مظفرآباد

مظفرآباد میں فوری طور پر چھوٹے اور بڑے گوشت کے منصفانہ اور قابلِ عمل سرکاری نرخ جاری کیے جائیں، عوام کا مطالبہ

مظفرآباد (محاسب نیوز) مظفرآباد میں فوری طور پر چھوٹے اور بڑے گوشت کے منصفانہ اور قابلِ عمل سرکاری نرخ جاری کیے جائیں اور ریاستی دارالحکومت میں جدید سلاٹر ہاؤس اور مویشی منڈی کا قیام عمل میں لایا جائے۔مٹن اینڈ بیف ایسوسی ایشن مظفرآباد نے حالیہ انتظامی کارروائیوں، سرکاری نرخ نامے میں تاخیر اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے صدر مٹن اینڈ بیف ایسوسی ایشن مظفرآباد محمد حفیظ میر، جنرل سیکرٹری سید یاسر بخاری، سینئر نائب صدر سردار شکیل اور سیکرٹری مالیات راجہ صابر ترک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مظفرآباد میں نہ تو جانوروں کی کوئی سرکاری منڈی موجود ہے اور نہ ہی جدید تقاضوں کے مطابق کوئی سلاٹر ہاؤس قائم ہے، جس کے باعث قصاب برادری کو جانور خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع، بالخصوص مانسہرہ، راولپنڈی، سرائے عالمگیر اور گوجرانوالہ سے خرید کر لانا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منڈی سے لے کر مظفرآباد تک جانوروں کی ترسیل پر ٹرانسپورٹ، مختلف سرکاری فیسوں، چیک پوسٹوں پر جرمانوں اور دیگر اضافی اخراجات کی مد میں بھاری رقم خرچ ہوتی ہے، جس سے مجموعی لاگت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ایسوسی ایشن عہدیداران نے کہا کہ اس کے باوجود مظفرآباد میں گوشت کے سرکاری نرخ دیگر شہروں کے مقابلے میں انتہائی کم مقرر کیے جا رہے ہیں، جو کسی بھی صورت کاروباری طور پر قابلِ عمل نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں مٹن کا سرکاری ریٹ تقریباً 1800 روپے فی کلو ہے، جبکہ مظفرآباد میں 1600 روپے فی کلو ریٹ نافذ کیا گیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب جانور مہنگے داموں خرید کر، بھاری اخراجات کے ساتھ شہر تک پہنچائے جاتے ہیں تو اس فرق کو پورا کرنا ممکن نہیں رہتا۔ مظفرآباد کی روزمرہ ضرورت پوری کرنے کے لیے ایسوسی ایشن سے وابستہ تاجر مسلسل مانسہرہ، راولپنڈی، سرائے عالمگیر اور گوجرانوالہ کا رخ کرتے ہیں، جہاں سے جانور خرید کر لائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راستوں میں مختلف مقامات پر ٹیکس، جرمانے اور دیگر وصولیاں معمول بن چکی ہیں جبکہ مقامی سطح پر بھی مختلف فیسیں اور چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سمیت متعلقہ حکام کو باقاعدہ تحریری درخواستیں دی جا رہی ہیں کہ مظفرآباد میں چھوٹے اور بڑے گوشت کے نرخ زمینی حقائق کے مطابق مقرر کیے جائیں، تاہم ہر مرتبہ صرف زبانی یقین دہانیاں کروائی گئیں اور عملی طور پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ انہوں نے کہا کہ اب انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح جواب دیا جا رہا ہے کہ رمضان المبارک کی وجہ سے فی الحال نیا ریٹ جاری نہیں کیا جا سکتا، جس سے قصاب برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے اس تاثر کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ قصاب ناجائز منافع خوری میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظفرآباد کے قصاب مسلمان ہیں، حلال و حرام کی مکمل تمیز رکھتے ہیں اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عوام کو صاف، معیاری اور محفوظ گوشت فراہم کرنا ان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، مگر موجودہ حالات میں ایک منظم انداز سے کاروبار کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2005 کے زلزلے کے بعد آج تک مظفرآباد میں جدید اور معیاری سلاٹر ہاؤس قائم نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث نہ صرف صفائی اور حفظانِ صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں بلکہ گوشت کی تیاری اور ترسیل کے عمل کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی طرح مویشی منڈی نہ ہونے کے باعث جانوروں کی مقامی دستیابی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ایسوسی ایشن رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق قصاب برادری کے خلاف چلنے والی مہم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک غیر ذمہ دارانہ پوسٹ یا ویڈیو سے نہ صرف کسی فرد بلکہ پورے پیشے کی ساکھ متاثر ہو جاتی ہے اور کئی خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔حالیہ انتظامی آپریشن کے دوران بعض قصابوں کی گرفتاری، جرمانوں اور مقدمات کے اندراج پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قصاب برادری کو مجرموں کی طرح پیش کرنا سراسر ناانصافی ہے، حالانکہ وہ باقاعدگی سے مختلف ٹیکس اور فیسیں ادا کرتے ہیں اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کاروبار کرتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button