آپریشن غضب للحق میں پاک فوج کی 50 مختلف مقامات پر کارروائیاں

اسلام آباد(محاسب نیوز) وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق کی تفصیلات جاری کردیں۔وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 481 کارندے ہلاک جبکہ 696 سے زائد زخمی ہوئے۔پاک افواج نے افغان طالبان رجیم کی 226 چیک پوسٹس تباہ کیں اور 35 کو قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ افغان طالبان رجیم کے 198 ٹینک، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ کر دی گئی ہیں۔عطا اللہ تارڑ کے مطابق افغانستان میں 56 مقامات کو فضائی کارروائی میں موثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے دوران پاکستان نے افغانستان کے اہم ترین بگرام ائیربیس کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے حملے میں بگرام ائیربیس کا ایک ائیرکرافٹ ہینگر اور دو ویئر ہاؤسز تباہ ہوئے جبکہ اس حوالے سے سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آگئی ہیں۔راولپنڈی (یواین پی) آپریشن غضب للحق کے دوران پاک فوج کی جانب سے 50 مختلف مقامات پر کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق جاری ہے جہاں پاک افغان سرحد پر افغان طالبان،فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کی موثرکارروائیاں جاری ہیں، پاک فوج کی جانب سے 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کارروائیاں کی گئیں، جن میں پاک فوج نے50 مختلف مقامات پر افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر تباہ کردیا۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سمیت چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر پر مؤثر کارروائیاں کیں، ان مقامات کو سرحد پار سے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔




