مظفرآباد میں سرکاری اراضی اشٹامپ پیپرزپر فروخت کرنے کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا

مظفرآباد (سپیشل رپورٹر)دارالحکومت مظفرآباد میں سرکاری زمین اشٹاموں پر فروخت کرنے کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے۔ پورے شہر کے نالوں اور شاملات کو اشٹاموں پر فروخت کر دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری زمین کی فروختگی میں چہلہ بانڈی اس وقت ہب بن چکا ہے۔ چہلہ بانڈی میں محکمہ جنگلات کی زمین اور اس پر لگائے گئے درختوں کو کاٹ کر تعمیرات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ چہلہ بانڈی اپر میرا بانڈی میر صمدانی میں محکمہ جنگلات اور شاملات کی کروڑوں روپے مالیت کی زمین پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد میں اشٹاموں پر سرکاری زمین فروخت کرنے کا دھندا عروج پر پہنچ گیا ہے اور چہلہ بانڈی میں سرکاری زمین کی اشٹاموں پر فروخت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ جنگلات نے کئی سال قبل چہلہ بانڈی کے سفید رقبے میں شجرکاری کی تھی، اب یہ درخت جوان ہو چکے ہیں، لیکن مافیا نے محکمہ مال کے عملے کے ساتھ مل کر سرکاری زمین پر اشٹاموں کے ذریعے قبضہ شروع کر دیا ہے۔ عوامی شکایات پر گزشتہ روز اے سی مظفرآباد حماد بشیر نے چھاپہ مارا اور موقع پر لگی ہوئی ایکسکیویٹر مشین بند کروائی، لیکن طاقتور مافیا کے سامنے اے سی بے بس نکلے۔ اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس کے واپس آتے ہی دوبارہ کام کا آغاز کر دیا گیا۔؎محاسب تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چہلہ بانڈی میں سرکاری زمینیں سب سے زیادہ مقبول ڈار پٹواری کے دور میں فروخت ہوئیں۔ چہلہ بانڈی میں سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرنے والے اور اشٹاموں پر زمینیں فروخت کرنے والے پٹواری مقبول ڈار کو مافیا نے سزا دینے کے بجائے گرداور کے عہدے پر ترقی دے دی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مقبول ڈار کو چہلہ بانڈی میں سیاسی عناصر کی پشت پناہی بھی حاصل رہی ہے۔ محکمہ جنگلات نے چپ سادھ لی ہے۔ دارالحکومت کی سرکاری زمینیں قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہیں۔ جو بھی سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے یا مافیا اور محکمہ مال کے ساتھ مک مکا کرتا ہے، وہ دھڑلے سے سرکاری زمین پر قبضہ کر لیتا ہے۔اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دو تین سال میں چہلہ بانڈی کے عقب میں واقع محکمہ جنگلات اور تمام سرکاری زمین پر قبضہ ہو جائے گا۔ محاسب تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چہلہ بانڈی کی سرکاری زمینوں پر اشٹاموں کے ذریعے قبضہ کرنے میں محکمہ مال کے افسران بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ مافیا چہلہ بانڈی کی سرکاری زمینوں کے دس اور سات مرلے کے پلاٹ محکمہ مال کے افسران کو گفٹ کر رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح سپریم کورٹ نے کامسر کو بچانے کے لیے حکم دیا تھا اور سپریم کورٹ کی وجہ سے کامسر کی سرکاری زمینیں بچ گئیں، اب عوام سپریم کورٹ سے ایک بار پھر یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اپر میرا بانڈی میر صمدانی کی سرکاری زمینوں کو بچا کر قوم پر ایک عظیم احسان کیا جائے، کیونکہ چہلہ بانڈی کے عوام سیاسی عناصر اور انتظامیہ سے مایوس ہو چکے ہیں، اس لیے ان کی نظریں اعلیٰ عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں۔



