بھارتی مظالم کشمیریوں کو حق خودارادیت کی جدوجہد روکنے پر مجبور نہیں کر سکتے‘سردار عتیق

راولپنڈی(محاسب نیوز)صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے مقبوضہ وادی میں ہندوستانی فورسز کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستان کے مظالم میں روز بہ روز اضافہ کر کے مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرنے میں مصروف ہے، ہندوستانی فوج کے کالے قوانین کے تحت آئے روز نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ، املاک کی ضبطی اس کی عکاسی کر رہی ہے، بھارتی مظالم کشمیریوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کیلئے منصفانہ جدوجہد ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے، ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعظم و صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے سیکرٹری جنرل وسابق ڈپٹی سپیکر محترمہ مہر النساء کی جانب سے پارٹی رہنماؤں کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے کے موقع پر گفت گو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر حریت رہنما سید یوسف نسیم ایڈووکیٹ، معروف قانون دان سردار عبدالرازق خان ایڈوکیٹ، میجر سردار نصراللہ خان، عابد افضل بٹ، سردار عابد رزاق، عاصم زاہد عباسی اور ڈاکٹر عابد عباسی بھی موجود تھے، انہوں نے کہا کہ ہندوتوا حکومت کی طرف سے خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں جو تشویش کا باعث ہیں، سردارعتیق احمد خان کاکہنا تھا کہ ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کو جنگی جنون اورطاقت کے نشے کی عکاسی کرتا ہے،جو علاقائی امن کے لیے خطرناک ہے، مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کیلئے ٹرمپ پیس فورم طرز پر پیس فورم تشکیل دیا جائے جو وقت کی ناگزیر ضرورت ہے، ہندوستانی فورسز لاکھوں کی کشمیریوں کی نسل کشی کے باوجود کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو سرد نہیں کر سکا، انہوں نے تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کو روکا جا ئے۔ بھارتی مظالم کشمیریوں کو اپنی منصفانہ جدوجہد ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔




