
18دسمبر کو قائد ملت رائیس الاحرار کے 58ویں برسی عقیدت واحترام سے منائی جارہی ہے۔چوہدری غلام عباس ریاست جموں وکشمیر میں سیاسی طور پر قائداعظم محمد علی جناح کے جانشین،دست راست ہونے والے کے علاوہ مسلم کانفرنس کے بانی ہونے کاشرف حاصل ہے۔قائد ملت کی شخصیت و کردار عمل کے بارے آج تک بہت کچھ لکھاجاچکا ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر اور موجودہ پاکستان کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں ان کو یہ بتایاجاناضروری ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح اور چوہدر ی غلام عبا س کے درمیان قائم تعلقات کا پیمانہ معیار تھا۔قائد کشمیر رائیس الاحرار چوہدری غلام عبا س کشمیر کی تحریک آزادی اور اس کا پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد کا ایک مرکزی کردار ہیں۔ قائد کشمیر نے ریاست جموں وکشمیر کے مسلمانوں کے لئے جس منزل کا انتخاب کیا تھا وقت نے ثابت کیا کہ وہی منزل کشمیریوں کی بقاء کی ضامن تھی۔ چوہدری غلام عباس نے چار فروری 1904کو جموں میں چوہدری نواب خان کے گھر جنم لیا آپ کا گھرانہ متوسط تھا اور آپ نے اپنی محنت سے کشمیر کی سیاست میں مقام پیدا کیا۔ جموں کے مشہور کالج پرنس آف دیلز سے بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد لاہور کالج سے وکالت کی ڈگری لے کر جموں میں وکالت کاآغاز کیا اس دوران جموں میں ینگ منز مسلم ایسوسی ایشن کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کی۔ یہ ریاست جموں و کشمیر پرڈوگرہ کی حکمرانی کادور تھا۔ ڈوگرہ ابتداء نے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو بری طرح دبا رکھاتھا لیکن سرینگر اور جموں میں مسلم نوجوان بہت محتاط انداز میں سیاسی اور سماجی شعور اور عوام اپنے حقوق کے حصول کا احساس پیدا کرنے کیلئے کام کررہے تھے۔ 1931میں سرینگر سنٹرل جیل کے سامنے ہونے والا واقعہ کشمیر میں ایک انقلاب کی داگ بیل ڈال گیا۔او رکشمیریوں میں شعور اور بیداری کا سفر تیز ہوگیا۔ 1932میں کشمیری مسلمانوں نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے نام سے تنظیم قائم کی اس تنظیم کے پہلے صدرشیخ محمدعبداللہ جبکہ سیکرٹری جنرل چوہدری غلام عباس بنائے گئے۔ آپ نے ریاست کے مسلمانوں کی قیادت کاحق ادا کردیا۔ آپ نے جموں میں مسلم کانفرنس کومتعارف کرنے کیلئے اپنے روزگار کو بھی تہج دیا۔ مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں ضم کردیاگیاتھا تو آپ نے ملت کے وسیع ترمفاد میں اس فیصلے کو قبول کرلیا جلد ہی آپ کو اندازہ ہوگیا کہ ہندؤں کی حمایت حاصل کرنے کی خاطر مسلم کانفرنس کا نیشنل کانفرنس میں بدلنے کاتجربہ کچھ کامیاب نہیں رہا جس کے بعد آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کو بحال کردیاگیااورآپ اس قافلے کے روح رواں بن گئے۔ رائیس الاحرار چوہدری غلام عباس ریاست جموں وکشمیر مسلم کانفرنس میں مسلم لیگ اور قائداعظم کے جانشین بن کر رہ گئے۔ اس دوران برصغیر کی تحریک آزادی میں پاکستان کے قیام کی جدوجہد کے ایک نئے عنصر کااضافہ ہوگیا۔ ریاستی مسلمانوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کی حامی تھی مسلم کانفرنس اور رائیس الاحرار نے مسلمان ریاست کے ان رحجانات کی بناء پر کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد شروع کردی۔ قائداعظم محمد علی جناح بھی ریاست کی سیاست میں قائد کشمیر چوہدری غلام عباس پراعتماد کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم نے کشمیر کی سرزمین پر اعلان کیا کہ کشمیر میں مسلم کانفرنس میں مسلم لیگ ہے۔ اور کشمیر میں چوہدری غلام عباس ہی ہمارے نمائندے ہیں۔ تکمیل پاکستان کی جدوجہد میں چوہدری صاحب نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔قیام پاکستان کے وقت بھی آپ ڈوگرہ حکمرانوں کی قید میں تھے۔ ہندواور سکھ بلوائیوں نے آپ کی صاحبزادی کو بھی اغواہ کیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چوہدر ی غلام عباس گفتار کے بجائے کردار کے غازی تھے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ پاکستان آئے اور قائداعظم محمد علی جناح سے کراچی میں ملاقات کی۔قائداعظم نے آپ کو آزادکشمیرحکومت کا سپریم ہیڈمقرر کیا۔1951تک آپ اس منصب پر فائز رہے۔ بعد میں محلاتی سازشیں شروع ہوئیں اور اس عظیم بطل حریت کو سیاست سے کنارہ کشی کرنا پڑی۔ جب مقبوضہ کشمیر میں مظالم بڑھ گئے تو قائد کشمیر نے کشمیر لبریشن موومنٹ کے نام سے کنٹرول لائن عبور کرنے کی تحریک شروع کی۔اس تحریک کو حکومت پاکستان نے ناکام بنایا اورقائدکشمیر کو نظر بند کردیا۔ رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ زندگی بھر برداشت، درگزر مساوات کے اصولوں پر کار بند رہے۔ آپکی شخصیت کشمیر کے لئے باعث فخر ہے۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ان جیسا انتہائی دین دار، محب الوطن کشمیر اور پاکستان سے محبت کرنے والا جموں کشمیر کی دھرتی میں پیدا ہوا۔چوہدری غلام عباس پکے توحید پرست، سچے عاشق رسول تھے جنہوں نے اپنی جوانی کے ابتدائی دنوں سے ہی برصغیر کے مسلمانوں بالخصوص کشمیریوں کو انگریزوں اور ڈوگروں کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لئے کار ہائے نمایاں انجام دیئے۔ انہوں نے انتہائی مشکل وقت میں کشمیری مسلمانوں کی سرپرستی و رہنمائی کا بیڑا اٹھایا۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے تشخص ووقار کو بلند کیا مسئلہ کشمیر کو قومی مسئلے کی حیثیت سے زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئے۔چوہدری غلام عباس نے کشمیر کی تحریک آزادی کے لئے اہم کردار ادا کیا اور اپنی پوری زندگی اس مقصد کیلئے وقف کردی۔چوہدری غلام عباس نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور دلی طور پر ریاست کے پاکستان سے الحاق کی حمایت کی اور اس نصب العین سے وابستہ رہے۔ 1967میں ریاست جموں وکشمیر کا یہ عظیم رہنما یہ کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوا جب انہوں نے مجاہد اول سردار محمدعبدالقیوم خان کاہاتھ اپنے ہاتھ میں دیا اور کہہ رہے تھے کہ قیوم تم اللہ کے حوالے اور قوم تمہارے حوالے۔اس کے بعد عظیم قائد نے اپنی آنکھیں بند کر کے جان جان آفریں کے سپردکردیں۔رائیس الاحرار کاقافلہ آج بھی قائد کشمیر سردارعتیق احمدخان کی قیادت میں منزل کی جانب رواں د واں ہے۔




