کالمز

انجینئر افتخار حسین میر کون؟

سرکتا جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آرہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
زندگی بدلنے اور آسان بنانے کے لئے سمجھنا ضروری ہے، وقت آپ کا ہے، چاہو تو سونا بنا لیں اور چاہو تو سونے میں گزاردیں، اگر کچھ الگ کرنا ہے تو بھیڑ سے ہٹ کر چلیں، بھیڑ ہمت تو دیتی ہے،شناخت چھین لیتی ہے، منزل ملنے تک ہمت مت ہاریں، اور نہ ہی ٹھہریں کیونکہ پہاڑ سے نکلنے والی نہروں نے آج تک راستے میں کسی سے نہیں پوچھاکہ سمندر کتنی دور ہے، خود کو مرجھانے مت دیں۔بے حسی کہہ لیں یا نا قدری انسان نے ہمیشہ اپنے خیر خواہ کو دیر سے پہچانا ہے، آزاد کشمیر کی زرخیرمٹی میں سونا ہے، یہ کہیں معدنیات کی صورت میں، کہیں پانی کی صورت میں اور کہیں ذہین افراد کی صورت میں، ذہین افراد اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر دنیا بھر میں نام اور مقام پیدا کر کے اپنے علاقے کی شناخت کا باعث بن رہے ہیں، ایسی گمنام ہستیوں میں ایک نام انجینئر افتخار حسین میر کا بھی ہے، انجینئر افتخار حسین میر کا تعلق حلقہ لچھراٹ کے موضع پرلہ یونین کونسل پنجگراں تحصیل نصیرآباد ضلع مظفرآباد سے ہے، ان کے پردادا میر نوازش علی حلقہ لچھراٹ کے بڑے زیلدار تھے، معاشی طور پر خوشحال خاندان میں آنکھ کھولنے والے اس نوجوان نے ابتدائی تعلیم آبائی علاقہ میں واقع ہائی سکول پنجگراں سے حاصل کی، گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد سے ایف ایس سی کے بعد نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد سے کمپیوٹرسائنسز میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، اپنے علاقے کے پہلے سافٹ ویئر انجینئر بنے، پیشہ وارانہ اہلیت، صلاحیت ومزید بہتر بنانے کیلئے امریکہ اور برطانیہ کے مختلف اداروں سے پراجیکٹ منیجمنٹ سے متعلق کورسزپر مشتمل ڈپلومے حاصل کیے، ابوظہبی سے پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کیا اور پرائیویٹ سیکٹر میں سافٹ ویئر انجینئر کے طورپر آئی ٹی کے شعبہ میں خدمات کا آغاز کیا، 8 سال تک ابوظہبی میں خدمات سرانجام دینے کے بعد آسٹریلیا کے شہر سڈنی منتقل ہوئے جہاں 7 سال تک آئی ٹی کے شعبہ میں مصروف عمل رہے، 2025ء میں واپس آئے، سافٹ ویئر کے ساتھ ساتھ دنیا کی سیاحت ان کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا، دنیا دیکھنے کے بعد اپنی صلاحیتوں کو اپنے عوام اور علاقے کیلئے مختص کرنے کی خواہش اور عزم کے ساتھ دارالحکومت مظفرآباد میں براجمان ہو چکے ہیں، ان کی معلومات، مشاہدہ بہت گہرا اور وسیع ہے، پختہ تجربات کی بنیاد پر یہ اپنے علاقے کی تقدیر بدلنے کے عزم سے سرشار ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر باوسائل خطہ ہے جہاں دنیا کی ہر نعمت موجود ہونے کے باوجود عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جو بنیادی طور پر نظم و ضبط، شعور، تعلیم اور تحریک کی کمی کا نتیجہ ہے، یہ اپنے علاقہ کی بہتری کیلئے ایک جامع اور وسیع پروگرام کے ساتھ مصروف عمل ہونا چاہتے ہیں، آئی ٹی کے شعبہ میں ان کی صلاحیت آزادکشمیر کے نوجوانوں کیلئے اُمید کی نئی کرن کے طور پر موثر کردار ادا کر سکتی ہے، آزادکشمیرمیں بہتری کیلئے صرف مخلص قیادت اور درست سمت میں رہنمائی وقت کی ضرورت ہے۔انجینئر افتخار حسین میر کے جذبات قابل احترام ہیں، یہ طویل عرصہ باہر رہنے کی وجہ سے کھلے ذہن اور مثبت سوچ کے ساتھ کچھ کرنا چاہتے ہیں، ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ ہم نہ تو قوم ہیں اور نہ ہی کوئی مثالی معاشرہ ہیں، ہماری مثال ریوڑ کی سی ہے،عملی قدم اٹھانے سے پہلے یاد رکھنے کیلئے کچھ باتیں ضرور ی ہیں، بزرگوں کے مطابق ریوڑ کے پاس عقل، تعلیم اور شعور کی شدید کمی ہوتی ہے، ان کے نزدیک صرف کھانا پینا اور اچھلنا کودنا ہی زندگی کا بنیادی اہم ترین، پہلا اور آخری مقصد ہوتا ہے، چرواہا جو ریوڑ کا ذہن اور آزادی سلب کرکے بنیادی ضروریات مہیا کرتا ہے تو پھر چرواہے کا ہرغلط حکم، ہر ظلم، ہر برا کام بھی یہ ریوڑ اپنی سر آنکھوں پر سجاتا ہے، پورے ریوڑ میں سے کسی ایک میں بھی اتنی جرات نہیں ہوتی کہ گڈریے کو اس کی برائیوں پر روک ٹوک کر سکے یا ان گڈریوں کے خلاف کوئی پالیسی تخلیق کرسکیں، اپنے ذاتی مشاہدے کے مطابق شروع سے ہی ریوڑ میں ایسی تخلیقی صلاحیتیں پیدا ہونے ہی نہیں دی جاتیں کیونکہ یہ غلامی کی بقا کے خلاف ہے، چنانچہ ذلت سے معمور غلامی بھرے احکامات ماننے اور بدترین زندگی گزارنے کے علاوہ ریوڑ کو کہیں اوراپنی بقا کا سامان نظر نہیں آتا،ریوڑ کو لاکھ سمجھالیں کہ وہ بدترین قید میں پڑے ہوئے ہیں اور غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں،آزاد کشمیر کی صورتحال بھی اس ریوڑ جیسی ہے جسے جگانے کیلئے لچھراٹ پنجگراں سے انجینئر افتخار میر کی صورت اٹھنے والی آواز انہیں پکار رہی ہے کہ خدا نے آپ کو آزاد پیدا کیا ہے اور آپ چند مفادات کے حصول کی خاطر چرواہوں کی ذلت بھری قید میں پڑے ہوئے ہیں، عزت خودداری اور آزادی کو بیچ چکے ہیں، پوری زندگی غلامی کی نذر کر چکے ہیں، لوگ اس آواز کی طرف متوجہ ہونا چاہتے ہیں اور چوکنا ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا تعلق محروم اور پسماندہ علاقہ سے ہے، جس کی بنیادی وجہ علاقہ میں علم،تعلیم اور شعور کی شدید کمی کا ہونا ہے، خدشہ ہے کہ یہ اپنی محرومیوں پر غور کرنے کے بجائے الٹا یہ ایک آزاد ذہن کے ساتھ الجھنا نہ شروع ہو جائیں،اور دوسرے غلاموں کی مثالیں پیش کریں کہ باقی بھی ایسے ہی زندگی گزار رہے ہیں، لاکھوں کروڑوں لوگ محرومی اور پسماندگی کے ساتھ ہی جی رہے ہیں، انہیں اپنی کمزور حالت کا ذرا بھی اندازہ نہیں ہے کیونکہ جس ذہن نے انھیں عزت احترام سے مزین آزادی کی حسین زندگی دلوانا تھی، وہ ذہن تو مفلوج ہوچکا، اور جو عضو ایک بار مفلوج ہوچکا ہو اسے کبھی بھی دوبارہ پہلے جیسا صحت مند نہیں کیا جاسکتا، خود غرض قیادت بلا مقصد ہی انہیں اگر آگ میں کود جانے کو کہے گی تو ہر ایک بغیر سوچے سمجھے ہی فوراً کود جائے گا، لہٰذاان کے مفلوج ذہن کو درست کرنے کیلئے کچھ قربانیوں اور محنت کی ضرورت ہے، یہ سوائے زنجیروں کا تقدس اور فضیلت بیان کرنے کے اور کچھ نہیں بول سکتے، انجینئر افتخار حسین میر کے مطابق آزادکشمیر کے مسائل کا حل سروسز ڈھانچے کی بہتری میں ہے، نظام کو درست سمت گامزن کرنے کیلئے شفافیت اور انصاف بنیادی ضرورت ہیں، آج کے دور میں ہنر اور رویے ترقی کی بنیادی ضمانت قرار دیئے جاتے ہیں، نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچانے کیلئے انہیں مصروف رکھنے کی ضرورت ہے، خواتین اور بچے ہمارے معاشرے کا نظر انداز طبقہ ہیں، ان کے حقوق اور مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، انجینئر افتخار حسین میر کے عزائم یقینا خلوص نیت پر مبنی ہیں لیکن ان کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں، ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان صرف علاقہ نہیں بلکہ پوری قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں، آئیے سب مل کر انجینئر افتخار حسین میر کے ہاتھ مضبوط کریں جو اس خطہ کی پسماندگی ختم کرنے کیلئے اپنی آسائش زدہ زندگی ترک کرکے سنگ لاخ چٹانوں میں لہو لہان ہونے کیلئے میدان عمل میں اُتر چکے ہیں، ان کی کامیابی کیلئے صرف دعا نہیں دوا کی بھی ضرورت ہے، اگر سب لوگ ان کی سوچ و فکر کے مطابق ان کا دست بازو بن سکیں تو اس خطے کے مسائل کا حل دور نہیں۔
جذبِہ شوق سلامت ہے تو ان شاء اللہ
کچے دھاگے سے چلیں آئیں گے سرکار بندھے

Related Articles

Back to top button