شہدائے لندن بشارت حسین‘محمدحنیف کا یوم شہادت عقیدت و احترام سے منایا گیا
میرپور(ظہور الرشید سے)حنیف شہید و بشارت شہید کی جانی قربانی اور غازی دلاور کی جرأت و دلیری کشمیری عوام کی مملکت خداداد پاکستان سے محبت اور مسلح افواج پاکستان سے والہانہ عقیدت کا وہ لازوال واقعہ ہے جو تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا جائیگا۔ کشمیری تارکین وطن مقیم برطانیہ کیو طن عزیز کیلئے خدمات باعث تحسین ہیں۔ان خیالات کا، اسحاق چوہان،مشتاق مغل،راجہ ذوالفقار، نے گورنمنٹ ائلٹ ہائی سکول نمبر2 میرپور میں شہدائے لندن کے 53 ویں یوم شہادت کی تقریب سے مشتاق مغل نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پائلٹ ہائی سکول نمبر2 کے طلباء نے شہدا لندن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بینڈ کی دھنوں پر قومی ترانہ، مارچ پاسٹ اور سلامی پیش کی۔ اس تقریب کے صدارت مشتاق مغل پرنسپل ادارہ ہذا نے کی۔جس میں سکول کے اساتذہ کرام اور طلبہ نے شرکت کی۔ تقریب سے اسحاق چوہان، مشتاق مغل، یاسرمحمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1970-71ئکی پاک بھارت جنگ اور سقوط ڈھاکہ کے وقت جب بھارت نے پاکستان کے 90 ہزار فوجی قید کر لئے تو قوم شدید دکھ و کرب کا شکار تھی۔ پاکستان کی تمام تر کوششوں، سفارتی کاوشوں اور اپیلوں کے باوجود بھارت ہمارے فوجی رہا کرنے پر تیار نہ تھا اور برطانیہ میں مقیم ہندوطلبہ ہمارے بچوں سے چھیڑ خوانی کر کے تمسخر اڑاتے اور سڑکوں بازاروں میں ہماری کمیونٹی کے لوگوں پر طعنہ زنی کر کے سیٹیاں بچاتے اور اپنی فتح کے چرچے کرتے تھے۔ایسے پریشان کن حالات میں میں میرپور کے تین نوخیز نوجوانوں حنیف، بشارت اور دلاور کی ملی و قومی غیرت بھڑک اٹھی اور وہ 20 فروری1973ئکو نمائشی کھلونا پستول لے کر بھارتی ہائی کمیشن آفس لندن داخل ہو گئے اور زور دار نعرہ لگایا کہ ہمارے فوجی قیدی رہا کرو، کشمیر سے قبضہ ختم کرو اس دوران پولیس نے آکر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے حنیف و بشارت موقع پر شہید ہو گئے اور دلاور زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد برطانیہ اور میرپور مظاہرے شروع ہو گئے۔ برطانیہ میں بڑے بڑے جلوسوں میں یورپی یونین کے ممبران، برٹش ممبران پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھی شامل ہو گئیں۔ مطالبہ یہ تھا کہ پولیس نے نوجوانوں کا موقف معلوم کرنا چاہئے تھا ان کے پاس کھولنا نمانمائشی پستول تھے وہ تو اپنے مطالبات پر احتجاج کرنے ائے تھے۔ یہ مقدمہ عدالت میں لگا تو برطانوی پولیس چیف نے معافی مانگ لی تھی۔ تاہم ہمارے نوجوانوں کی قربانی سے بھارت میں قید پاکستانی فوجیوں کی رہائی کے معاملہ کو بہت تقویت ملی اور ان کی رہائی میں شہدائے لندن کا گرم گرم مقدس لہو بھی شامل ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے و ہ کم ہے۔، اسحاق چوہان اور یاسر محمودنے کہا کہ یکم مارچ1973ئکو جب ان شہدائکے جسدخاکی وطن لائے گئے تو ان کا تاریخ ساز استقبال ہوا۔ حنیف شہید کا مقبرہ مرکزی عیدگاہ میرپور اور بشارت شہید کا مقبرہ پلاک (چکسواری) کے مقام پر تعمیر کر کے حکومت نے ہر سال 20 فروری کو ان شہدائکی دن سرکاری طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ محمد اسحاق چوہان، محمد لطیف غوث، نے اپنے خطاب میں شہدائلندن کی عظیم قومی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوے مطالبہ کیا کہ نئی نسل کو اس تاریخ اور خون آشام واقعہ سے آگاہ کرنے کیلئے کم از کم پرائمری مڈل کے نصاب میں یہ بطور خاص شامل کیا جائے تاکہ نونہالاں میں قومی شعور و آگہی پیدا ہو سکے۔مقررین نے کہا کہ شہدائلندن کی قربانی کو پاکستان قومی اسمبلی کے اجلاس میں خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا اور شہدائکے درجات کی سربلندی کیلئے مولانا شاہ احمد نورانی نے دعا کروائی تھی۔ یہ واقعہ کشمیری عوام کا مسلح افواج پاکستان اور مملکت خداداد پاکستان سے عقیدت کا وہ تاریخی باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائیگا۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک کے دوران کشمیری مظاہرین جلسے جلوسوں میں پاکستان کے پرچم بلند کر کے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور شہدائکشمیر کے تابوتوں پر لپٹے پاکستانی پرچم تحریک کی منزل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے دفاع سلامتی اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے آخری دم تک لڑتے رہیں گے آخر میں پاکستان کے تحفظ وسلامتی، مقبوضہ کشمیر کی آزادی، شہدائے لندن کے درجات کی بلندی کیلئے قاری محمداسحاق نے خصوصی دعا کی گئی۔




