہا ایسے مقام پرکوئی رفیق اپنے رفیق کو تنہا چھوڑتا ہے؟ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا یارسول اللہ ﷺ میرا مقام تو سدرۃ المنتھیٰ ہے یہاں تک تو میں آپ سے تمسک کے طفیل پہنچا ہوں لیکن اب اس سے آگے ایک بال کے کنارے کی مقدار آگے بڑھنے سے تجلیات الٰہی سے میرے پر جل جائیں گے،اب یہاں سے آگے ”ثم دنا فتدلی ٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ،فاوحیٰ الیٰ عبدہ مااوحی، (سورہ النجم آیات 8,9,10)کے مقامات تھے،معراج کی منزل مقصود اورقرب ووصل کے لمحات تھے،حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں مجھے یہاں نور میں پیوست کردیا گیا اورستر ہزار حجابات طے کرائے گئے ان میں ایک حجاب دوسرے حجاب کے مشابہ نہ ت ھا مجھ سے تمام انسانوں اورفرشتوں کی نہ صرف آواز بلکہ آہٹ بھی منقطع ہوگئی اس وقت مجھے خوف سا محسوس ہوا معاً مجھے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی آواز ولہجہ کے مشابہ آواز سنائی دی گئی کہ اُذن منی میرے نزدیک آجائیے مجھے تسکین وراحت محسوس ہوئی یہ آواز آتی رہی اورمیں ایک غیر مرئی اورغیبی طاقت سے آگے بڑھتا رہا،دنا کے مرتبہ سے مشرف ہوا،اس کے بعدفتدلیٰ پر ترقی پائی پھر وہاں سے فکان قاب قوسین کے خلوت خانہ میں پہنچا اور پھر فاوحیٰ الیٰ عبدہ ما اوحیٰ کے اسرار روموز سے محرم راز ہونے لگا، حجابات عبور ہوجانے کے بعد ایک رف رف یعنی مسند سبز میرے لئے اتار دی گئی میں نے اپنے آپکو اس پرپایا پھر مجھے اوپر اٹھایا گیا یہاں تک کہ میں عرش معلی تک جا پہنچا اوراپنے رب سے ہمکلام ہوا،اورقرب ووصل کا انعام پایا،حضور نبی کریم ﷺ نے بطور تحفہ اپنے رب کی حمدوثنا ان الفاظ میں بیان فرمائی ”التحیات للہ والصلوت والطیبات“ پھر حق تعالیٰ کیطرف یوں سلام ارشاد ہوا، السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ“ حضور نبی کریم ﷺ نے بارگاہ الٰہی میں یوں عرض کی السلام علینا و علیٰ عباد اللہ الصالحین (بحوالہ نہایہ شرح ہدایہ و کبیری شرح منیہ) امت کیلئے پچاس نمازیں شب وروز فرض کی گئیں،واپس آنے پر جب حضرت موسیٰ ؑ سے ملاقات ہوتی ہے وہ پوچھتے ہیں کہ امت کیلئے کتنی نمازیں فرض ہوئیں فرمایا پچاس، انہوں نے کہا کہ میں اپنی امت کو آزماچکا ہوں لہذا آپ واپس بارگاہ الٰہی میں جائیں اورتخفیف کرائیں،چنانچہ واپس بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوتے ہیں تخفیف کی درخواست کرتے ہیں،۵ کم ہوتی ہیں واپس لوٹتے ہیں پھر حضرت موسیٰ ؑ فرماتے ہیں آپکی امت اتنی نمازیں ادا نہیں کرسکتی پھرجائیں اورکم کروائیں یہ سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ ۵ نمازیں رہ گئیں جبکہ ثواب 50 کا ہی ملے گا۔ واقعہ معراج آپ ﷺ کی حیات طیبہ کا اہم ترین واقعہ ہے اس میں آپ ﷺ کو کائنات کے حقائق اوراسرار ورموز سے آگاہ کیا گیا،آپ ﷺ ذات خداوندی کے اس قدر قریب ہوگئے کہ آج تک اتنا قرب و وصل کسی کو حاصل نہیں ہوسکا،نماز پنجگانہ کے علاوہ دیگر احکام اورمشاہدات کی تفصیل کتب احادیث میں موجود ہے، اسراء و معراج کا وقوع رجب المرجب کی 27 ویں شب کو ہوا جس طرح 12ربیع الاول کو جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت با سعادت, 15 ویں شعبان المعظم کو شب برات (لیلتہ المبارکہ) اور 27 ویں رمضان المبارک کو لیلۃ القدر پر اجماع امت ہے. اسی طرح 27 ویں رجب المرجب ”شب معراج ” سے معروف ع مشہور ہے. حضرت علامہ محمد اسماعیل حقی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی مشہور و معروف تفسیر (عربی) میں لکھا ہے ” وھی سبع ع عشرین من رجب لیلۃ الاثنین و علیہ عمل الناس (روح البیان) یعنی معراج کی رات رجب کی ستائیسویں اور شب دوشنبہ (سوموار) تھی اس پر لوگوں کا عمل ہے اس ماہ کے نفلی روزوں کے بارے میں راقم نے ماہ رجب المرجب کے آغاز میں ” ماہ رجب المرجب کی فضیلت و اہمیت اور اس میں وقوع پذیر ہونے والے اہم تاریخی واقعات ” کے عنوان سے ایک تفصیلی کالم لکھا تھا جو اخبارات کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا تھا.راقم نے اسرائاورمعراج کا اجمالی تذکرہ اشارات کی صورت میں کیا تفصیلات کتب و احادیث وکتب سیر میں موجود ہیں. اللہ تعالیٰ راقم کو اور قارئین کو نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پردائمی عمل کی توفیق عطافرمائے (آمین ثم آمین)




