کالمزمظفرآباد

حضرت سید سائیں سہیلی سرکار کا اجمالی تعارف و تذکرہ

تحریر: سید محمد اسحاق نقوی

حضرت سید سائیں سہیلی سرکار کے آبا و اجداد ملتان سے گجرات اور پھر گجرات سے گوجر خان تشریف لائے اور گجرخان کے ایک قصبہ سید کسری میں سکونت اختیار کی۔ آپ کی ولادت علامہ مرید احمد چشتی کے حوالے سے 1857 ء مطابق 1273 ہجری میں ہوئی اصل نام مصدقہ روایات کے مطابق سید ذوالفقار شاہ ہے بعض راوی ان کا نام سید غلام محمد شاہ بھی بتاتے ہیں لیکن روایات کی تصدیق سید ذوالفقار شاہ ہی ہے، آپ نے قرآن مجید ناظرہ اور ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے حاصل کی حضرت سید سائیں سہیلی سرکار کی زندگی کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مادر زاد ولی تھے جس کے آثار بچپن ہی سے نظر آنے لگے تھے آپ کو دوران تعلیم ہی جذب کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کی چاہتوں سے آپ کو کوئی سروکار نہیں آپ کی طبیعت پر فقیرانہ رنگ تھا اسی لیے سیلانی طبیعت نے انہیں چین سے بیٹھنے نہ دیا فرمان الہی ہے ”کل سیروا فی الارض ” کے مصداق مشاہداتی علوم اور مظاہر فطرت کی لگن دل میں موجزن رہی جنگلوں اور بیابانوں کی راہ لی، جذبہ مستی کے عالم صحرا نوردی میں رہتے رہے، کئی مقامات پر چلہ کشی کی اور جہاد بالنفس کے عمل سے نفس امارہ کو مغلوب کرنے کی بھرپور کوشش کی، نفس امارہ سرکش نفس ہے اور اس کی شرانگیزوں سے بچنے کے لیے، اس سے معرکہ آرائی کرنا پڑتی ہے اس کی چاہتوں کی نفی اور اس کی خواہشات کو ترک کر کے اس کو مغلوب کرنا قرب الہی کا ذریعہ ہوتا ہے اسی مقصد کے حصول کے لیے حضرت سید سائیں سہیلی سرکار راولپنڈی،،مری، ایبٹ آباد اور ہری پور کے مختلف مقامات پر اقامت پذیر رہے اور چلہ کشی کی،ہری پور میں آپ کی ملاقات حضرت پیر سید فتح حیدر شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے ہوئی ان کی صحبت سے سکون قلب اور راحت روح میسر ہوئی اور ان کے مرید ہو گئے۔
مرشد کی نگرانی اور تربیت سے سلوک کی منزلیں طے کی پھر دوبارہ فرمانے باری تعالی ” سیر وا فی الارض ” کی راہ پر چل پڑے، سیون شریف میں حضرت لال شہباز قلندر کے دربار پر حاضری دی وہاں کچھ عرصہ خلوت میں رہے پھر حسن ابدال سے ہوتے ہوئے کورٹ نجیب اللہ تشریف لائے جہاں آج بھی ان کی نسبت سے بوہڑ والا تکیہ موجود ہے علامہ سید زاہد حسین نعیمی نے اپنی معروف تالیف تذکرہ اولیائے کشمیر جلد دوم میں علامہ مرید احمد چشتی کے حوالے سے لکھا ہے کہ مشہور ہے کہ حضرت سید سائیں سہیلی سرکار رحمتہ اللہ علیہ خواجہ شمس العارفین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے نعیمی صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے تحقیق حال کے لیے حضرت خواجہ غلام فخر الدین سیالوی سے رجوع کیا تو انہوں نے فرمایا فقیر نے معتبر ذرائع سے سنا ہے کہ حضرت سائیں سہیلی سرکار پیر سیال غریب نواز کے خلیفہ تھے، پہلے سالک تھے یعنی (متدین،متشرع سلوک اور طریقت کی منزلوں پر گامزن) بعد مجذوب ہوگئے،
ایبٹ آباد پہاڑ پر جب کوئی آبادی نہ تھی تو سائیں سہیلی سرکار اس پارٹی پر رسیاں باندھ کر چوک اور بازار بناتے اور اردو زبان میں کہتے ” ایک بازار یوں کھینچ دو اور ایک یوں ” مانسہرہ میں بھی اسی طرح کرتے چنانچہ مرور ایام کے بعد اس مرد حق کے آگاہ کے نقشوں کے مطابق ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں چوک اور بازار بنے ہوئے ان اللہ والوں کے بارے میں قلندر لاہوری حضرت علامہ اقبال نے کیا خوب صورت منظر کشی کی ہے فرماتے ہیں
نہ پوچھ ان کا ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
ید بیضاء لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
علامہ نعیمی صاحب، خواجہ غلام فخرالدین سیالوی لکھتے ہیں کہ مانسہرہ میں حضرت پیر سیال کے مخلص مرید عدد قاضی غلام نبی مانسہروی ہوئے ہیں ان کی زبانی اکثر سنا ہے کہ حضرت سائیں سخی سہیلی سرکار حضرت پیر سیال کے خلیفہ تھے، حضرت سائیں سخی سہیلی سرکار کے ایک خادم سید غلام حسین شاہ بخاری جو فاروقیہ فیکٹری کے نزدیک ایک غار میں محو عبادت رہتے تھے کا بیان ہے کہ حضرت سید سخی سہیلی سرکار قبلہ پیر سیال کے خلیفہ تھے، حضرت قاضی محمد شمس الدین درویش ہری پور کا بیان ہے کہ حضرت سائیں سہیلی سرکار قبلہ پیر سیال کے مرید تھے، محترم نعیم صاحب نے اپنی تالیف تذکرہ اولیاء کشمیر حصہ دوم میں سید محمود آزاد مرحوم کے حوالے سے لکھا ہے حضرت سید سائیں سہیلی سرکار اپنی اصلی نام کے بجائے دو ناموں ” اڑیا ” اور خواتین کو ” سہیلی ” کہتے تھے اور اسی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے ان ہی کے کہے گئے الفاظ ان پر چسپاں کرکے آپ کو ” سائیں اڑیا ” اور بعض نے سہیلی ” کہنا شروع کردیا۔ پھر آپ کا اصل نام ” سید ذولفقار شاہ ” لوگ بھول گئے اور سائیں سہیلی کہنا شروع کردیا۔ بایں صورت آپ رہتی دنیا تک حضرت سائیں سخی سہیلی سرکار کے نام سے مشہور ہوئے اور معروف رہیں گے ممکن ہے اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہو کہ صوفیائے کرام نے ہمیشہ بھائی چارے، اخوت و رواداری محبت و شفقت، اخلاق و مروت امن و آشتی کی تعلیم دی ہے لفظ سہیلی کے مفہوم پایا جاتا ہے،
حضرت سید سخی سائیں سہیلی سرکار کا مزار پرانوار آزاد کشمیر کے دارالعلوم مظفرآباد میں مرج خلائق ہے اور محکمہ اوقاف آزاد کشمیر کے زیر انتظام ہے مزار شریف جدید فن تعمیر کا آئینہ دار ہے مزار کا گنبد بڑا خوبصورت حسین جازب نظر اور بلند ترین ہے، احاطہ بڑا وسیع و عریض ہے خوبصورت مسجد تعمیر شدہ ہے قالین پردے لائٹنگ اور دیگر ضروریات و سہولیات موسم کے مطابق موجود ہیں زائرین اور مسافروں کے لیے لنگر اور قیام کا انتظام بھی ہے یہاں اقامتی و مقامی بچوں کے لیے مدرسہ تعلیم القران بھی موجود ہے محکمہ اوقاف حکومت آزاد کشمیر کے زیر تمام انتظام ہر سال یہاں 13 جنوری سے 21 جنوری تک بڑی شان شوکت سے عرس منایا جاتا ہے قرب و جوار اور دور دراز سے ارادت مند و عقیدت مند حاضر ہوتے ہیں محفل حمد و نعت مجالس وعظ و تذکیر کا باقاعدہ اہتمام ہوتا ہے جس میں علماء کرام مذہبی سکالرز، معروف نعت خوان حضرات سامعین و حاضرین کو مستفید فرماتے ہیں محفل سماع کا انعقاد بھی ہوتا ہے جس میں ملک بھر کے مشہور قوال اپنا پسندیدہ کلام سناتے ہیں اور عرس مبارک کے ایام میں معمول سے زیادہ رش ہوتا ہے زائرین حاضری کا شرف حاصل کرتے ہیں بلکہ آخری دن ضلع مظفراباد میں عام تعطیل رہتی ہے صدر ریاست وزیراعظم خصوصی طور پر شرکت کرتے ہیں پوری شہر میں عید جیسا سماں ہوتا ہے عرس مبارک کے اختتام پر ملک پاکستان کی سلامتی ترقی خوشحالی اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور عالم اسلام کے اتحاد و یگانگت کے لیے دعا کی جاتی ہے۔

Related Articles

Back to top button