کالمز

ایڈھاک ملازمین سے متعلق بننے والی کمیٹی

پروفیسر ریاض اصغر ملوٹی

7جنوری 2026ء حکومت آزادکشمیر نے جملہ محکمہ جات میں ایڈھاک، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کی سروس کو باقاعدہ بنانے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے وزراء اور سینئر بیوروکریٹس پر مشتمل 5رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں دیوان علی چغتائی وزیر تعلیم سکولز، جاوید اقبال بڈھانوی وزیر خوراک، سردار ضیاء القمر وزیر تعمیرات عامہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور اور سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آزادکشمیر ایک چھوٹی سی نیم خود مختار ریاست جس کی کل آبادی 45لاکھ کے قریب ہے اس میں سے بھی 10لاکھ سے زائد پاکستان اور مختلف بیرون ممالک میں روزگار کرتے ہیں رقبہ تقریباً ساڑھے چار ہزار مربع میل ہے ریاست میں انتظامی مشینری اور مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے اگر کمی ہے تو گڈ گورنس کی ہے بہتر منصوبہ بندی کی کمی ہے رشوت سفارش عصبیت میرٹ کی پامالی عدم مساوات جلد اور آسان انصاف کی فراہمی کی کمی ریکروٹمنٹ نظام میں شفافیت کی کمی جیسے مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا گیا ہر حکومت نے پبلک سروس کمیشن کو فعال بنانے کے بجائے ایڈھاک ازم کی ناقص پالیسی کو فرو غ دیا جس کی وجہ لائق اور اہل لوگوں کو ملازمتوں کے مواقع کم ملے نا انصافی ہوتی رہی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا ریاست میں جریدہ آسامیوں یعنی گریڈ 16اور بالا آفیسران کی بھرتی کا ایک سہل اور قابل عمل آئینی طریقہ کار یعنی بذریعہ پبلک سروس کمیشن موجود ہے مگر ہر حکومت نے جان سمجھ کر پبلک سروس کمیشن کے ادارے کو غیر فعال بنا کر سیاسی بنیاد پر من مرضی کے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ایڈھاک تقرریوں کا سلسلہ جاری رکھا آزادکشمیر کی چھوٹی سی ریاست میں آج بھی جملہ محکمہ جات میں ہزاروں ایڈھاک ملازمین کئی سالوں سے کام کر رہے ہیں کوئی واضح پالیسی نہیں میں ذاتی طور پر متعدد ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو 25سال سے زائد اور پیرانہ سالی کی حد عمر 60سال پوری کرکے ایڈھاک سروس سے فارغ ہو چکے ہیں خالی ہاتھ گھروں کو گئے ہیں انہیں پنشن یا کوئی حقوق نہیں مل سکے۔ اگر پبلک سروس کمیشن کے ادارے کو فعال رکھا جاتا تسلسل سے اس کے مقابلے کے امتحانات جاری رہتے تمام محکمے بروقت خالی آسامیوں کی فہرست پبلک سروس کمیشن کو مہیا کرتے رہتے اور تمام محکمے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں نہ کرتے جن کا سہارالے کر لوگ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے حکم امتناعی حاصل کرکے سال ہا سال پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں رکاوٹ پیدا کرتے رہے ان کمزوریوں اور خامیوں کا بے پناہ نقصان ہوا جان سمجھ کر اس طرح کے مسائل پیدا کئے جاتے رہے تاکہ منظور نظر افرادکو فائدہ پہنچایا جائے اور تسلسل سے حقداروں کی حق تلفی ہوتی رہی اس نہایت ہی خراب صورت حال پر کوئی بھی حکومت قابو نہیں پا سکی آزادکشمیر دنیا کی واحد ریاست ہے جہاں ملازمت حاصل کرنے کے لئے حد عمر معیاد اب 41سال کردی گئی یعنی ادھیڑ عمر میں بھی آپ سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں