مظفرآباد

بلدیاتی نمائندگان بنام اراکین قانون ساز اسمبلی رٹ پٹیشن پر فیصلہ محفوظ

مظفرآباد (محاسب نیوز)بلدیاتی نمائندگان بنام اراکین قانون ساز اسمبلی رٹ پٹیشن پر فیصلہ محفوظ۔ جسٹس سردار اعجاز خان اور جسٹس خالد رشید پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی، پٹیشنرز کی جانب سے بیرسٹر ہمایوں نواز خان ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے جبکہ حکومتی مؤقف ملک اصغر ایڈووکیٹ نے پیش کیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اس موقع پر بلدیاتی نمائندگان کی کثیر تعداد احاطہ عدالت میں موجود تھی۔ فروری 2025میں عدالت عالیہ نے سردار جاوید شریف بنام آزاد حکومت میں فیصلہ دیا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کا تمام بجٹ بلدیاتی اداروں یا لوکل کونسلز کا حق ہے۔ انوار حکومت بجائے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کے چار ارب روپے میں سے ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے بلدیاتی اداروں کو ریلیز کرکے بقیہ فنڈز ایم ایل ایز کو دے دیے۔ اور بعد ازاں عدالتی فیصلے کو غیر موثر کرنے کیلئے ایکٹ 2025ء اسمبلی سے پاس کرلیا جس میں مہاجرین ممبران اسمبلی اور ممبران اسمبلی کو فنڈز کی نشاندہی کا حق دے دیا جو عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت عالیہ نے آزادکشمیر رولز آف بزنس 1985ء جس کے تحت تمام سرکاری محکمے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں قرار دیا کہ کسی بھی ترقیاتی اسکیم کی نشاندہی، مداخلت رولز آف بزنس کے مغائر ہے۔ عدالت عالیہ نے دستور العمل کو بھی قانونی جواز کے بغیر قرار دیتے ہوئے غیر قانونی قرار دیا اور تمام فنڈز بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ کرنیکا حکم دیا تھا۔ عدالتی فیصلے، رولز آف بزنس کی خلاف ورزی اور غیر آئینی دستورالعمل کیخلاف عدالت عالیہ میں بلدیاتی نمائندوں نے رٹ پٹیشن اگست میں دائر کردی تھی کیونکہ جون میں بجٹ پیش ہونے کے بعد اور نظر ثانی بجٹ پیش ہونے پر پتہ چلا کہ حکومت نے 60 فیصد بجٹ ایم ایل ایز کی مرضی سے خرچ کیا۔ موجودہ حکومت نے دسمبر میں ایم ایل ایز سے اسکیمیں طلب کیں لیکن عدالت میں زیر سماعت رٹ پٹیشن کے باعث فنڈز کی اجرائیگی نہیں ہوسکی اور عدالت کے فیصلے تک فنڈز کی اجرائیگی ممکن نہیں اس دفعہ حکومت نے 5 ارب روپے لوکل گورنمٹ کے بجٹ میں رکھے ہیں اور بلدیاتی اداروں کیلیے 1 ارب 60 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جو عدالت کے فیصلے کے مغائر ہے۔ جبکہ 1 ارب 50 کروڑ روپے وزیر اعظم نے اپنی صوابدید پر رکھے ہوئے ہیں۔

Related Articles

Back to top button