کالمزمظفرآباد

صحافتی رفاقت، احترام اور ایک یادگار عشائیہ

صحافتی برادری میں بعض تقریبات محض رسمی دعوت نہیں ہوتیں بلکہ وہ باہمی احترام، ادارہ جاتی تسلسل اور رفاقت کے جذبے کی عکاس بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک بامقصد اور یادگار تقریب سٹی پریس کلب اوکاڑہ کے عہدیداران، سابق عہدیداران اور ممبران کی شرکت سے منعقد ہوئی، جس نے نہ صرف صحافتی حلقوں میں خوشگوار تاثر چھوڑا بلکہ اتحاد اور ہم آہنگی کے جذبے کو بھی تقویت دی۔یہ عشائیہ سابق صدر سٹی پریس کلب اور کالم نگار محمد مظہر رشید چودھری کے دفتر میں منعقد کیا گیا۔ جنوری کی سردی کے باوجود مہمانوں کی آمد نے تقریب کو ایک خاص وقار اور تازگی بخشی۔ سرد موسم میں صحافی دوستوں کی شرکت اس بات کی واضح دلیل تھی کہ ادارہ جاتی وابستگی اور باہمی احترام محض رسمی تقاضے نہیں بلکہ وہ اقدار ہیں جو ہر حال میں زندہ رہتی ہیں۔ یہی جذبہ اس تقریب کو ایک سادہ دعوت کے بجائے ایک بامقصد اور یادگار نشست میں تبدیل کر گیا۔اس عشائیے میں سٹی پریس کلب اوکاڑہ(رجسٹرڈ) اور ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان سے وابستہ نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ جنرل سیکرٹری ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان عابد حسین مغل، چیئرمین سٹی پریس کلب عمر فاروق چودھری، صدر سٹی پریس کلب اوکاڑہ عباس علی جٹ، سینئر نائب صدر شکیل احمد عاصم، نائب صدر اے ڈی صابر، جنرل سیکرٹری محسن محمود چودھری، جوائنٹ سیکرٹری محمد منشا نوید، انفارمیشن سیکرٹری رانا آصف جبار، فنانس سیکرٹری حسنین نثار کی موجودگی نے تقریب کو بھرپور نمائندگی فراہم کی۔ اس کے علاوہ سابق جنرل سیکرٹری اعجاز انجم کھوکھر، سابق صدر ساجد علی مہر، سابق جنرل سیکرٹری رانا عبداللہ سرور،سابق جنرل سیکرٹری راؤ غلام قادر ممبران سٹی پریس کلب عقیل مظفر، شہباز رزاق اور دیگر صحافیوں کی شرکت نے محفل کو مکمل صحافتی اجتماع کا رنگ دے دیا۔تقریب کی میزبانی محمد مظہر رشید چودھری نے کی، جنہوں نے نہایت سادہ مگر باوقار انداز میں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے عشائیے کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے کیا، جس کے بعد حضرت محمد ﷺ پر درود و سلام پیش کیا گیا۔ اس روحانی آغاز نے محفل کے ماحول کو سنجیدگی، سکون اور وقار سے ہمکنار کیا، جو کسی بھی بامقصد اجتماع کے لیے ایک مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔میزبان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب موجودہ اور سابقہ صدور، جنرل سیکرٹریز اور دیگر عہدیداران کے اعزاز میں منعقد کی گئی ہے، جنہوں نے مختلف ادوار میں سٹی پریس کلب اوکاڑہ کو فعال، مضبوط اور مؤثر ادارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادارے افراد کے تعاون، برداشت اور تسلسل سے مضبوط ہوتے ہیں، اور اگر ماضی اور حال کے درمیان احترام کا رشتہ قائم رہے تو ادارے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صحافت محض خبر کی اشاعت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ذمہ داری، ایک امانت اور عوام کے اعتماد کا معاملہ ہے۔ صحافیوں کو نہ صرف اپنے قلم کی حرمت کا خیال رکھنا چاہیے بلکہ ادارہ جاتی اتحاد اور باہمی احترام کو بھی مقدم رکھنا چاہیے۔ ایسے اجتماعات اسی سوچ کو فروغ دیتے ہیں اور صحافتی برادری کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔تقریب کے آغاز میں تمام مہمانوں کو خوبصورت گلدستے پیش کیے گئے اور پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا گیا۔ محفل کے دوران ماحول نہایت خوشگوار اور سنجیدہ رہا۔ صحافتی زندگی کے تجربات، تنظیمی امور، ماضی کی یادیں اور مستقبل کے حوالے سے خیالات کا تبادلہ ہوتا رہا، جس سے یہ نشست محض رسمی گفتگو تک محدود نہ رہی بلکہ فکری مکالمے کی صورت اختیار کر گئی۔بعد ازاں پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا، جس میں تمام مہمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر صدر سٹی پریس کلب عباس علی جٹ، جنرل سیکرٹری محسن محمود چودھری، سابق صدرساجد علی مہر، سابق جنرل سیکرٹری راؤ غلام قادر اور بالخصوص ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان کے جنرل سیکرٹری عابد حسین مغل نے میزبان محمد مظہر رشید چودھری کا شکریہ ادا کیا اور سٹی پریس کلب اوکاڑہ کے لیے ان کی صحافتی اور تنظیمی خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد ہی اداروں کی اصل طاقت ہوتے ہیں جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی سوچ رکھتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر یادگاری تصاویر بنائی گئیں، جو اس خوبصورت اور بامقصد عشائیے کی یادوں کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنیں۔ مجموعی طور پر یہ شام اس حقیقت کی عکاس تھی کہ اگر نیت صاف، مقصد مشترک اور سوچ مثبت ہو تو صحافتی ادارے محض تنظیمیں نہیں رہتے بلکہ ایک خاندان کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ سٹی پریس کلب اوکاڑہ کی یہ نشست یقیناً دیر تک یاد رکھی جائے گی اور صحافتی اتحاد کے حوالے سے ایک مثبت مثال بن کر سامنے آئے گی٭

Related Articles

Back to top button