کالمزمظفرآباد

معاشرتی زندگی کے ہر شعبہ میں عدل و انصاف کی ضرورت ہے۔

محمد شریف اعوان ناظم اعلیٰ تعلیم (ر)

قارئین کرام! انسانی معاشرہ کے کئی شعبے ہیں۔ترقی یافتہ معاشرہ کی بنیادیں عدل و انصاف پر مبنی ہوتی ہیں۔ عدل و انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ عام طور پر عدل و انصاف کو محض عدالتی فیصلوں تک ہی سمجھا جاتا ہے۔ یہ اس کا محدود تصور ہے۔ الحمداللہ آزاد کشمیر میں عدلیہ کا معیار اچھی شہرت کا حامل ہے۔ ہماری عدلیہ کے بعض فیصلے تاریخی نوعیت کے ہیں، جو قابل تعریف ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اصلاح کی گنجائش ہر جگہ موجود ہوتی ہے۔ ججز کے فیصلے اپنی جگہ عدالتی عمل میں باقی کرداروں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ میری مراد قانون دان حضرات جو قانون کے حوالہ جات اور تشریح کے ساتھ ساتھ اپنے زورِوکالت سے بعض اوقات کیس کی نوعیت بدل دیتے ہیں۔معذرت کے ساتھ سارے لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ قصوروار اور کیس کرنے والا ہر فرد اپنے کیس کی اصل نوعیت اپنے فاضل وکیل کو ضرور بتاتا ہے۔یہاں تک کہ قاتل بھی اصل بات ضرور بتاتا ہے لیکن آج تک سنا نہیں کہ کسی وکیل نے کسی موکل کو بتایا ہو کہ آپ نے چونکہ یہ جرم کیا ہے، آپ سزا کے مستحق ہیں۔ میں آپ کا کیس نہیں لیتا۔ کیا یہاں انصاف ہو رہا ہے۔ اسی طرح پولیس سٹیشن جو عوام کو تحفظ فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔کیا یہاں بھی قصوروار یا بے قصور کے فرق کو عملاً مد نظر رکھا جاتا ہے۔ یا اس کی بنیاد کچھ اور ہوتی ہے۔ یہاں بھی عدل و انصاف میں بہتری کی ضرورت ہے۔ عدل و انصاف کو گھر سے شروع کریں۔ تو اولاد کے ساتھ بھی دین اسلام کے مطابق عدل و انصاف ضروری ہے۔
مگر اس کا معیار بھی توجہ طلب ہے۔ اولاد کی جسمانی ضروریات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور سماجی تربیت کی یکساں ضرورت ہے۔ مگر اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بیٹیوں کی تعلیم اور بیٹوں کی تعلیم کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔تعلیمی ادارے جو تعلیم کے ذریعے کردار سازی کے ذمہ دار ہوتے ہیں کیا ان میں عدل و انصاف کو سو فیصد مد نظر رکھا جاتا ہے۔ ضمنًا ایک بات عام طور پر اساتذہ برادری کا خیال ہوتا ہے کہ یہاں رشوت،سفارش اور کسی اور ناجائز ذریعے کا دخل نہیں۔ لہذا ہمارا رزق حلال ہی ہوتا ہے۔ یہاں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ حرام صرف پیسے کے لین دین سے نہیں ہوتا بلکہ بچوں کی تدریس کے لیے مختص ایک پیریڈ بھی اگر غفلت کا شکار ہو گیا تو اس کا معاوضہ حرام ہو جاتا ہے۔فرائض کو اصل تقاضوں کے مطابق ادا کیئے بغیر جو تنخواہ وصول کی جاتی ہے وہ بھی حرام ہو سکتی ہے۔
قارئین کرام! اب ذرا روزمرہ زندگی میں مختلف دفاتر سے یا محکمہ جات سے جہاں انسان کو واسطہ پڑتا ہے وہاں عدل و انصاف کی صورتحال پر ایک نظر ڈالیں۔ مشہور ہے کہ کسی سائل نے کسی دفتر کے ملازم سے کہا بھائی یہ کام کرو آپ اس کی تنخواہ لیتے ہیں۔ تو اس نے جواب دیا محترم تنخواہ ہم دفتر آنے کی لیتے ہیں۔ یہاں جو کام کریں گے اس کا معاوضہ تو آپ کو دینا پڑے گا۔ عام طور پر یہی رویہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اچھے کردار کے مالک اور خوف خدا والے لوگ بھی دفاتر میں موجود ہیں مگر ان کی تعداد میں اضافہ اور عدل و انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ اس شعبہ میں خرابیاں بڑھ رہی ہیں۔ عام آدمی دربدر ہوتا ہیاس لیے کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ ایک عجیب تماشہ یہ ہے کہ اطمینان کیا جا سکتا ہے کہ دفاتر میں پابندی وقت نام کی کوئی چیز نہیں، بلکہ افسر اسی کو سمجھا جاتا ہے جو اپنی ڈیوٹی میں ریگولر نہ ہو۔ اکثر تاخیر سے آتے۔ ذاتی کام کاج سے فارغ ہو کر سائلوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ وہ بھی پہلے بااثر شخصیات کی فائلیں دیکھی جاتی ہیں۔ غریب بیچارہ دفاتر میں عدل و انصاف کے لیے ٹھوکریں کھاتا رہتا ہے۔ مشہور ہے کہ
