خواجہ عبدالرشید صحافت کی یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے‘خدمات کو خراج عقیدت

مظفرآباد (محاسب نیوز)سنٹرل پریس کلب کے صدر سہیل مغل،سابق صدر وسینئر صحافی سید آفاق شاہ نے کہا ہے کہ خواجہ عبدالرشید صحافت کی یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے۔ان کی ساری زندگی کشمیرا یشو اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ باوقار صحافت کے فروغ کے لیے وقف تھی۔خواجہ عبدالرشید،عبدالحفیظ سالب،سید شبیر شاہ،جی ایم مفتی،اے آر زار بٹ،آزر عسکری سلیم پروانہ،ریاست کے بڑے صحافی تھے جن کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل پریس کلب کے زیر اہتمام بزرگ صحافی خواجہ عبدالرشید مرحوم کی برسی کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جس سے وائس چیئرمین آزاد کشمیر پریس فاونڈیشن سردار ذوالفقار،سابق صدر طارق نقاش،راجہ افتخار،شہزاد لولابی اور اشتیاق میر نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ چند سال قبل تک صحافت کرنا مشکل کام تھا،سہولیات کے فقدان کے باعث بروقت اداروں کو خبر کی ترسیل مشکل تھی۔آج انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات کے باعث خبر منٹوں میں پوری دنیا تک پھیل جاتی ہے۔خواجہ عبدالرشید ملک کے بڑے اخبار کے ساتھ وابستہ رہے۔اس دور میں تحقیق کے بعد خبر اداروں کو بھیجی جاتی تھی۔اپنی اور ادارے کی ساکھ کا خیال رکھا جاتا تھا۔اخبارات کی بہت ذیادہ اہمیت تھی۔آج بھی اخبار کا شوق رکھنے والے صبح ناشتے سے پہلے اخبار لازمی پڑھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سنٹرل پریس کلب جیسے ادارہ کے لیے خواجہ عبدالرشید مرحوم کی بے پناہ خدمات ہیں۔انہوں نے ہمیشہ نوجوانوں کو عزت دی۔وہ اصولوں پر کاربند رہنے والی شخصیت تھے۔وزراء اعظم ان کی شرکت کے بغیر پریس کانفرنس کا آغاز نہیں کرتے تھے۔صدر پریس کلب ادارہ کے مرحوم صحافیوں کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لیے گیلری کے قیام اور دعائیہ تقریبات کے یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر خواجہ عبدالرشید مرحوم اور رحلت فرما جانے والے دیگر قلم کاروں اور اراکین پریس کلب کے لیے فاتحہ کی گئی جبکہ سینئر صحافی امتیاز احمد اعوان کی صحت یابی کے لیے بھی دعا کی گئی۔تقریب میں جاوید اقبال ہاشمی،عزیر غزالی،بشارت مغل،امیر الدین مغل،خرم عطا شیخ،تنو یر تنولی،ندیم شاہ،اشفاق شاہ،تصدق شاہ،خواجہ محسن،راجہ خالد،نسرین شیخ،نصیر چوہدری،،شبیر انجم،ملک عابد،عمران میر ودیگر نے شرکت کی۔




