میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر یاسین کو عہدے سے ہٹا دیا گیا‘ شدید عوامی ردِعمل
ہٹیاں بالا (بیورو رپورٹ)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم ویلی کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ سئنیر ڈاکٹر محمد یاسین کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ ڈاکٹر احمد جنید کو نیا میڈیکل سپرٹنڈنٹ تعینات کر دیا گیا۔ انتظامی فیصلے کے بعد ضلع بھر میں عوامی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر محمد یاسین نے اپنے دورِ تعیناتی کے دوران ہسپتال کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے۔ ان کی قیادت میں ڈائیلاسز سنٹر کا قیام عمل میں آیا جس سے گردوں کے مریضوں کو مقامی سطح پر علاج کی سہولت میسر آئی۔ ایمرجنسی بلاک کی ازسرِ نو تعمیر کے باعث ہنگامی طبی خدمات میں نمایاں بہتری آئی جبکہ آکسیجن پلانٹ کی تنصیب نے ہسپتال کو جدید طبی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔اسی طرح ہسپتال کے لیے بجلی کا الگ بریکر نصب کیا گیا جس سے لوڈ مینجمنٹ کے مسائل میں کمی آئی۔ پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے واٹر سپلائی کی منظوری حاصل کی گئی جبکہ ہسپتال روڈ کی تعمیر سمیت دیگر ترقیاتی کام بھی مکمل کیے گئے۔ مقامی حلقوں کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف مریضوں بلکہ طبی عملے کو بھی خاطر خواہ سہولیات حاصل ہوئیں۔فیصلے کے بعد عوام علاقہ جہلم ویلی، سول سوسائٹی اور مختلف سماجی حلقوں نے احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیر صحت، سیکرٹری صحت عامہ اور ڈائریکٹر جنرل صحت عامہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد اور طبی سہولیات کے تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر محمد یاسین کو دوبارہ میڈیکل سپرٹنڈنٹ کے عہدے پر بحال کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسین کی خدمات ہسپتال کی بہتری اور مریضوں کی فلاح کے لیے نمایاں رہی ہیں، لہٰذا ایسے افسران کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔




