کالمز

آزاد کشمیر ضلع جہلم ویلی میں سرکاری تعلیمی اداروں میں اضافی فیسوں کا المیہ۔

تحریر: قاضی عزیز احمد

آزاد کشمیر بالخصوص ضلع جہلم ویلی کے سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات سے مختلف مدّات میں اضافی فیسوں کی وصولی ایک سنگین اور توجہ طلب مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ ادارے“سرکاری”کہلاتے ہیں جہاں تعلیم مفت یا انتہائی معمولی اخراجات کے ساتھ فراہم کی جانی چاہیے، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ والدین سے داخلہ فیس، امتحانی فیس، صفائی فنڈ، اسپورٹس فنڈ، بلڈنگ فنڈ، حتیٰ کہ اضافی اساتذہ کی تنخواہوں کے نام پر بھی رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔
سکول انتظامیہ کا مؤقف سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اداروں میں مستقل اساتذہ اور عملہ کی شدید کمی ہے۔ کئی مڈل اور ہائی سکولوں میں سینکڑوں طلبہ وطالبات کے لیے محض آٹھ یا دس اساتذہ موجود ہیں، جس سے تدریسی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے میں سکول انتظامیہ مجبورا اعزازی (Honorary) اساتذہ تعینات کرتی ہے تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ ان اعزازی اساتذہ کو ماہانہ معاوضہ دینے کے لیے طلبہ سے اضافی فیس وصول کی جاتی ہے۔انتظامیہ یہ بھی مؤقف اپناتی ہے کہ اگر یہ قدم نہ اٹھایا جائے تو کلاسز خالی رہیں گی، نصاب مکمل نہیں ہو سکے گا اور بورڈ کے نتائج متاثر ہوں گے، جس کا براہ راست نقصان طلبہ کو ہوگا۔اصل سوال: ذمہ داری کس کی؟یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنا والدین کی ذمہ داری ہے؟ کیا محکمہ تعلیم اور حکومت آزاد کشمیر کی آئینی و قانونی ذمہ داری نہیں کہ وہ ہر سرکاری ادارے میں مطلوبہ سٹاف تعینات کرے؟آزاد کشمیر کے آئین اور تعلیمی پالیسیوں کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی تعلیم کی سہولت فراہم کرے۔ اگر حکومت اساتذہ کی آسامیوں پر بروقت تقرریاں نہیں کرتی تو اس کا بوجھ براہ راست غریب والدین پر ڈال دینا کہاں کا انصاف ہے؟غریب والدین پر معاشی دباؤ ضلع جہلم ویلی کے بیشتر علاقوں کا تعلق دیہی اور متوسط یا نچلے متوسط طبقے سے ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے، وہاں سرکاری سکولوں کی اضافی فیسیں والدین کے لیے ایک اضافی بوجھ بن چکی ہیں۔ کئی والدین مجبوراً بچوں کو سکول سے نکالنے یا تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہ صورتحال شرحِ خواندگی اور تعلیمی معیار دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔قانونی اور انتظامی پہلو
سرکاری اداروں میں فیسوں کی وصولی کے واضح قواعد و ضوابط ہونے چاہئیں۔اگر کسی مد میں فیس لی بھی جائے تو اس کی باقاعدہ منظوری محکمہ تعلیم سے ہونا ضروری ہے۔اعزازی اساتذہ کی تعیناتی عارضی حل ہو سکتا ہے، مستقل نہیں۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کو چاہیے کہ وہ سکولوں کا آڈٹ کریں اور غیر قانونی فیسوں کی وصولی کی تحقیقات کریں۔اگر کہیں واقعی سٹاف کی کمی ہے تو فوری طور پر کنٹریکٹ یا مستقل بنیادوں پر تقرریاں کی جائیں، تاکہ والدین پر مالی بوجھ ڈالنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔عوامی نمائندوں کا کردارمنتخب نمائندے، ایم ایل ایز اور متعلقہ وزراء کو چاہیے کہ وہ ضلع جہلم ویلی کے سکولوں کی زمینی صورتحال کا جائزہ لیں۔ اسمبلی میں اس مسئلے کو اٹھایا جائے اور مستقل حل کے لیے بجٹ مختص کیا جائے۔ تعلیم پر خرچ کو خرچہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھا جائے۔اصلاحِ احوال کی ضرورت
وقت آ گیا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر ایک جامع پالیسی مرتب کرے جس کے تحت:تمام خالی آسامیوں پر فوری تقرریاں کی جائیں۔اعزازی اساتذہ کی ادائیگی حکومت اپنے ذمہ لے۔فیسوں کے نام پر اضافی وصولیوں کا خاتمہ کیا جائے۔والدین اور سکول انتظامیہ کے درمیان شفاف کمیٹی قائم کی جائے۔نتیجہ ضلع جہلم ویلی کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اضافی فیسوں کا مسئلہ محض مالی معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاستی ذمہ داری، تعلیمی انصاف اور سماجی مساوات کا سوال ہے۔ اگر آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو کل ہمارے بچوں کا تعلیمی مستقبل داو? پر لگ جائے گا۔تعلیم ہر بچے کا حق ہے، احسان نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حق کی حفاظت یقینی بنائے، تاکہ سرکاری سکول واقعی عوامی ادارے بن سکیں، نہ کہ مالی بوجھ کا ذریعہ۔

Related Articles

Back to top button