کالمزمظفرآباد

رمضان المبارک، سرکاری ناقص آٹا اور حکومتی مجرمانہ غفلت

تحریر: قاضی عزیز احمد

رمضان المبارک جیسا مقدس مہینہ، جس میں ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کو بنیادی ضروریاتِ زندگی بلا تعطل اور معیاری انداز میں فراہم کرے، آزاد جموں و کشمیر میں بدترین انتظامی نااہلی اور سرکاری غفلت کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ محکمہ فوڈ آزاد کشمیر کی جانب سے فراہم کیا جانے والا سبسڈی والا آٹا نہ صرف ناقص اور غیر معیاری ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ راولپنڈی سے آزاد کشمیر میں معیاری آٹے کی ترسیل پر بین الاضلاعی پابندی عائد کر کے حکومت نے عملاً عوام کو غیر معیاری آٹا کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس پابندی کے نتیجے میں مارکیٹوں سے معیاری آٹا غائب ہو چکا ہے، جبکہ سرکاری گوداموں سے ملنے والا آٹا رنگ، بو اور ذائقے کے لحاظ سے ناقابلِ استعمال ہونے کی شکایات عام ہیں۔ یہ صورتحال محض بدانتظامی نہیں بلکہ عوامی صحت سے کھلا کھیل ہے۔فوڈ اتھارٹی آزاد کشمیر کی کارکردگی اس پورے معاملے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت اس ادارے پر لازم ہے کہ وہ اشیائے خورونوش کے معیار کو یقینی بنائے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ نہ تو آٹے کے سیمپلز کی شفاف جانچ ہو رہی ہے، نہ ہی عوامی شکایات پر کوئی مؤثر کارروائی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر فوڈ اتھارٹی اپنا قانونی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے تو پھر اس ادارے کا وجود محض کاغذی کارروائی کیوں نہ سمجھا جائے؟آزاد کشمیر کا آئین اور متعلقہ قوانین حکومت کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ وہ شہریوں کو صحت مند زندگی کے بنیادی حقوق فراہم کرے۔ آئین کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو معیاری خوراک، صاف پانی اور صحت کی سہولیات مہیا کرے۔ ناقص آٹا فراہم کرنا آئینی ذمہ داریوں سے انحراف اور عوامی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر محض وضاحتیں نہیں بلکہ جواب دہی لازم ہے۔حکومت آزاد کشمیر کو فوری طور پر محکمہ فوڈ کی کارکردگی کا آڈٹ کروانا چاہیے، ناقص آٹا فراہم کرنے والے مل مالکان اور ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور راولپنڈی سمیت دیگر علاقوں سے معیاری آٹے کی ترسیل پر عائد غیر منطقی پابندی فی الفور ختم کی جائے۔ بصورتِ دیگر یہ تاثر مزید مضبوط ہو گا کہ ریاست خود اپنے شہریوں کے استحصال میں شریک ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر رمضان میں سبسڈی کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، مگر اس کا فائدہ عوام تک پہنچنے کے بجائے ناقص انتظام، کرپشن اور ملی بھگت کی نذر ہو جاتا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام کا حکومت پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، جس کی ذمہ داری براہِ راست حکمرانوں پر عائد ہو گی۔رمضان المبارک میں عوام کو سرکاری ناقص آٹا دینا صرف بدانتظامی نہیں بلکہ ایک اخلاقی جرم اور قانونی غفلت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت آزاد جموں وکشمیر زبانی دعوؤں سے نکل کر عملی اقدامات کرے، وگرنہ عوام اپنے آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر مجبور ہوں گے۔
٭٭٭٭٭٭

Related Articles

Back to top button