کسی کا کسی پہ جو دل آگیا۔
جو نیچے تھا اوپر وہ بل آگیا۔
قارئین کرام! اب ذرا جائزہ لیں ہمارے حقوق کے محافظوں کا جنہیں ہم اعتماد کا ووٹ دے کر جھنڈی والی گاڑی تک پہنچاتے ہیں۔ ان کے عدل و انصاف کا معیار کیا ہے۔ترجیحات کیا ہیں۔ اپنی ذاتی پسند سے شروع کرتے ہیں۔ ذات کے بعد برادری، دوست احباب، پھر سیاسی سپورٹر، ووٹرز، عام آدمی تک پہنچتے پہنچتے حکومتی عرصہ پورا ہو جاتا ہے۔بلکہ بعض نمائندگان خود کو ان لوگوں کا نمائندہ نہیں سمجھتے جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیے۔ حالانکہ ہم ایک مسلم سوسائٹی میں رہ رہے ہیں۔منتخب ہونے تک ووٹس کا معاملہ ہونا چاہیے۔ منتخب ہونے پر ہر نمائندہ اپنے حلقے کی پوری آبادی کا نمائندہ ہونا چاہیے۔ میرٹ پر سب کے ساتھ سلوک کریں۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا اور یہ صورتحال افسوسناک ہے۔ ہم آبادی کی بنیادی ضروریات مہیا کرنے میں ووٹ کو معیار بناتے ہیں۔ عدل و انصاف کے تقاضے کہاں رہ گئے۔
آفیسر حضرات کا عام طور پر معمول یہ ہے کہ مقررہ وقت سے خاصا Late دفتر آنا اور دفتری اوقات کے بعد بیٹھے رہنا۔ ایسے میں سائلین تو بھوکے پیاسے رلتے ہیں۔ ساتھ چھوٹے ملازمین جو صبح وقت سے پہلے آنے کے پابند ہیں۔اور شام کے بعد تک مجبوراً حاضر رہتے ہیں۔ صاحب کا حکم بجا لاتے ہیں۔ انہیں Overtime نہیں ملتا۔ بلکہ سزا ملتی ہے۔ کیا یہ انصاف ہے۔سرکاری ٹرانسپورٹ کا ذاتی استعمال تو فیشن بنا ہوا ہے۔ کیا عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو رہے ہیں۔ معاشرہ کی جب تک یہ صورتحال برقرار رہے گی ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ اصل ذمہ داری کی بہت کم کسی کو پرواہ ہے۔ زیادہ تر سرکاری اوقات کار میں ہم ذاتی امور انجام دیتے ہیں۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہییکہ اس طرح کے معاملات حکومت کے ایوانوں میں یا ایوانوں کی ناک کے نیچے بیٹھی ہوئی اشرافیہ کی سرپرستی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ عوامی نمائندے عوام کو صرف ووٹ کے Season میں جانتے ہیں۔اس کے بعد نظر یں نہیں ملاتے۔کاروباری انصاف نام کی کوئی چیز معاشرے میں نہیں ہے۔گزشتہ ایک کالم میں راقم نے ایکشن کمیٹی کو تجویز دی تھی کہ عوام نے آزمائش کے بعد آپ کی کال کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ آپ تاجروں کو کہیں کہ عوام کی چمڑی کا خیال رکھیں۔ یہاں بھی اسلامی اصولوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
الغرض معاشرہ کے ہر شعبہ میں عدل و انصاف قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی ممکن نہیں۔ سیاست کا موسم بہار آنے والا ہے۔ خوب سبز باغ دکھائے جائیں گے۔ میرٹ اور انصاف کے خوب چرچے ہونگے۔اللہ ہم سب کے قول و فعل میں تضاد کو ختم کرتے ہوئے اچھے مسلمان کی طرح زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ یاد رہے کہ دین اسلام ہم سب سے اپنی ذمہ داریوں کی بابت باز پرس ہونے کا درس دیتا ہے، معمولی بات نہیں۔

Related Articles

Back to top button