۵ جنوری: یومِ حقِ خود ارادیتِ کشمیر۔۔۔۔۔۔!

۵ جنوری کشمیری عوام کی سیاسی، تاریخی اور اخلاقی جدوجہد میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1949ء میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک واضح اور دوٹوک قرارداد کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے اس بنیادی حق کو تسلیم کیا کہ وہ آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدار استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک عالمی عہد، ایک بین الاقوامی وعدہ اور کشمیری عوام کی مسلسل قربانیوں کی یاد دہانی ہے—ایسا وعدہ جو آج تک وفا طلب ہے۔
ریاست جموں و کشمیر برصغیر کی ان پرنسلی ریاستوں میں شامل تھی جن کے مستقبل کے فیصلے کے لیے 3 جون 1947ء کے تقسیمِ ہند پلان میں اصول طے کیے گئے تھے۔ ان اصولوں کے مطابق ریاستوں کو الحاق کے فیصلے میں عوامی خواہشات، جغرافیائی قربت اور مذہبی اکثریت کو بنیادی حیثیت دینا تھی۔ ریاست جموں و کشمیر کی آبادی کی بھاری اکثریت مسلمان تھی، جس کی فطری، جغرافیائی اور معاشی وابستگی پاکستان کے ساتھ بنتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ 19 جولائی 1947ء کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل—جو منتخب نمائندوں پر مشتمل تھی—نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی تاریخی قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد کشمیری عوام کی اجتماعی سیاسی خواہش کا باضابطہ اظہار تھی، جسے بجا طور پر کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کا میگنا کارٹا کہا جاتا ہے۔
تاہم مہاراجہ ہری سنگھ کی تاخیری پالیسی، بھارتی مداخلت اور فوجی یلغار نے اس فطری اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ اکتوبر 1947ء میں بھارتی افواج کے کشمیر میں داخلے نے نہ صرف خطے کے امن کو تہ و بالا کیا بلکہ مسئلہ کشمیر کو ایک بین الاقوامی تنازع میں تبدیل کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ معاملہ خود بھارت اقوامِ متحدہ میں لے کر گیا، جہاں عالمی برادری نے کشمیر کی متنازع حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی قراردادیں منظور کیں۔
انہی قراردادوں کا نچوڑ ۵ جنوری 1949ء کی تاریخی قرارداد میں سامنے آیا، جس میں واضح اور غیر مبہم الفاظ میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی آزاد مرضی سے ہوگا۔ قرارداد میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی استصوابِ رائے کا طریقہ کار وضع کیا گیا، جس میں مرحلہ وار فوجی انخلا، غیر جانبدار انتظامیہ کا قیام اور بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی جیسے بنیادی اصول شامل تھے۔ یہ قرارداد محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، اخلاقی اصولوں اور انسانی حقوق کے مسلمہ ضابطوں کی نمائندہ تھی۔
بدقسمتی سے بھارت نے ابتدا ہی سے ان قراردادوں پر عمل درآمد سے گریز کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو مختلف حیلوں بہانوں سے التوا میں رکھا گیا اور زمینی حقائق کو طاقت کے زور پر بدلنے کی کوشش کی گئی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آج نو لاکھ سے زائد بھارتی فوج تعینات ہے، جو اس خطے کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر چکی ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، پیلٹ گنز کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کو بینائی سے محروم کرنا، اجتماعی قبریں اور اظہارِ رائے پر پابندیاں اس تلخ حقیقت کا عملی ثبوت ہیں۔
۵ اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35-A کے خاتمے اور ریاستی حیثیت کی یکطرفہ تنسیخ نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کو مزید نمایاں کر دیا۔ ان اقدامات کا مقصد کشمیریوں کی شناخت، زمین اور سیاسی حق کو ختم کر کے مسئلہ کشمیر کو یکطرفہ طور پر دفن کرنا تھا، مگر تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے کسی قوم کی جدوجہد کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یومِ حقِ خود ارادیتِ کشمیر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ حقِ خود ارادیت کوئی عطیہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی حق ہے۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر، انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اور بین الاقوامی معاہدات اس حق کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہیں۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اسی اصول پر استوار ہے—ایک ایسی جدوجہد جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے قربانیوں، استقامت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری ہے۔
پاکستان کا کردار اس تناظر میں اصولی، واضح اور مستقل رہا ہے۔ پاکستان نے ہر دور میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو مسئلہ کشمیر کے حل کی واحد بنیاد قرار دیا اور عالمی فورمز پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور وکالت کی۔ آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کے لیے پاکستان ہمیشہ ایک مضبوط اخلاقی، سیاسی اور سفارتی پشت پناہی بن کر کھڑا رہا ہے۔
موجودہ دور میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے مسئلہ کشمیر پر اپنی کمٹمنٹ کو محض بیانات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کی صورت میں آگے بڑھایا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومتِ پاکستان نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو ایک زندہ اور حل طلب تنازع کے طور پر اجاگر رکھا، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی متحرک سفارت کاری نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو مسلسل اجاگر کیا۔ اسی تسلسل میں پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے قومی سلامتی، نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کو دوٹوک انداز میں بیان کیا ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان یہ ہم آہنگی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کے قومی تشخص، نظریاتی وجود اور ریاستی ترجیحات کا بنیادی جزو ہے۔
یومِ حقِ خود ارادیتِ کشمیر آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کے لیے تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ یہ دن مایوسی یا شکست کا استعارہ نہیں بلکہ امید، یقین اور حوصلے کی علامت ہے—اس یقین کی کہ ایک دن اقوامِ متحدہ کی قراردادیں محض کاغذی وعدے نہیں رہیں گی بلکہ عملی حقیقت کا روپ دھاریں گی۔
۵ جنوری عالمی برادری کے لیے بھی ایک کڑا سوال ہے۔ اگر انسانی حقوق، جمہوریت اور انصاف کے عالمی دعوے سچے ہیں تو پھر کشمیر جیسے تسلیم شدہ تنازع پر خاموشی کیوں؟ کشمیر آج بھی عالمی ضمیر کا امتحان ہے، اور تاریخ ان طاقتوں کے کردار کو ضرور یاد رکھے گی جو حق کے ساتھ کھڑی ہوئیں یا خاموش تماشائی بنیں۔
آخر میں، یومِ حقِ خود ارادیتِ کشمیر اس عہد کی تجدید ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد وقتی نہیں بلکہ تاریخی، قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر استوار ہے۔ حق دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک دن کشمیری عوام آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے—اور وہ دن ۵ جنوری کے وعدے کی عملی تعبیر ہوگا۔




