
علیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہی تعلیم ایک فرد کو اچھا انسان، ذمہ دار شہری اور مفید رکنِ معاشرہ بناتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کا تعلیمی نظام اس وقت کئی مسائل اور تحفظات کا شکار ہے، جن کی وجہ سے تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے اور طلبہ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر نکھارنے سے قاصر ہیں۔ اگر ہم ایک مضبوط اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ معیاری تعلیم کی کمی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، سہولیات کا فقدان اور پرانا نصاب تعلیم کے معیار کو کمزور بنا رہا ہے۔ دوسری طرف نجی ادارے مہنگی فیسوں کی وجہ سے ہر طالب علم کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس فرق نے معاشرے میں تعلیمی ناہمواری کو جنم دیا ہے۔ایک اور اہم تحفظ رٹا سسٹم ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کے بجائے صرف یاد کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ امتحانات میں نمبر حاصل کرنا ہی کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے، جبکہ عملی زندگی کے لیے ضروری مہارتیں نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ نتیجتاً ڈگری یافتہ نوجوان عملی میدان میں خود کو ناکام محسوس کرتے ہیں۔اساتذہ کی تربیت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ کئی اساتذہ جدید تدریسی طریقوں سے ناواقف ہیں اور پرانے انداز میں پڑھانے پر مجبور ہیں۔ اس سے طلبہ کی دلچسپی کم ہوتی ہے اور تعلیم بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایک اچھا استاد ہی ایک اچھے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھتا ہے۔دیہی علاقوں میں تعلیم کی صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ وہاں اسکولوں کی کمی، طویل فاصلے، غربت اور والدین کی عدم دلچسپی بچوں کو تعلیم سے دور کر دیتی ہے۔ خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ان تمام تحفظات کے حل کے لیے سب سے پہلے نصابِ تعلیم میں اصلاحات ضروری ہیں۔ نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے تاکہ طلبہ میں تخلیقی سوچ، تحقیق اور عملی صلاحیتیں پیدا ہوں۔ رٹا سسٹم کے بجائے فہم اور تجزیے پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔اساتذہ کی باقاعدہ تربیت کا اہتمام کیا جائے اور انہیں جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ دلجمعی سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات بہتر بنائی جائیں، کلاس رومز، لائبریریاں اور لیبارٹریز فراہم کی جائیں۔ دیہی علاقوں میں نئے اسکول قائم کیے جائیں اور والدین میں تعلیم کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے، خاص طور پر بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ ہمارے تعلیمی نظام میں کئی خامیاں موجود ہیں، مگر درست منصوبہ بندی، خلوصِ نیت اور مشترکہ کوششوں سے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام ہی ہمارے ملک کو ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا۔




