
اسلام Èباد(یواین پی ) وزیر دفاع خواجہ Èصف نے عندیہ دیا ہے کہ میرا خیال ہے پاکستان رمضان سے پہلے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں۔ایک انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا حتمی وقت نہیں بتا سکتا لیکن یہی کہوں گا جتنا جلدی ہو رسپانس دینا پڑے گا۔خواجہ Èصف نے کہا کہ تھرڈ پارٹیاں مذاکرات کر رہی ہیں ان کو بھی احساس ہوگا تاخیر کے نقصانات پاکستان کو اٹھانا پڑ رہے ہیں، دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں، ہم بات کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوسرے دن ان کے لوگ پاکستان میں حملہ کر دیں۔خواجہ Èصف نے کہا کہ افغان طالبان عبوری حکومت سے کسی نا کسی طریقے سے رابطہ برقرار رہتا ہے، کوئی تجویز نہیں دے رہا لیکن کوئی واپس Èنا چاہیں یا کہیں اور بسانا چاہیں تو پھر حل نکل سکتا ہے، وہ خود کہتے ہیں کہ ہم تحریری گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں زبانی کہہ سکتے ہیں، وہ چاہتے ہیں خطے میں امن ہو تو تمام ممالک مل کر افغانستان کی گارنٹی دیں تو مالی امداد کا Èپشن بھی طے ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سیاست بذات خود ثبوت ہے کہ انہوں نے لمبا سفر طے کیا ہے، میاں صاحب کا 99، 93 میں سیاست پر جو اعتماد سامنے Èیا وہ سب نے دیکھا، ہم نے اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔انہوںنے کہا کہ ملکی صورتحال میں فوج سویلین حکومت کو سپورٹ کر رہی ہے تو میرا خیال ہے یہ حکومت کا حصہ ہے۔ دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، یہ واضح ہونا چاہیے سیاسی اور ملٹری اداروں کو شانہ بشانہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے، دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ ہے اور ہم نے مل کر اسے جیتنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بہترین انداز میں کام کر رہی ہے تمام صوبے ایک پیج پر È رہے ہیں، کم از کم وفاق اور کے پی حکومت دہشتگردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں اس کے علاوہ دست و گریبان ہوتے رہیں گے۔



