کالمز

شہید ذوالفقار علی بھٹو، ایک کرشماتی شخصیت

سید عزادار حسین کاظمی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پیپلز پارٹی آزادجموں و کشمیر

شہید ذوالفقار علی بھٹو برصغیر کی سیاسی تاریخ کا وہ درخشاں نام ہیں جنہوں نے سیاست کو محض اقتدار کی جنگ کے بجائے عوامی جدوجہد، نظریے اور شعور کی علامت بنایا۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد تھے، ایک سوچ تھے اور ایک تحریک تھے جس نے پاکستان کے محروم طبقات کو زبان، حوصلہ اور شناخت دی۔ بھٹو شہید کی شخصیت میں جو کرشمہ تھا، وہ محض خطابت یا ذہانت تک محدود نہ تھا بلکہ ان کے نظریات، فیصلوں اور عوام سے تعلق میں جھلکتا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ کے ایک معزز سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے میدان میں ان کی کامیابیاں غیر معمولی تھیں۔ برکلے یونیورسٹی اور آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بھٹو، ذہانت، خود اعتمادی اور عالمی سیاست کی گہری سمجھ رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کم عمری میں ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معمار بن کر ابھرے۔
بطور وزیرِ خارجہ، بھٹو نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک جرات مند اور خوددار ریاست کے طور پر متعارف کرایا۔ اقوام متحدہ میں ان کی تاریخی تقاریر آج بھی سیاسی بصیرت اور قومی غیرت کی مثال سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان کسی کی کٹھ پتلی نہیں بلکہ ایک خودمختار ریاست ہے جو اپنے مفادات کا دفاع کرنا جانتی ہے۔
1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام بھٹو شہید کا وہ انقلابی قدم تھا جس نے ملکی سیاست کا رخ بدل دیا۔“روٹی، کپڑا اور مکان”کا نعرہ محض ایک سیاسی جملہ نہیں تھا بلکہ غریب، مزدور اور کسان کے خوابوں کی ترجمانی تھا۔ بھٹو نے پہلی بار اشرافیہ کے مقابلے میں عام آدمی کو سیاسی طاقت کا سرچشمہ قرار دیا۔
1971 کے بعد جب پاکستان تاریخ کے بدترین سانحے سے دوچار تھا، بھٹو نے بطور صدر اور بعد ازاں وزیرِ اعظم، بکھرے ہوئے ملک کو سنبھالا۔ 1973 کا متفقہ آئین، اسلامی سربراہی کانفرنس، ایٹمی پروگرام کی بنیاد، صنعتوں کی نیشنلائزیشن، مزدوروں اور کسانوں کے حقوق، یہ سب وہ کارنامے ہیں جنہوں نے بھٹو کو ایک عام سیاست دان سے تاریخ ساز رہنما بنا دیا۔بھٹو شہید کی سب سے بڑی خوبی ان کا عوام سے براہِ راست تعلق تھا۔ وہ جلسوں میں عوام کے دل کی بات کہتے تھے، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے تھے۔ ان کی خطابت میں سچائی، درد اور یقین کی وہ طاقت تھی جو سننے والوں کو مسحور کر دیتی تھی۔ یہی ان کا کرشمہ تھا۔
تاہم، بھٹو کا یہ کرشمہ طاقتور حلقوں کو گوارا نہ تھا۔ ایک خوددار، عوامی اور نظریاتی رہنما اس نظام کے لیے خطرہ بن چکا تھا جو عوام کو بااختیار نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ نتیجتاً، ایک متنازع عدالتی فیصلے کے ذریعے 4 اپریل 1979 کو بھٹو شہید کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔یہ پھانسی دراصل ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک نظریے اور ایک عوامی خواب کو ختم کرنے کی کوشش تھی۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ نظریات کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔ بھٹو شہید آج بھی زندہ ہیں، اپنے نظریے میں، اپنی جماعت میں، اور عوام کے دلوں میں۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کو وقار، خودداری اور عوامی طاقت کا مفہوم دیا۔ وہ کرشماتی اس لیے تھے کہ وہ خوف سے آزاد تھے، سمجھوتے سے انکاری تھے اور عوام پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دہائیاں گزرنے کے باوجود بھٹو کا نام آج بھی پاکستان کی سیاست میں گونجتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ
بھٹو کو مارا جا سکتا تھا، مگر بھٹو ازم کو نہیں۔
وہ ایک شخصیت نہیں، ایک تاریخ ہیں — اور تاریخ کبھی مرتی نہیں۔آج کا دن صرف سالگرہ نہیں، بلکہ ایک عہد بھی ہے کہ ہم بھٹو کے نظریات،جمہوریت، عوامی مساوات اور خودمختاری کو یاد رکھیں اور ملک کو وہ پاکستان بنائیں جس کے لئے انہوں نے اپنی ساری زندگی وقف کی۔

Related Articles

Back to top button