شروع میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لئے حد عمر 25سال رکھی گئی پھر 30سال پھر 35سال پھر 40سال اور اب فیصل ممتاز راٹھور صاحب وزیر اعظم نے ایک سال مزید اضافہ کرکے 41سال کر دی ہے پوری دنیا میں اس کی ایسی مثال نہیں ملتی ایک عجیب کھیل تماشہ اور مذاق ہے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بروقت اور اہل آفیسران کا انتخاب کوئی مشکل اور پیچیدہ نظام نہیں کہ اس پر عمل نہ ہو سکے خدارا ایڈھاک ازم کی پالیسی کے بجائے پبلک سروس کمیشن کو فعال بنائیں اس لعنت اور بیماری سے جان چھڑاکر مستحق اہل لوگوں کو جو اعلیٰ تعلیمیافتہ بیروزگار پریشان حال زندگی گزار رہے ہیں موقع دیا جائے مسلم کانفرنس کی حکومت نے ماضی میں سردار عتیق صاحب کی ایماء پر 484جریدہ آفیسران کو بغیر پبلک سروس کمیشن کے بھرتی کرکے ایک غیر آئینی وایت قائم کرنے کی کوشش کی تھی جو ناکام بھی ہوئی اوربدنامی کا ذریعہ بھی بنی پھر آنے والی ہر حکومت نے منظور نظر ایڈھاک لوگوں کو ملازمتوں پر پکا کرنے ان کی سروس کو باقاعدہ بنانے کی غرض سے کوشش کی مگر ہر دور میں ایسے فیصلے اور غیر آئینی ہتھکنڈوں کو ناکامی ہوئی اب بھی ایسے غیر آئینی غیر اخلاقی اور غیر معروف طریقے ناکام ہوں گے ایسا کوئی بھی چور دروازہ نہ کھولا جائے جس سے آنے والی حکومتیں ناجائز تقرریاں کرکے حقداروں کی حق تلفی کریں اگر ایسا کیا گیا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی ایڈھاک ملازمین کے مسائل کو حل کرنے کے لئے حالیہ بننے والی 5رکنی کمیٹی اچھا اقدام ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ بغیر پبلک سروس کمیشن کے ایڈھاک ہزاروں لوگوں کو مستقل کر دیا جائے مختلف محکمہ جات میں تعینات ایڈھاک لوگوں کو پبلک سروس کمیٹی کے سامنے مقابلے کے امتحان میں شمولیت کا موقع فراہم کیا جائے جن ایڈھاک ملازمین کی سروس کا دورانیہ 10سال سے زائد ہے انہیں تجربے کی بنیاد پر پبلک سروس کمیشن مقابلے کے امتحان مں مناسب اضافی نمبرات دے کر ضرور ہمدردی کی جائے ان کی حد عمر میں رعایت دی جائے لیکن پی ایس سی میں شمولیت کے بغیر مستقل کئے جانے کا ہرگز کوئی فیصلہ نہ کیا جائے پبلک سروس کمیشن میں شمولیت کے دو یا تین مواقع رکھے جائیں اور اس پر سختی سے عمل کیا جائے ہم نے کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے جو 5بار سے بھی زائد دفعہ پی ایس سی میں گئے مگر کوالیفائی نہیں کر سکے۔ پبلک سروس کمیشن میں لائق اور غیر جانبدار لوگ لگائے جائیں ماضی کی طرح اس ادارے میں مداخلت کا سلسلہ نہ کیا جائے ادارے کو آزادانہ انصاف، میرٹ پر ریکروٹمنٹ کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے کسی ایڈھاک ملازم کو پبلک سروس کمیشن میں بغیر شمولیت کا موقع فراہم کئے نوکری سے نہ نکالا جائے پبلک سروس کمیشن کے قواعد و ضوابط میں سختی سے عمل کیا جائے اور پی ایس سی کی تنظیم میں چیئرمین اور ممبران ایسے افراد لگائے جائیں جو مکمل غیر جانبدار ہوں جن کی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہو اور تجربہ کار لائق لوگ ہوں بننے والی 5رکنی کمیٹی سے توقعات ہیں کہ خطے میں میرٹ اور انصاف کی بالادستی قائم کرنے اور کسی چور دروازے کو کھولنے میں رکاوٹ بن کر مثالی اور تاریخی فیصلہ کرے گی۔

Related Articles

Back to top button