مظفرآباد

بھارت، اسرائیل اسٹرٹیجک معاہدہ خارج از امکان نہیں، سردار مسعود

اسلام آباد (بیورو رپورٹ)آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر و مستقل مندوب سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دور? اسرائیل سے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی اور علاقائی جغرافیائی سیاست کے شعبوں میں تعاون کے فروغ اور پہلے سے موجود اسٹریٹجک فریم ورک کے مزید استحکام کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل محض دوطرفہ شراکت دار نہیں بلکہ وہ وسیع تر اسٹریٹجک انتظامات کا حصہ ہیں، جن میں آئی ٹو یو ٹو گروپنگ سمیت مغربی حمایت یافتہ فورمز شامل ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ دورے کے دوران ہونے والی بات چیت سے دونوں ممالک کے درمیان ایک خصوصی اسٹریٹجک معاہدے کے امکانات کا اشارہ ملتا ہے، جو اسرائیل کے امریکہ اور جرمنی جیسے ممالک کے ساتھ دفاعی انتظامات سے مماثلت رکھ سکتا ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کے تحت ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور مشترکہ دفاعی پیداوار کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکتی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ ماضی میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران میں بھارت نے اسرائیلی ساختہ دفاعی سازوسامان پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو کسی قسم کی گھبراہٹ لاحق نہیں، کیونکہ ملک نے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور تزویراتی شراکت داریوں کو مضبوط بنا کر مؤثر ڈیٹرینس قائم کر رکھا ہے۔ البتہ، ان کے بقول، دانشمندی کا تقاضا ہے کہ علاقائی پیش رفت پر گہری نظر رکھی جائے۔ اسرائیلی قیادت کے بعض بیانات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالیہ عرصے میں اسرائیل کا پاکستان سے متعلق عوامی لب و لہجہ نسبتاً محتاط رہا ہے، تاہم ممکنہ منفی رجحانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق تل ابیب میں بھارتی قیادت کی سرگرم سفارت کاری بعض پالیسی ساز حلقوں میں پاکستان سے متعلق منفی تاثر کو تقویت دے سکتی ہے، جس کے نتیجے میں انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس دورے کے نتیجے میں کسی فوری یا براہ راست عسکری خطرے کو محسوس نہیں کرتا۔ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے امریکہ، چین، ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک و دفاعی تعلقات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں نئی صف بندیاں تشکیل پا رہی ہیں۔

Related Articles

Back to top button