کالمزمظفرآباد

یومِ یکجہتی کشمیر: پاکستان، پاک فوج اور کشمیری عوام کا اٹوٹ رشتہ

تحریر: محمد شبیر اعوان

فروری وہ دن ہے جو ہر سال پاکستانی قوم کے دلوں میں ایک ہی جذبہ، ایک ہی سوچ اور ایک ہی صدا بیدار کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ مسئلہ، ایک مسلسل جدوجہد اور ایک ایسی امانت ہے جسے پاکستان نے اپنے قیام کے دن سے سینے سے لگایا ہوا ہے۔ یومِ یکجہتی? کشمیر پاکستان کی تاریخ میں محض ایک قومی تعطیل نہیں بلکہ یہ دن اس عہد کی تجدید ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔
پاکستان میں اس دن کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ قوم، حکومت اور افواجِ پاکستان ایک ہی صف میں نظر آتی ہیں۔ یہ یکجہتی محض تقاریر اور بینرز تک محدود نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی، اخلاقی ذمہ داری اور عملی جدوجہد کی علامت ہے۔ کشمیری عوام پر دہائیوں سے ڈھائے جانے والے مظالم، انسانی حقوق کی پامالیاں اور حقِ خودارادیت کی مسلسل نفی نے اس دن کو اور بھی زیادہ اہم بنا دیا ہے۔
پاک فوج کا کردار اس جدوجہد میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ افواجِ پاکستان نہ صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہیں بلکہ وہ نظریاتی سرحدوں کی بھی امین ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس کی حفاظت پاک فوج نے اپنی قربانیوں، پیشہ ورانہ مہارت اور فولادی عزم سے کی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر تعینات ہر سپاہی، ہر افسر اور ہر جوان کشمیری عوام کے حقِ آزادی کا عملی ترجمان ہے۔یہ تاریخ کا ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جب بھی کشمیر کا مسئلہ عالمی فورمز پر اٹھا، پاک فوج کی قربانیوں اور استقامت نے دنیا کو یہ باور کروایا کہ پاکستان اس مسئلے پر کبھی کمزور نہیں پڑے گا۔ دشمن کی جانب سے مسلط کی جانے والی ہر جارحیت کا جواب نہ صرف عسکری لحاظ سے دیا گیا بلکہ اخلاقی اور سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کا مؤقف مضبوط رہا۔ اس کی بنیاد پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور قربانیوں پر ہے۔
حالیہ برسوں میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف دفاعی اعتبار سے مضبوط ہیں بلکہ وہ جدید جنگی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی اور عزم کا حسین امتزاج بھی رکھتی ہیں۔ بنیان مرصوص جیسے آپریشنز نے دشمن کی آنکھیں کھول دیں اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں۔ پاک فوج کی یہ جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کشمیری عوام کے لیے امید کی ایک مضبوط کرن ہے۔یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ پاک فوج کی قربانیاں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ قدرتی آفات ہوں یا انسانی بحران، کشمیری مہاجرین کی آبادکاری ہو یا سرحدی علاقوں میں بسنے والے عوام کی فلاح، افواجِ پاکستان ہمیشہ صفِ اول میں نظر آتی ہیں۔ کشمیری مہاجرین کے لیے حکومتی اقدامات، رہائشی منصوبے اور مالی معاونت دراصل اسی قومی پالیسی کا تسلسل ہیں جس کی محافظ پاک فوج ہے۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب قوم اور فوج ایک صفحے پر ہوں۔ یومِ یکجہتی? کشمیر اسی اتحاد کا عملی مظہر ہے۔ اس دن سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، مساجد اور عوامی مقامات پر ہونے والی تقاریب نئی نسل کو یہ شعور دیتی ہیں کہ آزادی کی قیمت کیا ہوتی ہے اور اس کی حفاظت کون کرتا ہے۔پاک فوج کے شہداء کی قربانیاں اس جدوجہد کا روشن باب ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹے وطن پر قربان کیے، وہ بچے جنہوں نے اپنے باپ کو پرچم میں لپٹا دیکھا، اور وہ خاندان جنہوں نے صبر کو اپنا زیور بنایا، یہ سب کشمیری عوام کے ساتھ اس رشتے کا حصہ ہیں جو خون سے لکھا گیا ہے۔ یومِ یکجہتی? کشمیر دراصل ان قربانیوں کو سلام پیش کرنے کا دن بھی ہے۔کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر زندہ رکھنے میں پاک فوج کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی اہم ہیں، مگر ان کوششوں کی بنیاد وہ دفاعی طاقت ہے جو افواجِ پاکستان فراہم کرتی ہیں۔ ایک مضبوط فوج ہی ایک مضبوط مؤقف کی ضامن ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دشمن لاکھ پروپیگنڈا کرے، کشمیر کے مسئلے کو دبا نہیں سکتا۔یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ یہ جدوجہد طویل ہے اور اس کے لیے صبر، حکمت اور استقامت درکار ہے۔ پاک فوج نے ہمیشہ جلد بازی کے بجائے تدبر اور حکمتِ عملی کو ترجیح دی ہے۔ یہی حکمت کشمیری عوام کے لیے امید کا باعث ہے کہ ان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔
آج جب دنیا مختلف تنازعات میں الجھی ہوئی ہے، کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان اور اس کی مسلح افواج اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ حق آخرکار غالب آتا ہے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں، ان کا حوصلہ اور ان کی استقامت اس بات کی گواہ ہے کہ آزادی کی صبح ضرور طلوع ہو گی۔یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض تاریخ نہیں بلکہ عہد ہوتے ہیں۔ پانچ فروری بھی ایسا ہی دن ہے، جب پوری قوم یہ عہد کرتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ اس عہد کی حفاظت پاک فوج اپنے خون، پسینے اور قربانیوں سے کر رہی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی روح کا حصہ ہے اور پاک فوج اس روح کی محافظ ہے۔ جب تک ایک بھی کشمیری آزادی کا خواہاں ہے، پاکستان اور اس کی مسلح افواج اس کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔ یہ یکجہتی وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے، اور یہی یومِ یکجہتی? کشمیر کا اصل پیغام ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ افواجِ پاکستان کو سلامت رکھے، انہیں مزید قوت، بصیرت اور استقامت عطا فرمائے، ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے، اور کشمیری عوام کو جلد حقِ خودارادیت اور آزادی کی نعمت سے سرفراز کرے۔ آمین۔

Related Articles

Back to top button