کالمز

5 جنوری حق خود ارادیت۔۔۔۔

از سردار عتیق احمد خان صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر

حقِ خود ارادیت سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی قوم کو یہ مکمل اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی مستقبل کا فیصلہ خود کرے۔ ہرسال 5 جنوری حقِ خود ارادیت کے طور پر منایا جاتا ہے، جو اس عہد کی یاد دہانی ہے کہ کشمیری قوم کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔
مسئلہ کشمیر برصغیر کے قدیم اور پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہے۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد کشمیر ایک متنازعہ خطہ بن گیا۔ اقوامِ متحدہ نے اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے مختلف قراردادیں منظور کیں جن میں واضح طور پر کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا، مگر بدقسمتی سے آج تک ان قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔یاد رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ یہی مسئلہ کشمیر یے۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے اور جب تک یہ بہتر نہ ہوں اس خطے پر نہ صرف جنگ بلکہ ایٹمی جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔ درمیانی مدت میں اس مسئلے کو ایک طرف رکھ کر تجارت، سفارتکاری اور عوامی رابطوں جیسے (People to People contact) جیسی کئی کوششیں کسی طرح بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کھیچاو اور تناو بڑھتا ہی چلا گیا۔
کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جموں وکشمیر کے عوام نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا جسکے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ انسان موت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور ہزاروں بے گناہ مرد و زن جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔کشمیر میں ہندوستان کی فوج کی موجودگی آبادی اور رقبے کے تناسب سے دنیا میں کہیں بھی سب سے بڑی تعداد میں موجود ہے۔ اور ظاہر ہے اس فوج نے وہاں دہشت اور بربریت کا ایک نیا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں۔ کسی مرد وزن کی عزت آبرو جان مال محفوظ نہیں ہے اور دنیا کے کسی بھی عالمی ادارے کو ان علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ کشمیر عملا ایک جیل کی صورت اختیار کرچکا ہے۔
مسئلہ کشمیر چونکہ آزادی پاک و ہند کے اصولوں سے جڑا ہوا ہے جنکی بنیاد 3جون کا معروف منصوبہ اور سہ فریقی مذاکرات ہیں۔ مسئلہ کشمیر درحقیقت اسی آزادی کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ اس پر اقوام متحدہ کئی بار اپنی پوزیشن واضح کر چکا ہے۔ خاص طور پر تین قراردادوں کا حوالہ اس مسئلے کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ 5 جنوری کا دن اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ کشمیری عوام اپنی پرامن اور جائز جدوجہد جاری رکھیں گے۔یہ دن عالمی برادری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی قوم کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ناانصافی ہے۔ حقِ خود ارادیت نہ صرف اقوامِ متحدہ کے منشور کا حصہ ہے بلکہ انسانی وقار اور آزادی کا بنیادی اصول بھی ہے۔
5 جنوری ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف، امن اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس ضمن میں سلامتی کونسل کی پہلی قرارداد کا متعلقہ خلاصہ درج ذیل یے۔
21 April 1948:
“Noting with satisfaction that both India and Pakistan desire that the question of the accession of Jammu and Kashmir to India or Pakistan should be decided through the democratic method of a free and impartial plebiscite.”
اسی کے تسلسل میں ہونے والے 13اگست 1948 کی دوسری قرارداد کا خلاصہ کارئین کی نظر ہے۔
13 august 1948:
“The Government of India and the Government of Pakistan reaffirm their wish that the future status of the State of Jammu and Kashmir shall be determined in accordance with the will of the people.”
دوسرا اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ 3جون 1947 کے لارڈ موونٹ بیٹن کے آزادی ہند کے فارمولے کی روح اور اس وقت کی سواد اعظم جماعت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی 19جولائی 1947 کی قرارداد الحاق پاکستان کے مطالبے سے مطابقت نہ رکھنے کی بناء پر اس میں چند ضروری اور بنیادی ترامیم کی ضرورت پیش آئی۔انہی دو قراردادوں نے جنوری 1949 کی قرارداد کو بنیاد فراہم کی۔
ان پہلی دو قراردادوں میں بطور اصول رائے شماری کی بات ضرور کی گئی تھی لیکن ان میں رائے شماری کی واضح ضمانت، عملی طریقہ کار اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری کا تعین نہیں تھا۔ پہلی دو قراردادوں نے جنوری 1949 کی قرارداد کو بنیاد فراہم کی جسکے مطابق اقوام متحدہ کا کردار بطور نگران، ثالث کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ جنوری 49 کی قرارداد کا متعلقہ خلاصہ درج ذیل یے۔
January 1949: 5
Document no 5/1196.
“The question of the accession of the State of Jammu and Kashmir to India or Pakistan will be decided through the democratic method of a free and impartial plebiscite.
جنوری کی اس قرارداد میں رائے شماری کے طریقہ کار کے علاوہ مہاجرین کی واپسی، سیاسی آزادی کی ضمانت اورعسکری اور نیم عسکری اثرات کے خاتمے سمیت دیگر انتظامی ڈھانچے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جس سے تنازعہ کشمیر کی بین الاقوامی حقیقت کو پوری طرح تسلیم کیا گیا یے۔
ان وجوہات کی بنیاد پر 5جنوری کا دن ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ میں نہایت اہم اور فیصلہ تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی روز اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاک و ہند(UNCIP) نے تنازعہ کشمیر اور خطے میں پیدا ہونے والی سیاسی اور عسکری کشیدگی کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھ کر ایک ایسی اہم قرارداد منظور کی جس نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو بین الاقوامی طور پر باضابطہ تسلیم کیا۔ جس کے تحت ریاست میں سیز فائز کی توسیع، مرحلہ وار فوجی انخلاء، امن و امان کی بحالی اور غیر جانبدار سیاسی ماحول کی فراہمی کو بنیادی شرائط قرار دیا تاکہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کرائی جاسکے۔ اس مجوزہ رائے شماری کا مقصد یہ تھا کہ ریاست کے عوام اپنی مرضی سے فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے کس ملک سے الحاق چاہتے ہیں۔ 5جنوری نہ صرف مسئلہ کشمیر کی قانونی، تاریخی اور سفارتی بنیاد کی یاد دلاتا ہے بلکہ یہ عالمی برادری کی اس اخلاقی اور ذمہ دارانہ کمٹمنٹ کی بھی یاددہانی ہے جو آج تک مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہیں کرسکی۔ اس لئے یہ دن نہ صرف تجدید عہد حق خود ارادیت کے طور پر منایا جاتا ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لاکھوں شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع بھی ہے اور اس عزم کا بھرپور اعادہ بھی ہے کہ جس کے نتیجے میں جدوجہد آزادی کے ثمرات جموں وکشمیر کی سرزمین کو مکمل آزادی کی صورت میں سامنے آسکیں اور برصغیر پاک و ہند کی آزادی کا نامکمل منصوبہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکے۔

Related Articles

Back to top button